جموں و کشمیر میں دسویں جماعت کے طلبہ کے لئے سالانہ امتحان اعلیٰ تعلیم اور روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایسے میں سوالیہ پرچے میں غلطی محض طباعت یا نظرثانی کی کوتاہی نہیں، بلکہ امتحانی نظام کی شفافیت اور طلبہ کے اعتماد کو متاثر کرنے والا معاملہ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دسویں جماعت کے طلبہ نے اردو کے سوالیہ پرچے میں مبینہ غلطیوں کے پیشِ نظر پانچ رعایتی نمبر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر امتحانی پرچوں کی تیاری اور متعلقہ حکام کی جواب دہی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ پرچے کی تیاری اور جانچ کے ذمہ داران کی غلطیوں کا خمیازہ طلبہ کیوں بھگتیں؟
متعلقہ حکام پر لازم ہے کہ وہ سوالیہ پرچوں کی تیاری میں صحت، احتیاط اور پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ معیار برقرار رکھیں۔ مضمون کے ماہرین سے سوالات کی تصدیق اور اشاعت سے قبل باریک بینی سے نظرثانی کوئی غیر معمولی تقاضے نہیں، بلکہ بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔
ان ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے متعلقہ اہلکار معقول تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ان پر فرض ہے کہ وہ اپنے فرائض پوری دیانت داری سے نبھائیں۔ طلبہ مہینوں محنت کرکے امتحان کی تیاری کرتے ہیں؛ انہیں ایسے نظام کی غلطیوں کی سزا نہیں ملنی چاہیے جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔قومی سطح پر سوالیہ پرچوں کے افشا اور امتحانی بے ضابطگیوں کے واقعات نے بھی واضح کیا ہے کہ امتحانی نظام میں کوتاہیاں میرٹ، مساوی مواقع اور اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اگرچہ پرچے میں غلطی اور پرچے کا افشا دو الگ معاملات ہیں، تاہم دونوں امتحانی نظام میں سخت نگرانی کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ ہر غلطی دانستہ بدعنوانی نہیں ہوتی اور انسانی لغزش کا امکان موجود رہتا ہے۔ لیکن انسانی غلطی کو غفلت یا ناقص کارکردگی کا مستقل عذر نہیں بنایا جا سکتا۔ غیر ارادی غلطی اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے نتیجے میں ہونے والی کوتاہی کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔
مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سوالیہ پرچوں کی آزادانہ نظرثانی، مضمون کے ماہرین سے تصدیق اور طلبہ کی شکایات کے بروقت ازالے کا شفاف نظام قائم کرنا ضروری ہے۔
امتحانی پرچوں میں غلطیاں کیوں؟
امتحانی پرچوں میں غلطیاں کیوں؟
جموں و کشمیر میں دسویں جماعت کے طلبہ کے لئے سالانہ امتحان اعلیٰ تعلیم اور روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایسے میں سوالیہ پرچے میں غلطی محض طباعت یا نظرثانی کی کوتاہی نہیں، بلکہ امتحانی نظام کی شفافیت اور طلبہ کے اعتماد کو متاثر کرنے والا معاملہ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دسویں جماعت کے طلبہ نے اردو کے سوالیہ پرچے میں مبینہ غلطیوں کے پیشِ نظر پانچ رعایتی نمبر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر امتحانی پرچوں کی تیاری اور متعلقہ حکام کی جواب دہی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ پرچے کی تیاری اور جانچ کے ذمہ داران کی غلطیوں کا خمیازہ طلبہ کیوں بھگتیں؟
متعلقہ حکام پر لازم ہے کہ وہ سوالیہ پرچوں کی تیاری میں صحت، احتیاط اور پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ معیار برقرار رکھیں۔ مضمون کے ماہرین سے سوالات کی تصدیق اور اشاعت سے قبل باریک بینی سے نظرثانی کوئی غیر معمولی تقاضے نہیں، بلکہ بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔
ان ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے متعلقہ اہلکار معقول تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ان پر فرض ہے کہ وہ اپنے فرائض پوری دیانت داری سے نبھائیں۔ طلبہ مہینوں محنت کرکے امتحان کی تیاری کرتے ہیں؛ انہیں ایسے نظام کی غلطیوں کی سزا نہیں ملنی چاہیے جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔قومی سطح پر سوالیہ پرچوں کے افشا اور امتحانی بے ضابطگیوں کے واقعات نے بھی واضح کیا ہے کہ امتحانی نظام میں کوتاہیاں میرٹ، مساوی مواقع اور اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اگرچہ پرچے میں غلطی اور پرچے کا افشا دو الگ معاملات ہیں، تاہم دونوں امتحانی نظام میں سخت نگرانی کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ ہر غلطی دانستہ بدعنوانی نہیں ہوتی اور انسانی لغزش کا امکان موجود رہتا ہے۔ لیکن انسانی غلطی کو غفلت یا ناقص کارکردگی کا مستقل عذر نہیں بنایا جا سکتا۔ غیر ارادی غلطی اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے نتیجے میں ہونے والی کوتاہی کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔
مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سوالیہ پرچوں کی آزادانہ نظرثانی، مضمون کے ماہرین سے تصدیق اور طلبہ کی شکایات کے بروقت ازالے کا شفاف نظام قائم کرنا ضروری ہے۔


