تاریخ کے عظیم عقل مند اور حکیم

 

طفیل مگسی

تاریخ میں ایسے بہت سے انسان گزرے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کے معمولی دائرۂ فکر سے بلند ہو کر مسائل کو سمجھا، پیچیدہ حالات میں راستہ نکالا، نتائج کو پیشگی بھانپا، علم کو عمل سے جوڑا اور اپنے فیصلوں سے آنے والی نسلوں کے لیے فکری سرمایہ چھوڑا۔ لیکن کسی شخصیت کو ’’عظیم عقل مند‘‘ یا ’’حکیم‘‘ قرار دینا محض اس کے مشہور ہونے، بہت کچھ جاننے، اقتدار حاصل کرنے یا کسی میدان میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے سے ثابت نہیں ہوتا۔ عقل کا کمال معلومات کی کثرت میں نہیں، صحیح موقع پر صحیح بات سمجھنے میں ہے؛ اور حکمت کا کمال صرف درست بات جاننے میں نہیں بلکہ اسے درست وقت، درست طریقے اور درست مقصد کے ساتھ برتنے میں ہے۔
اس بحث میں انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم شامل نہیں، کیونکہ ان کا مقام عام تاریخی شخصیات کے ساتھ تقابلی پیمانے سے متعین نہیں کیا جا سکتا۔ انبیائے کرام علیہم السلام وحی و عصمت کے مقام پر فائز ہیں، جبکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اہلِ سنت کا اصول عدالتِ صحابہ ہے۔ یہاں گفتگو ان غیر معصوم تاریخی شخصیات کے بارے میں ہے جن کی عقل و حکمت کو انسانی تجربے، علمی آثار اور تاریخی شواہد کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔
قدیم تاریخ میں حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام یا دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی حکمت کے واقعات اپنی جگہ بے مثال ہیں، لیکن ان کا تعلق اس انسانی تجرباتی بحث سے مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ اسی طرح خلفائے راشدین اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بصیرت اسلامی تاریخ کا عظیم سرمایہ ہے، مگر انہیں محض ’’تاریخ کے عقل مندوں‘‘ کی فہرست میں رکھنا ان کے مخصوص دینی مقام کو ایک عام تاریخی درجہ بندی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس لیے اس کتاب میں ان نفوسِ قدسیہ کو اس عنوان کے تحت شامل نہیں کیا جائے گا۔
باقی انسانوں کی تاریخ میں عقل و حکمت کے کئی مختلف نمونے ملتے ہیں۔ بعض لوگ نظری فکر میں بلند تھے، بعض نے علوم کو نئے زاویے دیے، بعض نے انتظامی اور معاشرتی مسائل کا حل نکالا، بعض نے بحران کے وقت غیر معمولی تدبیر کا مظاہرہ کیا، اور بعض نے اپنے تجربات کو ایسی بصیرت میں تبدیل کیا جو اپنے زمانے سے آگے نکل گئی۔ ان سب کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا درست نہیں؛ کیونکہ حکمت کا اظہار ہمیشہ ایک ہی صورت میں نہیں ہوتا۔
ابن الہیثم کی مثال اس اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے محض سابقہ آراء کو دہرانے کے بجائے مشاہدے، تجربے اور منظم تحقیق کو علم کے حصول کا بنیادی ذریعہ بنایا۔ بصریات کے مسائل پر ان کی تحقیقات نے اس زمانے کی رائج تصورات کو جانچنے کا ایک نیا طریقہ پیش کیا۔ یہاں ان کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے ایک خاص علمی مسئلہ حل کیا، بلکہ اس علمی مزاج میں ہے جس میں دعوے کو تجربے کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور نتیجے تک پہنچنے کے لیے طریقۂ تحقیق کو اہمیت دی جاتی ہے۔
البیرونی میں عقل کی ایک دوسری صورت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی علمی زندگی میں مختلف تہذیبوں، زبانوں، علوم اور معاشروں کا مطالعہ ملتا ہے۔ ان کی تحریروں میں مشاہدہ، پیمائش، تقابل اور علمی دیانت کی ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی دوسرے معاشرے کو سمجھنے کے لیے پہلے اس کے اپنے تصورات کو جاننا ضروری ہے۔ یہ رویہ انسانی عقل کو تعصب کے فوری فیصلے سے بچاتا ہے اور تحقیق کو محض اپنے پہلے سے قائم تصور کی تصدیق بننے نہیں دیتا۔
ابن خلدون نے انسانی معاشرے کو افراد کے مجموعے کے بجائے ایک متحرک اجتماعی نظام کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی۔ اقتدار، معاشرت، معیشت، عصبیت، شہری زندگی اور ریاست کے عروج و زوال پر ان کے تجزیے نے تاریخ نویسی کو محض واقعات کی ترتیب سے آگے بڑھا کر اس کے اسباب تلاش کرنے کی سمت دی۔ ان کی اصل علمی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے واقعات کے پیچھے کام کرنے والے اجتماعی عوامل کو موضوعِ تحقیق بنایا۔ تاہم ان کے ہر نظریے کو آخری اور قطعی حقیقت سمجھنا بھی علمی منہج نہیں؛ عظیم مفکرین بھی اپنے زمانے کے علمی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔
اسلامی علمی روایت سے باہر بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے انسانی فکر میں اہم اضافہ کیا، مگر ان کی علمی عظمت کو ان کے تمام فلسفیانہ یا اخلاقی تصورات کی صحت کے برابر قرار دینا درست نہیں۔ سقراط، افلاطون، ارسطو اور دیگر قدیم مفکرین نے منطق، اخلاق، سیاست اور فلسفے کے مباحث پر گہرا اثر ڈالا، لیکن کسی مفکر کا فکری اثر یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کے تمام نتائج درست تھے۔ عقل مند انسان بھی غلطی کر سکتا ہے؛ یہی انسانی عقل کی حقیقت ہے۔
اسی طرح بڑے سائنس دانوں کے بارے میں بھی ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ کسی شخص کا کسی خاص علم میں غیر معمولی کارنامہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں حکمت کا نمونہ ہوگا۔ انسان اپنی تخصص کی حدود سے باہر وہی کمزوریاں رکھ سکتا ہے جو دوسرے انسان رکھتے ہیں۔ اس لیے علمی قابلیت، عملی دانائی اور اخلاقی بصیرت کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
حکمت کا ایک نمایاں مظہر یہ بھی ہے کہ انسان اپنی حدود کو پہچانے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اسے کیا معلوم ہے اور کیا معلوم نہیں، وہ اس شخص سے زیادہ محفوظ راستے پر ہوتا ہے جو ہر سوال کا جواب دینے کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ تاریخ کے بڑے اہلِ فکر میں یہ وصف مختلف صورتوں میں دکھائی دیتا ہے: سوال کو قبول کرنا، دلیل کا مطالبہ کرنا، اپنی رائے پر نظرثانی کرنا اور حقیقت کو اپنی خواہش سے مقدم رکھنا۔
عقل مند انسان صرف یہ نہیں دیکھتا کہ ’’اب کیا ممکن ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ ’’اس کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ یہی پیش بینی حکمت کو محض ذہانت سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک ذہین شخص پیچیدہ مسئلہ حل کر سکتا ہے، لیکن ایک حکیم یہ بھی سوچتا ہے کہ اس حل کے ثانوی نتائج کیا ہوں گے، اس سے کون متاثر ہوگا، کون سا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے اور اگر حالات بدل جائیں تو کیا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
اسی لیے تاریخ کے عظیم عقل مند اور حکیم ہمیں صرف کامیابیوں کی داستان نہیں دیتے؛ ان کے مطالعے سے عقل کے صحیح استعمال کے اصول بھی سامنے آتے ہیں۔ ان میں تحقیق، توقف، مشاہدہ، سوال، تجربہ، دور اندیشی، اپنے علم کی حدود کا اعتراف، حالات کی صحیح قرأت اور نتائج کی ذمہ داری جیسے اوصاف نمایاں ہیں۔
لیکن تاریخ کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ عظمت اور خطا ایک ہی انسان میں جمع ہو سکتی ہیں۔ کوئی شخص کسی میدان میں غیر معمولی عقل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے میدان میں غلطی کر سکتا ہے۔ اسی لیے تاریخی شخصیات کو نہ فرشتے بنانا علمی انصاف ہے اور نہ ان کی لغزشوں کی وجہ سے ان کے تمام علمی کارناموں کو رد کرنا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ شخصیت کو اس کے مجموعی تاریخی سیاق میں دیکھا جائے، اس کے دعوے اور عمل کو الگ الگ پرکھا جائے، اس کے مستند آثار کو بعد کی داستانوں سے ممتاز کیا جائے اور جہاں علم قطعی نہ ہو وہاں توقف اختیار کیا جائے۔
تاریخ کے عظیم عقل مند اور حکیم دراصل ہمیں اپنی عقل کی عظمت سے زیادہ عقل کی ذمہ داری سکھاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سوچنے کی صلاحیت ایک عطیہ ہے، مگر صحیح سوچنے کی عادت ایک تربیت؛ علم ایک قوت ہے، مگر اس قوت کا درست استعمال حکمت؛ اور فیصلہ کرنا انسانی اختیار ہے، مگر اس کے نتائج کو سمجھنا انسانی ذمہ داری۔
اسی مقام پر تاریخ محض ماضی کا بیان نہیں رہتی۔ وہ انسان کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتی ہے جس میں وہ دوسروں کی دانائی دیکھتے ہوئے اپنی فکری کمزوریوں کو بھی پہچان سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تاریخ کے عظیم عقل مند اور حکیم

 

طفیل مگسی

تاریخ میں ایسے بہت سے انسان گزرے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کے معمولی دائرۂ فکر سے بلند ہو کر مسائل کو سمجھا، پیچیدہ حالات میں راستہ نکالا، نتائج کو پیشگی بھانپا، علم کو عمل سے جوڑا اور اپنے فیصلوں سے آنے والی نسلوں کے لیے فکری سرمایہ چھوڑا۔ لیکن کسی شخصیت کو ’’عظیم عقل مند‘‘ یا ’’حکیم‘‘ قرار دینا محض اس کے مشہور ہونے، بہت کچھ جاننے، اقتدار حاصل کرنے یا کسی میدان میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے سے ثابت نہیں ہوتا۔ عقل کا کمال معلومات کی کثرت میں نہیں، صحیح موقع پر صحیح بات سمجھنے میں ہے؛ اور حکمت کا کمال صرف درست بات جاننے میں نہیں بلکہ اسے درست وقت، درست طریقے اور درست مقصد کے ساتھ برتنے میں ہے۔
اس بحث میں انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم شامل نہیں، کیونکہ ان کا مقام عام تاریخی شخصیات کے ساتھ تقابلی پیمانے سے متعین نہیں کیا جا سکتا۔ انبیائے کرام علیہم السلام وحی و عصمت کے مقام پر فائز ہیں، جبکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اہلِ سنت کا اصول عدالتِ صحابہ ہے۔ یہاں گفتگو ان غیر معصوم تاریخی شخصیات کے بارے میں ہے جن کی عقل و حکمت کو انسانی تجربے، علمی آثار اور تاریخی شواہد کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔
قدیم تاریخ میں حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام یا دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی حکمت کے واقعات اپنی جگہ بے مثال ہیں، لیکن ان کا تعلق اس انسانی تجرباتی بحث سے مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ اسی طرح خلفائے راشدین اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بصیرت اسلامی تاریخ کا عظیم سرمایہ ہے، مگر انہیں محض ’’تاریخ کے عقل مندوں‘‘ کی فہرست میں رکھنا ان کے مخصوص دینی مقام کو ایک عام تاریخی درجہ بندی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس لیے اس کتاب میں ان نفوسِ قدسیہ کو اس عنوان کے تحت شامل نہیں کیا جائے گا۔
باقی انسانوں کی تاریخ میں عقل و حکمت کے کئی مختلف نمونے ملتے ہیں۔ بعض لوگ نظری فکر میں بلند تھے، بعض نے علوم کو نئے زاویے دیے، بعض نے انتظامی اور معاشرتی مسائل کا حل نکالا، بعض نے بحران کے وقت غیر معمولی تدبیر کا مظاہرہ کیا، اور بعض نے اپنے تجربات کو ایسی بصیرت میں تبدیل کیا جو اپنے زمانے سے آگے نکل گئی۔ ان سب کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا درست نہیں؛ کیونکہ حکمت کا اظہار ہمیشہ ایک ہی صورت میں نہیں ہوتا۔
ابن الہیثم کی مثال اس اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے محض سابقہ آراء کو دہرانے کے بجائے مشاہدے، تجربے اور منظم تحقیق کو علم کے حصول کا بنیادی ذریعہ بنایا۔ بصریات کے مسائل پر ان کی تحقیقات نے اس زمانے کی رائج تصورات کو جانچنے کا ایک نیا طریقہ پیش کیا۔ یہاں ان کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے ایک خاص علمی مسئلہ حل کیا، بلکہ اس علمی مزاج میں ہے جس میں دعوے کو تجربے کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور نتیجے تک پہنچنے کے لیے طریقۂ تحقیق کو اہمیت دی جاتی ہے۔
البیرونی میں عقل کی ایک دوسری صورت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی علمی زندگی میں مختلف تہذیبوں، زبانوں، علوم اور معاشروں کا مطالعہ ملتا ہے۔ ان کی تحریروں میں مشاہدہ، پیمائش، تقابل اور علمی دیانت کی ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی دوسرے معاشرے کو سمجھنے کے لیے پہلے اس کے اپنے تصورات کو جاننا ضروری ہے۔ یہ رویہ انسانی عقل کو تعصب کے فوری فیصلے سے بچاتا ہے اور تحقیق کو محض اپنے پہلے سے قائم تصور کی تصدیق بننے نہیں دیتا۔
ابن خلدون نے انسانی معاشرے کو افراد کے مجموعے کے بجائے ایک متحرک اجتماعی نظام کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی۔ اقتدار، معاشرت، معیشت، عصبیت، شہری زندگی اور ریاست کے عروج و زوال پر ان کے تجزیے نے تاریخ نویسی کو محض واقعات کی ترتیب سے آگے بڑھا کر اس کے اسباب تلاش کرنے کی سمت دی۔ ان کی اصل علمی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے واقعات کے پیچھے کام کرنے والے اجتماعی عوامل کو موضوعِ تحقیق بنایا۔ تاہم ان کے ہر نظریے کو آخری اور قطعی حقیقت سمجھنا بھی علمی منہج نہیں؛ عظیم مفکرین بھی اپنے زمانے کے علمی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔
اسلامی علمی روایت سے باہر بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے انسانی فکر میں اہم اضافہ کیا، مگر ان کی علمی عظمت کو ان کے تمام فلسفیانہ یا اخلاقی تصورات کی صحت کے برابر قرار دینا درست نہیں۔ سقراط، افلاطون، ارسطو اور دیگر قدیم مفکرین نے منطق، اخلاق، سیاست اور فلسفے کے مباحث پر گہرا اثر ڈالا، لیکن کسی مفکر کا فکری اثر یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کے تمام نتائج درست تھے۔ عقل مند انسان بھی غلطی کر سکتا ہے؛ یہی انسانی عقل کی حقیقت ہے۔
اسی طرح بڑے سائنس دانوں کے بارے میں بھی ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ کسی شخص کا کسی خاص علم میں غیر معمولی کارنامہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں حکمت کا نمونہ ہوگا۔ انسان اپنی تخصص کی حدود سے باہر وہی کمزوریاں رکھ سکتا ہے جو دوسرے انسان رکھتے ہیں۔ اس لیے علمی قابلیت، عملی دانائی اور اخلاقی بصیرت کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
حکمت کا ایک نمایاں مظہر یہ بھی ہے کہ انسان اپنی حدود کو پہچانے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اسے کیا معلوم ہے اور کیا معلوم نہیں، وہ اس شخص سے زیادہ محفوظ راستے پر ہوتا ہے جو ہر سوال کا جواب دینے کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ تاریخ کے بڑے اہلِ فکر میں یہ وصف مختلف صورتوں میں دکھائی دیتا ہے: سوال کو قبول کرنا، دلیل کا مطالبہ کرنا، اپنی رائے پر نظرثانی کرنا اور حقیقت کو اپنی خواہش سے مقدم رکھنا۔
عقل مند انسان صرف یہ نہیں دیکھتا کہ ’’اب کیا ممکن ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ ’’اس کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ یہی پیش بینی حکمت کو محض ذہانت سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک ذہین شخص پیچیدہ مسئلہ حل کر سکتا ہے، لیکن ایک حکیم یہ بھی سوچتا ہے کہ اس حل کے ثانوی نتائج کیا ہوں گے، اس سے کون متاثر ہوگا، کون سا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے اور اگر حالات بدل جائیں تو کیا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
اسی لیے تاریخ کے عظیم عقل مند اور حکیم ہمیں صرف کامیابیوں کی داستان نہیں دیتے؛ ان کے مطالعے سے عقل کے صحیح استعمال کے اصول بھی سامنے آتے ہیں۔ ان میں تحقیق، توقف، مشاہدہ، سوال، تجربہ، دور اندیشی، اپنے علم کی حدود کا اعتراف، حالات کی صحیح قرأت اور نتائج کی ذمہ داری جیسے اوصاف نمایاں ہیں۔
لیکن تاریخ کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ عظمت اور خطا ایک ہی انسان میں جمع ہو سکتی ہیں۔ کوئی شخص کسی میدان میں غیر معمولی عقل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے میدان میں غلطی کر سکتا ہے۔ اسی لیے تاریخی شخصیات کو نہ فرشتے بنانا علمی انصاف ہے اور نہ ان کی لغزشوں کی وجہ سے ان کے تمام علمی کارناموں کو رد کرنا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ شخصیت کو اس کے مجموعی تاریخی سیاق میں دیکھا جائے، اس کے دعوے اور عمل کو الگ الگ پرکھا جائے، اس کے مستند آثار کو بعد کی داستانوں سے ممتاز کیا جائے اور جہاں علم قطعی نہ ہو وہاں توقف اختیار کیا جائے۔
تاریخ کے عظیم عقل مند اور حکیم دراصل ہمیں اپنی عقل کی عظمت سے زیادہ عقل کی ذمہ داری سکھاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سوچنے کی صلاحیت ایک عطیہ ہے، مگر صحیح سوچنے کی عادت ایک تربیت؛ علم ایک قوت ہے، مگر اس قوت کا درست استعمال حکمت؛ اور فیصلہ کرنا انسانی اختیار ہے، مگر اس کے نتائج کو سمجھنا انسانی ذمہ داری۔
اسی مقام پر تاریخ محض ماضی کا بیان نہیں رہتی۔ وہ انسان کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتی ہے جس میں وہ دوسروں کی دانائی دیکھتے ہوئے اپنی فکری کمزوریوں کو بھی پہچان سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں