ہند-امریکہ تعلقات اور حالیہ پیش رفت

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا تین روزہ دورۂ بھارت ایسے وقت میں ہوا جب امریکی سیاست ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے وسط میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیشِ نظر یہ دورہ سفارتی اہمیت کا حامل تھا۔ پانچ ماہ کے اندر روبیو کا بھارت کا دوسرا دورہ اس بات کی علامت تھا کہ واشنگٹن نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ تاہم، اس دورے سے بھارت کو جن سفارتی اور معاشی پیش رفتوں کی توقع تھی، وہ پوری ہوتی دکھائی نہیں دیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور غیر یقینی فیصلوں نے ہند۔امریکہ تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ روبیو کے دورے سے توقع تھی کہ دونوں ممالک دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے، روسی تیل کی خریداری پر امریکی پابندیوں سے متعلق خدشات دور کرنے اور صدر ٹرمپ و وزیرِاعظم نریندر مودی کی آئندہ ملاقاتوں کی تیاری میں پیش رفت کریں گے۔ کواڈ سربراہی اجلاس اور ٹرمپ کے دورۂ بھارت کی تاریخ طے کرنے جیسے معاملات بھی اہم تھے۔
بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کی دعوت پر روبیو کو متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کا موقع بھی ملا، جہاں خلیجی صورتِ حال، توانائی کے تحفظ اور علاقائی رابطوں پر تبادلۂ خیال کی گنجائش تھی۔ جام نگر میں ریلائنس کی آئل ریفائنری کا دورہ بھی توجہ کا مرکز بنا۔ قیاس آرائیاں کی گئیں کہ امریکہ بھارت کو امریکی اور امریکی لائسنس کے تحت حاصل ہونے والا وینزویلا کا تیل خریدنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
ان توقعات کے باوجود دورہ کسی بڑی سفارتی کامیابی کا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہا۔ ممبئی اور جام نگر کی سرگرمیوں کے برعکس نئی دہلی کا دورہ نہ کیے جانے نے سوالات کو جنم دیا اور اپوزیشن کو دورے کے مقصد پر تنقید کا موقع فراہم کیا۔ روبیو کے دو دوروں اور ایس جے شنکر کے امریکہ کے متعدد دوروں کے باوجود تجارت، محصولات، ایچ۔ون بی ویزا پابندیوں اور تارکینِ وطن سے متعلق سخت اقدامات جیسے معاملات بدستور حل طلب ہیں۔بھارت کی ناراضی کی دیگر وجوہات میں آپریشن سندور (2025) کے بارے میں امریکی مؤقف، پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے بڑھتے روابط اور بھارتی معیشت، بھارتی نژاد امریکی شہریوں اور روسی تیل کی تجارت سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات شامل ہیں۔ نئی دہلی کے لئے یہ معاملات قومی مفادات، علاقائی سلامتی اور تزویراتی خودمختاری سے جڑے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ واشنگٹن اس کے سلامتی کے خدشات اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو سنجیدگی سے لے۔
دورے کے دوران کسی نئے معاہدے کا اعلان نہیں ہوا اور نہ ہی ایس جے شنکر اور روبیو نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ البتہ، دونوں رہنماؤں نے ممبئی میں ’’فریڈم 250‘‘ تقریب میں شرکت کی۔ روبیو نے اعتراف کیا کہ کوئی بھی دو ممالک ہر معاملے پر متفق نہیں ہوسکتے، تاہم انہوں نے بنیادی قومی مفادات کے حوالے سے ہند۔امریکہ ہم آہنگی کو غیرمعمولی قرار دیا۔ یہ بیان اہم ضرور ہے، لیکن محض خوش آئند الفاظ اعتماد کی بحالی کے لئے کافی نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

ہند-امریکہ تعلقات اور حالیہ پیش رفت

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا تین روزہ دورۂ بھارت ایسے وقت میں ہوا جب امریکی سیاست ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے وسط میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیشِ نظر یہ دورہ سفارتی اہمیت کا حامل تھا۔ پانچ ماہ کے اندر روبیو کا بھارت کا دوسرا دورہ اس بات کی علامت تھا کہ واشنگٹن نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ تاہم، اس دورے سے بھارت کو جن سفارتی اور معاشی پیش رفتوں کی توقع تھی، وہ پوری ہوتی دکھائی نہیں دیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور غیر یقینی فیصلوں نے ہند۔امریکہ تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ روبیو کے دورے سے توقع تھی کہ دونوں ممالک دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے، روسی تیل کی خریداری پر امریکی پابندیوں سے متعلق خدشات دور کرنے اور صدر ٹرمپ و وزیرِاعظم نریندر مودی کی آئندہ ملاقاتوں کی تیاری میں پیش رفت کریں گے۔ کواڈ سربراہی اجلاس اور ٹرمپ کے دورۂ بھارت کی تاریخ طے کرنے جیسے معاملات بھی اہم تھے۔
بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کی دعوت پر روبیو کو متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کا موقع بھی ملا، جہاں خلیجی صورتِ حال، توانائی کے تحفظ اور علاقائی رابطوں پر تبادلۂ خیال کی گنجائش تھی۔ جام نگر میں ریلائنس کی آئل ریفائنری کا دورہ بھی توجہ کا مرکز بنا۔ قیاس آرائیاں کی گئیں کہ امریکہ بھارت کو امریکی اور امریکی لائسنس کے تحت حاصل ہونے والا وینزویلا کا تیل خریدنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
ان توقعات کے باوجود دورہ کسی بڑی سفارتی کامیابی کا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہا۔ ممبئی اور جام نگر کی سرگرمیوں کے برعکس نئی دہلی کا دورہ نہ کیے جانے نے سوالات کو جنم دیا اور اپوزیشن کو دورے کے مقصد پر تنقید کا موقع فراہم کیا۔ روبیو کے دو دوروں اور ایس جے شنکر کے امریکہ کے متعدد دوروں کے باوجود تجارت، محصولات، ایچ۔ون بی ویزا پابندیوں اور تارکینِ وطن سے متعلق سخت اقدامات جیسے معاملات بدستور حل طلب ہیں۔بھارت کی ناراضی کی دیگر وجوہات میں آپریشن سندور (2025) کے بارے میں امریکی مؤقف، پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے بڑھتے روابط اور بھارتی معیشت، بھارتی نژاد امریکی شہریوں اور روسی تیل کی تجارت سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات شامل ہیں۔ نئی دہلی کے لئے یہ معاملات قومی مفادات، علاقائی سلامتی اور تزویراتی خودمختاری سے جڑے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ واشنگٹن اس کے سلامتی کے خدشات اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو سنجیدگی سے لے۔
دورے کے دوران کسی نئے معاہدے کا اعلان نہیں ہوا اور نہ ہی ایس جے شنکر اور روبیو نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ البتہ، دونوں رہنماؤں نے ممبئی میں ’’فریڈم 250‘‘ تقریب میں شرکت کی۔ روبیو نے اعتراف کیا کہ کوئی بھی دو ممالک ہر معاملے پر متفق نہیں ہوسکتے، تاہم انہوں نے بنیادی قومی مفادات کے حوالے سے ہند۔امریکہ ہم آہنگی کو غیرمعمولی قرار دیا۔ یہ بیان اہم ضرور ہے، لیکن محض خوش آئند الفاظ اعتماد کی بحالی کے لئے کافی نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں