
رشید پروینؔ
سوپور، کشمیر
کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین کا موازنہ کرتے ہوئے یہ بات ابھارنے کی کوشش کی ہے کہ دونوں بہت سارے اوصاف میں مماثلت رکھتے تھے، لیکن بغور جائزے سے واضح ہو جاتا ہے کہ بعض باتوں میں یکسانیت کے باوجود دونوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا اور دونوں کا ظرف اور اخلاقی بنیادیں جداگانہ تھیں، جنہیں مورخین نظر انداز کرتے ہیں۔ دراصل یہ باتیں اس لئے سامنے آئی ہیں کہ زین العابدین نے بغیر کسی بھید بھاؤ، رنگ و نسل اور مذہبی بنیاد پر کبھی اپنی رعایا میں کوئی فرق نہیں کیا اور تمام رعایا کو عدل و انصاف فراہم کیا، جو ایک درویشانہ صفت ہے۔ لیکن اس کے باوجود زین بڈشاہ کی محبت اپنے مذہب سے کم نہیں ہوئی۔ اپنی زندگی کے کسی دور میں وہ نہ تو اپنے مذہب سے دور ہوا اور نہ ہی ان امور میں کبھی اس کی دلچسپی کم ہوئی۔ اس کے برعکس، اکبر نے ’’دین الٰہی‘‘ کو متعارف کرا کے یہ بات واضح کر دی کہ اس کے دل و دماغ میں مذہب بھی ایک سیاسی نوعیت کی چیز ہے، اور یہ بہت بڑا فرق ہے۔
دوسری سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب اکبر کو محسوس ہوا کہ وہ یوسف شاہ چک کی افواج کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس نے انہیں مذاکرات کی دعوت دے کر دربار اکبری میں بلایا۔ یوسف شاہ نے اعتماد کیا اور دربار اکبری میں حاضری دی، جہاں اسے دھوکے اور فریب سے قید کیا گیا۔ کئی درباریوں نے اکبر کو سمجھایا بھی کہ یہ شان اکبری اور شہنشاہوں کی اخلاقیات سے بعید اقدامات ہیں، لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ زین بڈشاہ کی زندگی میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ سو، زین العابدین ان پر اخلاقی برتری کا حامل ہے۔
بہرحال، ہندو رعایا پر شاہانہ مراعات اور خصوصی توجہ دینے کی وجہ شاید ہندو مورخین نہیں سمجھ پائے کہ یہ ایک مومنانہ صفت ہے۔ قرون اولیٰ میں مسلم خلفا نے غیر مسلم رعایا کے ساتھ محبت اور انصاف پروری کے ہزاروں ایسے واقعات کو جنم دیا ہے جن کی نظیر نہ ماضی کی تاریخوں میں ملتی ہے، نہ حال میں اور نہ ہی مستقبل میں ملے گی۔ اس لئے کئی ہندو مورخین نے دلچسپ کہانیاں بنائی ہیں اور لکھی ہیں، جن کی نوعیت افسانوں کے سوا کچھ نہیں۔
اس طرح کی ایک کہانی یہ بیان کی گئی ہے کہ ایک بار سلطان بہت زیادہ بیمار ہوئے اور شاہی طبیب ان کی زندگی کی امید ہی چھوڑ بیٹھے۔ اس دوران ایک شاہی طبیب نے کسی سادھو سنت کی منت سماجت کی۔ ’’جوگی‘‘ سلطان کی زندگی بچانے کے لئے تیار ہوا اور اس نے اپنے کئی شاگردوں اور شاہی طبیب کو سمجھایا کہ سلطان کی موت اٹل ہے، لیکن میں ایسا کر سکتا ہوں کہ جونہی سلطان کی آتما جسم چھوڑے گی، میں اس میں اپنی آتما ڈال دوں گا۔ لیکن تم لوگ میرے جسم کو میرے ٹھکانے پر بڑی حفاظت اور نگہداشت میں رکھو گے تاکہ جب میں اندر سے سلطان کے شریر کو ٹھیک ٹھاک کر لوں تو پھر اپنے شریر میں واپس داخل ہو سکوں۔
ایسا ہی کیا گیا اور اس وجہ سے، چونکہ جوگی کی آتما سلطان کے جسم میں کچھ وقت کے لئے رہی تھی، اس لئے سلطان کو ہندوؤں سے زیادہ رغبت رہی۔ ظاہر ہے کہ اس کہانی کی نوعیت ایک فکشن سے زیادہ نہیں۔
اس طرح کی دوسری کہانی یہ ہے کہ شہزادہ (شاہی خان) ایک بار کشتی میں سیر کر رہا تھا کہ ایک برہمن زادی گھاٹ پر پانی لینے پہنچی۔ شہزادہ پہلی ہی نظر میں تیر نظر کا ایسا گھائل ہوا کہ سدھ بدھ ہی کھو بیٹھا اور اپنی غلیل سے اس کے مٹکے پر پتھر مارا۔ گھڑا ٹوٹ گیا، لیکن پانی سر پر معلق رہا۔ جب وہ نازنین گھر پہنچی تو اس کا خاوند معاملہ سن کر خشم ناک ہوا اور اسی وقت شہزادے کو شراپ دے دیا۔ شہزادہ بیمار ہوا اور قریب المرگ ہو گیا تو بادشاہ کو سارا ماجرا سنایا گیا۔ وہ فوری طور پر برہمن کے گھر گیا، معافی مانگی اور برہمن کے پاؤں پڑا تو برہمن نے اپنا شراپ واپس لے لیا۔ اس طرح شہزادہ شاہی خان، جو زین العابدین کے نام سے تخت پر بیٹھا، صحت یاب ہوا۔
اس کہانی میں لل دید کے واقعے کو پس منظر بنایا گیا ہے، جب اس کے شوہر نے لل کے سر پر موجود پانی کے گھڑے پر پتھر مارا تھا۔ گھڑا ٹوٹ گیا تھا، مگر پانی معلق رہا تھا۔ لل دید کا معاملہ ہی کچھ اور ہے۔
لیکن ان باتوں سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ بت شکن سکندر کے بعد زین العابدین نے غیر مسلموں اور خصوصی طور پر ہندو رعایا کا کتنا خیال رکھا ہوگا۔ بہت ہی سیدھی بات ہے کہ سکندر کے زمانے میں اس کے وزیر سہہ بٹ کی وجہ سے ہندو رعایا نے تکلیفیں بھی اٹھائی تھیں اور بہت سارے لوگ کشمیر سے دوسری جگہوں پر منتقل ہوئے تھے۔ ہندو مورخین نے افسانے تراش لئے ہیں، جو درست نہیں۔ سلطان ہندوؤں کے میلوں اور تیرتھوں پر بنفس نفیس جاتا تھا۔ اس بات کا پورا پورا خیال رکھا جاتا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی ہندو کے ساتھ زیادتی نہ کرے اور کوئی افسر ناانصافی نہ کر پائے۔ اور صرف یہی نہیں، بلکہ سب سے بڑی بات یہ ہے، جو اکبر بادشاہ کی تاریخ میں نہیں ملتی، کہ سلطان نے پنڈت بچوں کو عربی اور فارسی پڑھا کر انہیں اپنی حکومت میں بڑے بڑے عہدے سونپ دیے۔
بہت سارے منادر، جو منہدم کر دیے گئے تھے یا خستہ حالت میں تھے، انہیں پھر سے تعمیر کرایا اور ان کے علاوہ بھی مندروں کی تعمیر میں بھرپور معاونت کی۔ سلطان زین العابدین اپنی زبان کا پکا اور اپنے فیصلوں پر عمل کرنے والا ایک ایسا شخص تھا، جو ہمیں اپنی تاریخوں یا دنیا کی دوسری تاریخوں میں بہت کم ملتا ہے۔
ایک مثال سے اپنی زبان پر قائم رہنے اور اپنے قول پر عمل کرنے کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ راجہ سندر سنیا، جو راجوری کا راجہ تھا، نے اپنی بڑی بیٹی راجیہ دیوی کو سلطان کے پاس بھیجا۔ سلطان اس وقت جھیل ولر کی سیر کر رہا تھا۔ جب اس نے اس ڈولی اور اس کے ساتھ آنے والے ہمراہیوں کو دیکھا تو پوچھا، ’’کس ماتا کی ڈولی ہے؟‘‘ ہمراہیوں نے جب جواب دیا کہ ماجرا یوں ہے اور شہزادی آپ ہی کے لئے بھیجی گئی ہے، تو اس نے بغیر کسی توقف اور اسے دیکھے بغیر ہی کہا کہ ’’چونکہ میں نے اس کے لئے ’ماتا‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، اس لئے ہم اسے اپنی بیوی نہیں بنا سکتے۔‘‘
تاریخوں میں ہے کہ راجیہ دیوی نے خود ہی واپس جانے سے انکار کر دیا اور شاہی محل ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ اس نے اسلام قبول کیا اور سرینگر میں ’’راجوری کدل‘‘، یعنی رازے پل، کی تعمیر کرائی، جو آج بھی اسی نام سے موجود ہے۔ پھر راجہ سندر سنیا نے اپنی دوسری لڑکی سلطان کی خدمت میں بھیجی، جس کا نام سندر دیوی تھا۔ وہ بھی مسلمان ہوئی اور اس کا دوسرا نام سندر ماجی ہوا۔
سلطان زین العابدین طبیعت کا نرم اور نازک مزاج بادشاہ تھا، اس لئے اس کی زندگی میں ہمیں ملک گیری کی ہوس دکھائی نہیں دیتی۔ تاریخ میں بس وہی فوجی مہمات درج ہیں جو کسی مجبوری کے تحت کرنا پڑیں۔ یا تو وہ پانڈو چک کی لوٹ مار اور بغاوت تھی یا اس کے اپنے بیٹوں نے بغاوت اور سلطان کی رٹ کو چیلنج کرنے کے لئے فوجیں تیار کیں۔
وہ ہندی، فارسی، کشمیری اور عربی پر یکساں عبور رکھتا تھا۔ اس نے ایک ہندو شری بٹ کو علم حکمت میں سرفراز کیا اور شاہی اعزاز سے نوازا۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابیں ہندوستان سے منگوا کر انہیں نئے سرے سے جاری کیا، اور ویدوں، شاستروں، پرانوں اور برہمنی کتھا کا فارسی میں، جب کہ فارسی کتابوں کا سنسکرت میں ترجمہ کروا کر ہندوؤں اور مسلمانوں کے دل جیت لئے۔
اس نے بغض، عناد اور حسد کو اپنے ملک سے نابود کیا اور تب سے اب تک اسی ماحول اور بھائی چارے کے اثرات ہمارے سماج پر قائم ہیں۔
کہتے ہیں کہ ایک بار سلطان کے ہاتھ پر پھوڑا نکلا، جو اذیت ناک تھا۔ شری بھٹ نے سلطان کا علاج کیا تو سلطان نے اسے انعام دینا چاہا۔ شری بھٹ نے انعام لینے سے انکار کیا اور اس کے بجائے اپنی قوم کے لئے جزیے کی معافی چاہی۔ اس طرح جزیہ معاف کیا گیا۔ سلطان ہی نے پہلی بار ہندوؤں کو باوضو مسجدوں کے صحنوں اور مساجد کے اندر جانے کی اجازت دی۔ سلطان کے دربار میں بہت سارے ہندو وزرا اور امرا بڈشاہ کے بہت ہی قریبی تصور کیے جاتے تھے۔ یہ تمام حالات علی قلی مرزا کی تاریخ میں تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔
مسعود بٹ اور شیرو بٹ، دونوں سلطان کے قریبی تھے اور امور مملکت میں انہیں کلی اختیار حاصل تھا۔ شیرو بٹ نے کسی مخاصمت کی وجہ سے مسعود بٹ کا قتل کرایا۔ تحقیقات ہوئیں اور شیرو بٹ کو گرفتار کرکے پھانسی دے دی گئی، لیکن بڈشاہ کو دونوں کے ضائع ہونے کا ملال تھا اور اس نے ان کے نام پر ایک لاکھ روپے صدقہ کیے۔
غرض، سلطان زین العابدین بڈشاہ کا دور حکومت ملک کشمیر نے اپنی چار ہزار سالہ تاریخ میں نہیں دیکھا تھا اور شاید آئندہ بھی اس جیسا کوئی حکمران اور اس کا ثانی نہ ملے۔ لیکن رب کائنات کے منصوبے کچھ اور ہوتے ہیں اور وہی منصوبے کامیاب بھی رہتے ہیں۔ پچاس سالہ دور حکومت میں جہاں سلطان کی مملکت نے ہر شعبے میں بلندیوں کو چھو لیا، جہاں دور دراز کے بڑے بڑے بادشاہ سلطان کی دوستی پر فخر محسوس کرتے تھے اور جہاں کسی نے اس دور حکمرانی میں بغاوت کا گمان بھی نہیں کیا، وہاں اس اعلیٰ پائے کے، مومنانہ صفات کے حامل عظیم بادشاہ کے آخری دس سال زبردست مصائب اور پریشانیوں میں گزرے۔ یہ پریشانیاں اس باکردار اور باعمل بادشاہ کے لئے اس کے بیٹوں نے کھڑی کر دیں۔
اس کا حال بھی عجیب تر ہے۔ سلطان زین العابدین کے حرم میں کنیزیں نہیں تھیں اور اس نے کبھی تین بیویوں سے زیادہ نہیں رکھیں۔ تاریخوں میں ایک ساتھ دو بیویوں کا تذکرہ ہے۔ اس کی پہلی بیوی تاج خاتون تھیں، جو حضرت سید محمد بیہقی کی صاحب زادی تھیں۔ ان سے سلطان کی دو بیٹیاں تھیں، جن میں سے ایک کی شادی ان کے بھانجے سید حسن بیہقی سے اور دوسری کی شادی پکھلی کے راجہ سے ہوئی۔
سلطان کی دو بیویاں جموں کے راج گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، جن سے سلطان کے چار بیٹے ہوئے۔ ان میں سے ایک شاید بچپن ہی میں مر گیا، اس لئے اس کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا، لیکن تین بیٹے زندہ رہے، جوان ہوئے اور تینوں نے ایک مستحکم سلطنت کو نہ صرف تنکے تنکے کر دیا، بلکہ اپنے عظیم باپ کی رسوائی کا باعث بھی بن گئے۔
بڑے کا نام ’’اوہم‘‘، دوسرے کا ’’حاجی‘‘ اور تیسرے کا نام بہرام تھا۔ تینوں بیٹوں میں سے کوئی بھی اپنے باپ کے خاک پا کے برابر بھی ثابت نہیں ہوا۔ تینوں اوباش اور عیش پرست ثابت ہوئے۔ ایک کو شراب نے اپنے اندر سمو لیا، دوسرا زناکاری کے باعث اپنے انجام کو پہنچا اور تیسرا منافق تھا۔ اس نے اپنے عظیم باپ کے خلاف دشمنوں کے ساتھ ساز باز بھی کی، اپنے ہی محلات کو نذر آتش بھی کیا اور کئی بار سلطان کے خلاف میدان جنگ بھی سجائے۔
ان کی حماقتوں اور بے وقوفیوں کی وجہ سے زمانے کی یہ بہت مضبوط، مستحکم اور شاندار سلطنت بہت جلد روبہ زوال ہوئی۔ سب اللہ کے کھیل اور منصوبے ہیں، جن پر انسان کی کہیں بھی کوئی دسترس دکھائی نہیں دیتی۔
’’حکمران ایک وہی باقی، بتان آذری‘‘


