
محمد اعجاز افضل بصیرؔ
آج 24 اکتوبر عصمت چغتائی کی وفات کا دن ہے۔ اس موقع پر اردو ادب کی اس بے باک اور منفرد افسانہ نگار کی ادبی عظمت، عصری معنویت اور اردو افسانے میں ان کے نمایاں کارناموں کا جائزہ لینا ضروری ہے، جنہوں نے اپنے قلم سے معاشرتی ناہمواریوں، عورت کے مسائل اور فرسودہ روایات کو نہایت جرأت مندی سے پیش کیا۔ ان کی تحریریں آج بھی اپنی فکری گہرائی اور معنویت کے اعتبار سے اہم ہیں۔
اردو افسانے کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے محض اپنے قلم سے کہانیاں تخلیق نہیں کیں، بلکہ اپنے عہد کے سماجی رویّوں، فرسودہ روایات اور مروجہ تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے ادب کو ایک نئی فکری جہت عطا کی۔ عصمت چغتائی ایسی ہی ایک بے باک، حقیقت پسند اور انقلابی افسانہ نگار تھیں، جنہوں نے عورت کے احساسات، جذبات، نفسیاتی پیچیدگیوں اور سماجی مسائل کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنا کر اردو افسانے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کا قلم ان آوازوں کا ترجمان بنا جو صدیوں سے سماج کی بندشوں، روایات کی زنجیروں اور مردانہ بالادستی کے زیرِ اثر خاموش رہنے پر مجبور تھیں۔ انہوں نے عورت کو محض مظلومیت کی علامت کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ اسے ایک صاحبِ احساس، صاحبِ فکر اور اپنے وجود کا شعور رکھنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا۔ یہی جرأتِ اظہار، حقیقت نگاری اور نسائی شعور عصمت چغتائی کو اردو افسانے کی ان نمایاں تخلیق کاروں میں شامل کرتا ہے جن کی ادبی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔عصمت چغتائی کسی بھی قسم کی تعریف و توصیف کی محتاج نہیں ہیں۔ وہ اردو کی جدید اور بے باک افسانہ نگاروں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے افسانوں کو محض قصہ گوئی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان میں حقیقی زندگی کے مسائل، سماجی ناہمواریوں اور انسانی جذبات و احساسات کی بھرپور عکاسی کی۔ بالخصوص خواتین کے مسائل ان کے افسانوں میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عصمت چغتائی نے اردو افسانے میں حقوقِ نسواں، عورت کی خودمختاری اور اس کے وجود کی شناخت کے موضوعات کو غیر معمولی جرأت کے ساتھ پیش کیا۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی بعض افسانہ نگاروں نے عورتوں کے حقوق اور ان کے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا تھا، لیکن ان کی تحریروں میں عموماً اصلاحی اور تبلیغی انداز غالب نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، عصمت چغتائی نے عورتوں کے حقوق کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ ان پر ہونے والے مظالم، ان کے استحصال، گھریلو جبر اور ان کی نفسیاتی و جنسی کیفیات کو بھی بے باکی، گہرائی اور فن کارانہ مہارت کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے معاشرے کی ان تلخ حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جن پر عموماً خاموشی اختیار کر لی جاتی تھی۔ یہی بے باکی، حقیقت نگاری اور نفسیاتی بصیرت ان کی افسانہ نگاری کو ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔میرا ماننا ہے کہ عصمت چغتائی کی ادبی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی معنویت میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے افسانوں اور ناولوں میں پیش کیے گئے موضوعات آج بھی ہماری سماجی زندگی کا حصہ ہیں، بلکہ کئی معاملات میں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، ان کا استحصال، صنفی نابرابری اور معاشرتی جبر جیسے مسائل آج بھی مختلف صورتوں میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عصمت چغتائی کی تحریریں محض اپنے عہد کی عکاس نہیں، بلکہ آج کے معاشرے کو سمجھنے اور اس کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔
بلاشبہ، ان کی فکر اور فن کی یہی عصری معنویت انہیں اردو افسانے کی ایک زندہ اور اہم آواز بناتی ہے۔
عصمت چغتائی کا مشہور افسانہ ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ ایک غریب متوسط طبقے کے مسلم گھرانے کی درد بھری داستان ہے۔ اس افسانے میں انہوں نے نہایت خوبصورتی اور حقیقت نگاری کے ساتھ غربت، معاشرتی ناہمواری اور عورت کی محرومیوں کو پیش کیا ہے۔
عصمت چغتائی کے افسانے ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ میں جہیز جیسی فرسودہ رسم کی عکاسی ملتی ہے، جو آج بھی ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اسی موضوع پر میرے مضامین ’’نکاح یا جہیز؟‘‘ اور ’’بیٹیاں بوجھ نہیں، گھر کی زینت ہیں‘‘ حال ہی میں اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔ عصمت چغتائی کے افسانوں میں پیش کیے گئے مسائل آج بھی زندہ ہیں، اور یہی ان کے فن کی دائمی اہمیت کا ثبوت ہے۔
عصمت چغتائی کا ایک اور مشہور افسانہ ’’لحاف‘‘ ہے، جو ان کے افسانوی مجموعے ’’چوٹیں‘‘ میں شامل ہے۔ اس مجموعے میں کل پندرہ افسانے شامل ہیں، جن میں ’’لحاف‘‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔عصمت چغتائی کا مشہور اور متنازع افسانہ ’’لحاف‘‘ جاگیردارانہ معاشرے میں عورت کی تنہائی، جذباتی محرومی اور نفسیاتی گھٹن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس افسانے میں بیگم جان ایک رئیس نواب صاحب کی بیوی ہیں، لیکن نواب صاحب اپنی بیوی پر توجہ دینے کے بجائے خوبصورت اور نوجوان طالب علم لڑکوں کی صحبت پسند کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ بیگم جان کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان کی ازدواجی زندگی محبت اور اپنائیت سے محروم رہتی ہے۔ شوہر کی بے رخی اور مسلسل تنہائی کے باعث بیگم جان ذہنی اور جذباتی اذیت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس دوران ان کی نوکرانی "ربو” ان کی زندگی میں اہم مقام حاصل کر لیتی ہے اور دونوں کے درمیان ایک غیر معمولی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔
مصنفہ نے ایک معصوم بچی کی نظر سے "بیگم جان” اور "ربو” کے تعلقات کو پُراسرار انداز میں پیش کیا ہے۔ رات کے وقت لحاف کی غیر معمولی حرکتیں بچی کے ذہن میں خوف اور تجسس پیدا کرتی ہیں۔ اس افسانے کے ذریعے عصمت چغتائی نے عورت کی نفسیات، ازدواجی زندگی کی محرومیوں اور جاگیردارانہ معاشرے کی پوشیدہ حقیقتوں کو بے باکی سے اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے افسانہ نگاری کے ساتھ ناول نگاری میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی اور اردو ادب کی ایک اہم اور ممتاز ناول نگار کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
عصمت چغتائی کے مشہور افسانوں میں ’’لحاف‘‘، ’’چوتھی کا جوڑا‘‘، ’’جڑیں‘‘، ’’اپنا خون‘‘، ’’مغل بچہ‘‘، ’’ننھی سی جان‘‘ اور ’’ساس‘‘ قابلِ ذکر ہیں، جب کہ ان کے معروف ناولوں میں ’’ٹیڑھی لکیر‘‘، ’’معصومہ‘‘، ’’ضدی‘‘، ’’ایک قطرہ خون‘‘، ’’تین اناڑی‘‘، ’’جنگلی کبوتر‘‘ اور ’’عجیب آدمی‘‘ اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان تخلیقات کے ذریعے انہوں نے اردو افسانے اور ناول نگاری کو نئی جہتیں عطا کیں اور معاشرتی مسائل، انسانی نفسیات اور عورت کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔
الغرض، عصمت چغتائی اردو ادب کی ایسی بے باک اور منفرد تخلیق کار ہیں جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف فرسودہ معاشرتی روایات کو چیلنج کیا، بلکہ عورت کے احساسات، جذبات اور داخلی کرب کو بھی ادبی اظہار عطا کیا۔ ان کی باغیانہ فکر، حقیقت پسندانہ نظر اور نسائی شعور نے اردو افسانے کو نئی معنویت اور نئی جہتوں سے آشنا کیا۔ ان کی ادبی عظمت کا اعتراف محض ماضی کے حوالے سے نہیں، بلکہ آج کے معاشرتی تناظر میں بھی ناگزیر ہے۔ بلاشبہ، عصمت چغتائی کی تحریریں وقت کی حدود سے ماورا ہیں ان کی فکر آج بھی زندہ ہے، ان کا قلم آج بھی سوال اٹھاتا ہے اور ان کا ادب آنے والی نسلوں کو سماج کی حقیقتوں سے روبرو ہونے کا حوصلہ دیتا رہے گا۔ یہی ان کی ادبی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور اردو ادب پر ان کا ناقابلِ فراموش احسان ہے۔


