جنگ نیوز
نئی دہلی/ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھارتی فوج کے کمانڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی اور علاقائی حالات پر گہری نظر رکھیں اور فوری طور پر سامنے آنے والے چیلنجوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لئے بھی پوری طرح تیار رہیں۔ انہوں نے فوجی قیادت پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور جنگ کے نئے طریقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر اور دور رس حکمت عملی مرتب کی جائے۔
نئی دہلی میں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ آئندہ 20 سے 30 برسوں کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ تاہم، حکمت عملی میں لچک برقرار رکھنا بھی ضروری ہے، تاکہ بدلتے حالات کے مطابق بروقت فیصلے کیے جا سکیں اور نئے چیلنجوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
راج ناتھ سنگھ نے بدلتے ہوئے عملی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے پر دفاعی افواج کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور نے اختراعی سوچ، بہتر باہمی تال میل، مؤثر رابطہ کاری اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کی اہمیت کو نمایاں کیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے جدید جنگ میں مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لئے مختلف محاذوں پر کارروائی کی صلاحیت اور تینوں افواج کے درمیان مؤثر اشتراک ضروری ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر فوجی تیاری، جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ کارروائیوں کے نظام کو مزید مستحکم بنانا ہوگا۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کو بھی نمایاں قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران بھارت کی دفاعی پیداوار ریکارڈ 1.78لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ان اعداد و شمار کو ملک کی دفاعی صنعتی صلاحیت میں اضافے کی علامت قرار دیا گیا۔
اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے بری جنگ کے نظریے (لینڈ وارفیئر ڈاکٹرائن) کا اجرا کیا۔ یہ دستاویز جنگ کی بدلتی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات سے نمٹنے کے لئے بھارتی فوج کی تیاری، منصوبہ بندی اور عملی حکمت عملی کے لئے ایک جامع رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے متعلق سالانہ جریدے کی رونمائی بھی کی اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے نمایاں کردار ادا کرنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کو اعزاز سے نوازا۔
فوجی کمانڈروں کی کانفرنس کو بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول کا جائزہ لینے، مستقبل کی دفاعی ضروریات کا تعین کرنے اور فوجی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے کے لئے ایک اہم موقع قرار دیا گیا۔


