محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز

سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان انعام النبی نے یومِ الحاق کے موقع پر جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کی تعریف کرنے پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ان رہنماؤں کی سیاسی میراث کا جشن مناتے ہوئے ان فیصلوں کو نظرانداز نہیں کرسکتیں جنہوں نے جموں و کشمیر کی سیاسی حیثیت اور شناخت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

انعام النبی نے کہا، ’’محبوبہ مفتی صاحبہ کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ کس کانگریس اور کس سیاسی میراث کی تعریف کر رہی ہیں۔ کیا وہ بھول گئی ہیں کہ جواہر لعل نہرو کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں 1953 میں شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کیا گیا تھا؟ یہ کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن باب ہے۔ شیخ عبداللہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کا ذکر کیے بغیر نہرو کی تعریف کرنا تاریخ کو اپنے مطلب کے مطابق پیش کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

انہوں نے اندرا گاندھی کے دور میں جموں و کشمیر کے انتظامی نظام میں آنے والی تبدیلیوں اور مرکز کے بڑھتے ہوئے اختیار پر بھی سوال اٹھائے۔ انعام النبی نے کہا، ’’اندرا گاندھی کی تعریف کرنے سے پہلے محبوبہ مفتی کو جواب دینا چاہیے کہ جموں و کشمیر کی منفرد سیاسی حیثیت کی علامت سمجھے جانے والے اداروں کے ساتھ کیا ہوا؟ صدرِ ریاست کی جگہ مرکز کے مقرر کردہ گورنر اور وزیرِ اعظم کی جگہ وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ لانے پر ان کا کیا موقف ہے؟ اسی دور میں مرکزی انتظامی مشینری کے بڑھتے ہوئے کردار، بشمول آئی اے ایس افسران کی تعیناتی، پر بھی سوال اٹھنا فطری ہے۔ اگر محبوبہ مفتی اندرا گاندھی کی سیاسی میراث کو سراہنا چاہتی ہیں تو انہیں ان تاریخی فیصلوں کا سامنا بھی کرنا ہوگا، نہ کہ انہیں سہولت کے مطابق نظرانداز کرنا ہوگا۔ جموں و کشمیر کے عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ وہ کس میراث کا دفاع کر رہی ہیں اور اس کا ان کی سیاسی شناخت اور خودمختاری پر کیا اثر پڑا۔‘‘

انعام النبی نے اندرا گاندھی سے منسوب اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ گھڑی کی سوئیوں کو پیچھے نہیں موڑا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی بیانات اور فیصلوں کو ان کے اصل تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ انہیں موجودہ سیاسی مفادات کے مطابق منتخب انداز میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس رہنماؤں کے بارے میں محبوبہ مفتی کا اچانک نرم اور تعریفی رویہ انہیں کانگریس کی ترجمان کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ’’وہ کشمیر کے سیاسی مفادات کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے ان رہنماؤں کے تاریخی ریکارڈ کو نظرانداز نہیں کرسکتیں جن کی آج وہ تعریف کر رہی ہیں۔‘‘

انعام النبی نے واضح کیا کہ کانگریس کے ماضی پر سوال اٹھانے کا مطلب بی جے پی کو اس کے اقدامات سے بری الذمہ قرار دینا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بی جے پی بھی اپنے فیصلوں، بالخصوص اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے متعلق کیے گئے اقدامات کے لئے جواب دہ ہے۔ عوامی اتحاد پارٹی نہ کانگریس کے تاریخی ریکارڈ پر پردہ ڈالے گی اور نہ ہی بی جے پی کو جواب دہی سے بچنے دے گی۔ دونوں جماعتوں کو جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنے اپنے فیصلوں اور ان کے نتائج کا جواب دینا ہوگا۔‘‘

انعام النبی نے کہا کہ کشمیر کی تاریخ کو قومی جماعتوں کی سیاسی سہولت کے مطابق نہیں ڈھالا جاسکتا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر محبوبہ مفتی نہرو، اندرا گاندھی اور جموں و کشمیر سے کیے گئے وعدوں کی بات کرنا چاہتی ہیں تو انہیں پوری تاریخ کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمارے عوام کو سیاسی دیانت داری چاہیے، منتخب یادداشت نہیں۔‘‘

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

سردیوں میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کی روک تھام

  فیضان پنجابی درجہ حرارت گرتے ہی گھروں میں حرارت حاصل...

تازہ ترین خبریں

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

سردیوں میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کی روک تھام

  فیضان پنجابی درجہ حرارت گرتے ہی گھروں میں حرارت حاصل...

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز

سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان انعام النبی نے یومِ الحاق کے موقع پر جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کی تعریف کرنے پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ان رہنماؤں کی سیاسی میراث کا جشن مناتے ہوئے ان فیصلوں کو نظرانداز نہیں کرسکتیں جنہوں نے جموں و کشمیر کی سیاسی حیثیت اور شناخت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

انعام النبی نے کہا، ’’محبوبہ مفتی صاحبہ کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ کس کانگریس اور کس سیاسی میراث کی تعریف کر رہی ہیں۔ کیا وہ بھول گئی ہیں کہ جواہر لعل نہرو کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں 1953 میں شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کیا گیا تھا؟ یہ کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن باب ہے۔ شیخ عبداللہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کا ذکر کیے بغیر نہرو کی تعریف کرنا تاریخ کو اپنے مطلب کے مطابق پیش کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

انہوں نے اندرا گاندھی کے دور میں جموں و کشمیر کے انتظامی نظام میں آنے والی تبدیلیوں اور مرکز کے بڑھتے ہوئے اختیار پر بھی سوال اٹھائے۔ انعام النبی نے کہا، ’’اندرا گاندھی کی تعریف کرنے سے پہلے محبوبہ مفتی کو جواب دینا چاہیے کہ جموں و کشمیر کی منفرد سیاسی حیثیت کی علامت سمجھے جانے والے اداروں کے ساتھ کیا ہوا؟ صدرِ ریاست کی جگہ مرکز کے مقرر کردہ گورنر اور وزیرِ اعظم کی جگہ وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ لانے پر ان کا کیا موقف ہے؟ اسی دور میں مرکزی انتظامی مشینری کے بڑھتے ہوئے کردار، بشمول آئی اے ایس افسران کی تعیناتی، پر بھی سوال اٹھنا فطری ہے۔ اگر محبوبہ مفتی اندرا گاندھی کی سیاسی میراث کو سراہنا چاہتی ہیں تو انہیں ان تاریخی فیصلوں کا سامنا بھی کرنا ہوگا، نہ کہ انہیں سہولت کے مطابق نظرانداز کرنا ہوگا۔ جموں و کشمیر کے عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ وہ کس میراث کا دفاع کر رہی ہیں اور اس کا ان کی سیاسی شناخت اور خودمختاری پر کیا اثر پڑا۔‘‘

انعام النبی نے اندرا گاندھی سے منسوب اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ گھڑی کی سوئیوں کو پیچھے نہیں موڑا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی بیانات اور فیصلوں کو ان کے اصل تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ انہیں موجودہ سیاسی مفادات کے مطابق منتخب انداز میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس رہنماؤں کے بارے میں محبوبہ مفتی کا اچانک نرم اور تعریفی رویہ انہیں کانگریس کی ترجمان کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ’’وہ کشمیر کے سیاسی مفادات کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے ان رہنماؤں کے تاریخی ریکارڈ کو نظرانداز نہیں کرسکتیں جن کی آج وہ تعریف کر رہی ہیں۔‘‘

انعام النبی نے واضح کیا کہ کانگریس کے ماضی پر سوال اٹھانے کا مطلب بی جے پی کو اس کے اقدامات سے بری الذمہ قرار دینا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بی جے پی بھی اپنے فیصلوں، بالخصوص اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے متعلق کیے گئے اقدامات کے لئے جواب دہ ہے۔ عوامی اتحاد پارٹی نہ کانگریس کے تاریخی ریکارڈ پر پردہ ڈالے گی اور نہ ہی بی جے پی کو جواب دہی سے بچنے دے گی۔ دونوں جماعتوں کو جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنے اپنے فیصلوں اور ان کے نتائج کا جواب دینا ہوگا۔‘‘

انعام النبی نے کہا کہ کشمیر کی تاریخ کو قومی جماعتوں کی سیاسی سہولت کے مطابق نہیں ڈھالا جاسکتا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر محبوبہ مفتی نہرو، اندرا گاندھی اور جموں و کشمیر سے کیے گئے وعدوں کی بات کرنا چاہتی ہیں تو انہیں پوری تاریخ کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمارے عوام کو سیاسی دیانت داری چاہیے، منتخب یادداشت نہیں۔‘‘

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں