
کیسر خان قیس
بارہ مولہ ، کشمیر
دوست کیسا، پھرے نظر جو
وقتِ مشکل، نہ لے خبر جو
چھاؤں میں جو، رفیقِ جاں ہو
دھوپ آئے، دھواں دھواں ہو
لفظ اس کے، سراب جیسے
سب دلاسے، حباب جیسے
تیرگی میں، دیئے بجھا کر
دے تسلی، وہ مسکرا کر
خاک پر جب، گرے نشیمن
آگ میں جب، جلے یہ دامن
دور سے ہی، مزے وہ لوٹے
دل کے جب بھی، سہارے ٹوٹے
آس رکھ مت، کبھی کسی سے
مانگ مت تو، خوشی کسی سے
ہمتوں کو، بنا تو رہبر
پار کر لے، یہ گہرا ساگر
سچ یہی ہے اے قیس سن لے
اپنے رب کو ہی اپنا، چن لے
تیرا سایا ہی، تیری جاں ہے
باقی سب، دشت کا گماں ہے


