دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف

جنوبی اور وسطی ایشیا میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دہشت گردی کے معاملے پر دوہرے معیار کو علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔ تاجکستان میں ان کا خطاب اس سوال کو پھر سامنے لایا کہ کیا خطے کے ممالک سلامتی کے معاملات پر مشترکہ اصول اپنا سکتے ہیں؟ بھارت طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے۔ آپریشن سندور کے بعد ایس سی او میں اس مسئلے کو اجاگر کرنا نئی دہلی کی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کریں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کو علاقائی امن، اقتصادی روابط اور ترقی کے ایجنڈے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی موجودگی نے بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو مزید اہمیت دی۔ تاہم، ایس سی او کے رکن ممالک کے مختلف سیاسی اور تزویراتی مفادات دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحۂ عمل کی راہ میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے خطے کی سلامتی، تجارت اور ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔2025 میں چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں منعقدہ ایس سی او وزرائے دفاع کے اجلاس میں بھارت نے مشترکہ اعلامیے کی حمایت نہیں کی تھی۔ نئی دہلی کو اعتراض تھا کہ اعلامیے میں پہلگام حملے اور پاکستان سے منسوب سرحد پار دہشت گردی سے متعلق اس کے تحفظات کی مناسب عکاسی نہیں کی گئی، جبکہ بلوچستان میں عسکری سرگرمیوں کا ذکر شامل تھا۔ یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے اسباب اور ذمہ داری کے تعین پر رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا کتنا پیچیدہ ہے۔
کسی بھی علاقائی تنظیم کی افادیت کا اصل پیمانہ مشترکہ اعلامیے نہیں، بلکہ عملی اقدامات ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اصولوں کا اطلاق تمام ممالک پر یکساں ہونا چاہیے، جبکہ واقعات کی تحقیقات معتبر شواہد اور شفاف طریقۂ کار کے تحت کی جانی چاہئیں۔ سیاسی مفادات کی بنیاد پر کسی واقعے کو نظرانداز کرنا مشترکہ سلامتی کے تصور کو کمزور کر سکتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہے، لیکن سفارتی اختلافات کا حل مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ ایس سی او کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار جرائم کے خلاف عملی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ رکن ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ علاقائی امن مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ممالک سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر واضح اصولوں، قابل تصدیق شواہد اور عملی تعاون کو ترجیح دیں۔ ایس سی او کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ بیانات سے آگے بڑھ کر ایسے اقدامات کرے جو خطے کے عوام کو امن، تحفظ اور ترقی فراہم کر سکیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف

جنوبی اور وسطی ایشیا میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دہشت گردی کے معاملے پر دوہرے معیار کو علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔ تاجکستان میں ان کا خطاب اس سوال کو پھر سامنے لایا کہ کیا خطے کے ممالک سلامتی کے معاملات پر مشترکہ اصول اپنا سکتے ہیں؟ بھارت طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے۔ آپریشن سندور کے بعد ایس سی او میں اس مسئلے کو اجاگر کرنا نئی دہلی کی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کریں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کو علاقائی امن، اقتصادی روابط اور ترقی کے ایجنڈے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی موجودگی نے بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو مزید اہمیت دی۔ تاہم، ایس سی او کے رکن ممالک کے مختلف سیاسی اور تزویراتی مفادات دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحۂ عمل کی راہ میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے خطے کی سلامتی، تجارت اور ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔2025 میں چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں منعقدہ ایس سی او وزرائے دفاع کے اجلاس میں بھارت نے مشترکہ اعلامیے کی حمایت نہیں کی تھی۔ نئی دہلی کو اعتراض تھا کہ اعلامیے میں پہلگام حملے اور پاکستان سے منسوب سرحد پار دہشت گردی سے متعلق اس کے تحفظات کی مناسب عکاسی نہیں کی گئی، جبکہ بلوچستان میں عسکری سرگرمیوں کا ذکر شامل تھا۔ یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے اسباب اور ذمہ داری کے تعین پر رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا کتنا پیچیدہ ہے۔
کسی بھی علاقائی تنظیم کی افادیت کا اصل پیمانہ مشترکہ اعلامیے نہیں، بلکہ عملی اقدامات ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اصولوں کا اطلاق تمام ممالک پر یکساں ہونا چاہیے، جبکہ واقعات کی تحقیقات معتبر شواہد اور شفاف طریقۂ کار کے تحت کی جانی چاہئیں۔ سیاسی مفادات کی بنیاد پر کسی واقعے کو نظرانداز کرنا مشترکہ سلامتی کے تصور کو کمزور کر سکتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہے، لیکن سفارتی اختلافات کا حل مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ ایس سی او کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار جرائم کے خلاف عملی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ رکن ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ علاقائی امن مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ممالک سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر واضح اصولوں، قابل تصدیق شواہد اور عملی تعاون کو ترجیح دیں۔ ایس سی او کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ بیانات سے آگے بڑھ کر ایسے اقدامات کرے جو خطے کے عوام کو امن، تحفظ اور ترقی فراہم کر سکیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں