خودمختاری کیلئے نئی راہیں مطلوب

مرکزی حکومت کی جانب سے دین دیال انتودیہ یوجنا-نیشنل اربن لائیولی ہڈز مشن (DAY-NULM) کو اکتوبر 2024 میں ختم کیے جانے کے بعد کسی واضح متبادل اسکیم کی عدم موجودگی تشویش کا باعث ہے۔ 2014 میں شروع ہونے والی اس اسکیم کے تحت02.10 لاکھ سیلف ہیلپ گروپس (SHGs) قائم ہوئے، جن سے ایک کروڑ سے زائد خواتین مستفید ہوئیں۔
اسکیم نے خواتین کو بچت، بینک قرضوں، مالیاتی خواندگی اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تمل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور تریپورہ نے بھی ان گروپس کی مسلسل مالی معاونت اور بینکوں سے روابط برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بہار کی جیویکا اسکیم اور کیرالہ کی کڈمبشری اس بات کی مثالیں ہیں کہ مناسب سرکاری تعاون سے خواتین کے گروپس روزگار، کاروبار اور سماجی ترقی کے مؤثر مراکز بن سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کامیابی کے لئے مسلسل مالی مدد، تربیت، آسان قرضوں اور منڈیوں تک رسائی ضروری ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ DAY-NULM کی جگہ ایک مؤثر متبادل اسکیم متعارف کرائے، تاکہ برسوں کی محنت سے قائم کیے گئے گروپس متاثر نہ ہوں۔ نئی پالیسی میں صرف گروپس کی تعداد بڑھانے کے بجائے خواتین کی آمدنی، کاروباری استحکام اور مالی خودمختاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ایک نئی اور جامع اسکیم خواتین کے لئے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کے ساتھ شہری غربت میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے ریاستی حکومتوں، بینکوں اور مقامی اداروں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے، تاکہ خواتین کو مالی معاونت کے ساتھ کاروباری رہنمائی اور اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے مواقع بھی میسر آئیں۔
اس کے علاوہ، نئی پالیسی میں مستحق خواتین اور کمزور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ باقاعدہ نگرانی اور نتائج کے جائزے سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ سرکاری وسائل حقیقی مستحقین تک پہنچیں اور خواتین کے چھوٹے کاروبار مستقل آمدنی کے ذرائع بن سکیں۔
خواتین کی معاشی خودمختاری محض نعروں سے ممکن نہیں؛ اس کے لئے مستقل مالی وسائل، مضبوط پالیسی اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ DAY-NULM کے تجربات کو بنیاد بنا کر ایک بہتر اور جامع پروگرام تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو خواتین کی صلاحیتوں کو فروغ دے اور انہیں معاشی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

خودمختاری کیلئے نئی راہیں مطلوب

مرکزی حکومت کی جانب سے دین دیال انتودیہ یوجنا-نیشنل اربن لائیولی ہڈز مشن (DAY-NULM) کو اکتوبر 2024 میں ختم کیے جانے کے بعد کسی واضح متبادل اسکیم کی عدم موجودگی تشویش کا باعث ہے۔ 2014 میں شروع ہونے والی اس اسکیم کے تحت02.10 لاکھ سیلف ہیلپ گروپس (SHGs) قائم ہوئے، جن سے ایک کروڑ سے زائد خواتین مستفید ہوئیں۔
اسکیم نے خواتین کو بچت، بینک قرضوں، مالیاتی خواندگی اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تمل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور تریپورہ نے بھی ان گروپس کی مسلسل مالی معاونت اور بینکوں سے روابط برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بہار کی جیویکا اسکیم اور کیرالہ کی کڈمبشری اس بات کی مثالیں ہیں کہ مناسب سرکاری تعاون سے خواتین کے گروپس روزگار، کاروبار اور سماجی ترقی کے مؤثر مراکز بن سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کامیابی کے لئے مسلسل مالی مدد، تربیت، آسان قرضوں اور منڈیوں تک رسائی ضروری ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ DAY-NULM کی جگہ ایک مؤثر متبادل اسکیم متعارف کرائے، تاکہ برسوں کی محنت سے قائم کیے گئے گروپس متاثر نہ ہوں۔ نئی پالیسی میں صرف گروپس کی تعداد بڑھانے کے بجائے خواتین کی آمدنی، کاروباری استحکام اور مالی خودمختاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ایک نئی اور جامع اسکیم خواتین کے لئے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کے ساتھ شہری غربت میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے ریاستی حکومتوں، بینکوں اور مقامی اداروں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے، تاکہ خواتین کو مالی معاونت کے ساتھ کاروباری رہنمائی اور اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے مواقع بھی میسر آئیں۔
اس کے علاوہ، نئی پالیسی میں مستحق خواتین اور کمزور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ باقاعدہ نگرانی اور نتائج کے جائزے سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ سرکاری وسائل حقیقی مستحقین تک پہنچیں اور خواتین کے چھوٹے کاروبار مستقل آمدنی کے ذرائع بن سکیں۔
خواتین کی معاشی خودمختاری محض نعروں سے ممکن نہیں؛ اس کے لئے مستقل مالی وسائل، مضبوط پالیسی اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ DAY-NULM کے تجربات کو بنیاد بنا کر ایک بہتر اور جامع پروگرام تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو خواتین کی صلاحیتوں کو فروغ دے اور انہیں معاشی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں