
میر ذاکر
کوکرناگ، کشمیر
آفتاب نصف النہار پر چمک رہا تھا، مگر آہستہ آہستہ بادلوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا۔ صابرہ چولہے پر ہانڈی چڑھائے کھڑکی سے موسم دیکھ رہی تھی کہ بارش شروع ہو گئی۔ مٹی کے در و دیوار سے بھینی بھینی خوشبو اٹھنے لگی اور مرجھائے پیڑ پودے کھلنے لگے۔ اچانک اس کی نظر انجیر کے درخت پر بنے چڑیا کے گھونسلے پر پڑی۔ چڑیا بے چینی سے پھڑپھڑا رہی تھی اور اس کے بچے بارش میں بھیگ کر چیخ رہے تھے۔
’’اماں، کیا دیکھتی ہو؟‘‘ آمنہ نے کچن میں داخل ہو کر پوچھا۔
’’اس بیچاری چڑیا کو دیکھو، بارش سے اس کا گھونسلہ اجڑ گیا۔ بچے بھی بھیگ گئے۔ ہائے، اس کی بے بسی!‘‘ صابرہ نے افسردگی سے جواب دیا۔
’’امی، کتنے عرصے بعد بارش ہوئی ہے۔ پیڑ پودوں میں جیسے جان آ گئی۔ کل عید ہے اور آج بارش رحمتِ خداوندی کی نوید لے کر برس پڑی،‘‘ آمنہ نے ماں کا ذہن بھٹکانے کی کوشش کی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ منظر اسے اضطراب میں مبتلا کر دے گا، جس سے اس کی صحت متاثر ہوتی۔
صابرہ کی عمر اکتیس سال تھی۔ انیس سال کی عمر میں اس کی شادی فرہاد سے ہوئی، جو پیشے سے لوہار تھا۔ ان کے دو بچے، آمنہ اور عبداللہ، بالترتیب گیارہ اور سات سال کے تھے۔ ان کی زندگی خوش گوار گزر رہی تھی، مگر ایک دن دکان پر کام کرتے ہوئے ہتھوڑا فرہاد کے سر پر لگ گیا۔ شدید چوٹ کے باعث وہ غیر معینہ مدت کے لئے مفلوج ہو گیا۔ اس حادثے کے بعد گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ چولہا مشکل سے جلتا اور اکثر فاقوں کی نوبت آتی۔ حالات نے صابرہ کے چہرے کی رونق چھین لی اور بچوں کو وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ محلے کی بزرگ عورتیں اسے کاکی کہہ کر پکارتی تھیں، جبکہ بعض اسے بہن کہہ کر اس کی لاچاری کا احساس دلاتی تھیں۔ صابرہ خاموش رہتی، مگر آمنہ کو ان کے رویے پر سخت غصہ آتا۔ ماں اسے صبر کی تلقین کرتی۔
کل عید تھی اور لوگ تیاریوں میں مصروف تھے۔ بازاروں میں رش تھا، والدین بچوں کے لئے نئے کپڑے خرید رہے تھے اور ہر طرف خوشیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
عبداللہ آج بہت خوش تھا، کیونکہ صابرہ نے اسے ماموں کے آنے کی خبر دی تھی۔ صابرہ بھی حسرت سے بھائی کا انتظار کر رہی تھی۔
’’امی، ماموں ابھی تک کیوں نہیں آئے؟‘‘ عبداللہ نے پوچھا۔
’’آ جائیں گے،‘‘ صابرہ نے بجھتی ہوئی آنکھوں سے جواب دیا۔
’’امی، عید پر میں کیا پہنوں گا؟‘‘
’’بیٹا، پچھلے سال کے کپڑے بالکل نئے ہیں۔ تم اور آمنہ وہی پہنو گے۔‘‘
’’لیکن سہیل اور یوسف کے پاپا نے ان کے لئے نئے کپڑے خریدے ہیں۔ مجھے بھی نئے کپڑے چاہییں۔‘‘
’’تمہارے کپڑے بالکل نئے ہیں،‘‘ ماں نے نظریں چرا کر کہا۔ ’’ابو ٹھیک ہو جائیں گے تو کیا پھر نئے کپڑے لاؤ گی؟‘‘
’’جی ہاں، لاؤں گی،‘‘ صابرہ نے سرد آہ بھر کر جواب دیا۔
’’اور میں پھر اس بڑے برتن میں زیادہ کھانا کھاؤں گا،‘‘ عبداللہ نے سامنے پڑا تھال اٹھاتے ہوئے کہا۔ اس معصوم خواہش نے ماں کو اپنے بچوں کی محرومیوں کا احساس دلا دیا۔
صابرہ نے آمنہ سے عبداللہ کو باہر لے جانے کو کہا۔ کچھ دیر بعد آمنہ واپس آئی اور پوچھا، ’’عبداللہ کو کس نے کہا کہ ماموں آئیں گے؟‘‘
’’وہ فرمائشیں کر رہا تھا تو میری زبان سے نکل گیا،‘‘ صابرہ نے جواب دیا۔
’’اماں، کیسے امیدیں لگائے بیٹھی ہو؟ پچھلے سال بھی انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ ہمیں ایسی چائے پلائی جس میں نہ دودھ تھا، نہ شکر، اور بیکری کا سامان بھی باسی تھا۔ لیکن جب خالہ اور ان کے بچے آئے تو ان کے سامنے قسم قسم کے بسکٹ اور ملائی والی چائے رکھی گئی۔
خالہ اور ان کے بچوں کو سب نے گلے لگایا، ماتھا چوما اور اپنے ساتھ بٹھایا، لیکن ہمیں کسی نے گلے تک نہیں لگایا۔ سر پر رکھی ہر چیز بھاری لگتی ہے، سوائے اس ہاتھ کے جو شفقت سے رکھا جائے۔ کوئی ہمارے سر پر ہاتھ ہی رکھ دیتا تو تسلی ہوتی کہ ہمارا بھی کوئی ہے۔
میں اور عبداللہ کونے میں ایسے پڑے تھے جیسے کوئی غیر مرئی مخلوق ہوں۔ کیا ہم انسان نہیں؟ یہ کیسا رشتہ ہے جس میں احساس ہی نہ ہو؟ ہمدردی تو راہ چلتا مسافر بھی جتاتا ہے۔ ماموں صرف دنیا کو دکھانے کے لئے کبھی کبھار آپ کا حال پوچھ لیتے ہیں۔
خالہ اور ماموں امیر ہیں تو کیا ہوا؟ آپ بھی تو انہی کا خون ہیں۔ پھر آپ کے معاملے میں ان کا خون اتنا سرد کیوں ہے؟ آپ بھی تو اسی باپ کی بیٹی ہیں جس کی وراثت پر ماموں سانپ بن کر بیٹھا ہے۔‘‘
صابرہ بے سدھ آمنہ کی باتیں سن رہی تھی۔ اس کی ہر بات جگر میں خنجر بن کر اتر رہی تھی۔ وہ دھیمی آواز میں بڑبڑانے لگی:
’’رشتے بارش کی طرح ہوتے ہیں، جو خوش حال گھروں میں خوشیوں کی صورت لہلہاتے ہیں۔ لیکن جس آنگن پر غریبی سایہ ڈالتی ہے، وہاں رشتوں کے پھول نہیں اگتے، بلکہ چڑیا کے اجڑے گھونسلے کی طرح ویرانی چھا جاتی ہے۔‘‘


