7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے تنازعے کے انتہائی خطرناک موڑ کی صورت میں سامنے آیا جس کی جڑیں فلسطینیوں کی طویل محرومی، قبضے، محاصرے، تشدد اور سیاسی تعطل میں پیوست ہیں۔ تاہم اس پس منظر کو سمجھنا حماس کے حملے میں شہریوں کے قتل کو جائز قرار نہیں دیتا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 7 اکتوبر کے حملے میں 1200 سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں افراد کو یرغمال بنایا گیا، جبکہ شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
لیکن اصل المیہ اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کی وسعت اور تباہی ہے۔ اسرائیل نےنہتے فلسطینوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، نقل مکانی اور شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی ہوئی۔ عالمی اداروں نے اسرائیلی کارروائیوں کے بعض پہلوؤں پر بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بعض حملوں میں امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصولوں کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی، جبکہ حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے اندھا دھند راکٹ حملوں کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کو ایک بنیادی سوال کا سامنا ہے: کیا کسی ایک فریق کے جرم کا جواب دوسرے فریق کے شہریوں کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوسکتا ہے؟ اگر ایسا تصور قبول کرلیا جائے تو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے تمام اصول بے معنی ہوجائیں گے۔
غزہ کا بحران صرف اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ نہیں رہا۔ اس نے مشرق وسطیٰ کے پہلے سے موجود تنازعات کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ لبنان، شام، عراق، یمن اور ایران سے جڑے محاذوں پر کشیدگی نے اس خدشے کو بڑھایا کہ ایک محدود علاقائی جنگ کسی بڑے بین الاقوامی تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
پھر ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست فوجی تصادم نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ جون 2025 میں اسرائیلی حملوں کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان کھلی جنگ ہوئی، جبکہ بعد ازاں امریکہ نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس وقت گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ مزید کشیدگی سے گریز ضروری ہے۔
یہاں امریکہ کا کردار بھی عالمی سیاست کا اہم سوال بن جاتا ہے۔ واشنگٹن اسرائیل کا طویل عرصے سے اہم اتحادی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ جب ایک علاقائی تنازعے میں بڑی عالمی طاقت براہ راست فوجی کارروائی کا حصہ بن جائے تو جنگ کے پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مشرق وسطیٰ کی کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی صرف تل ابیب، تہران یا غزہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی، تجارت اور سفارت کاری تک پہنچتے ہیں۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے مستقل امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہر حملے کا جواب پہلے سے زیادہ تباہ کن حملے سے دیا جائے تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اسرائیل کی سلامتی، فلسطینیوں کے سیاسی حقوق، یرغمالیوں کی رہائی، شہریوں کا تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو ایک دوسرے کے متضاد مطالبات سمجھنے کے بجائے ایک ہی امن عمل کے حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد دنیا نے دیکھا کہ ایک طویل عرصے سے حل طلب تنازعہ کس طرح چند ہی برسوں میں علاقائی جنگ، ایران۔اسرائیل تصادم اور بڑی طاقتوں کی براہ راست مداخلت تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کسی نئی عالمی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
تیسری عالمی جنگ شاید کسی ایک اعلان سے شروع نہ ہو؛ یہ چھوٹے چھوٹے تنازعات، غلط اندازوں، جوابی حملوں اور بڑھتی ہوئی عسکری مداخلتوں کے ذریعے بھی جنم لے سکتی ہے۔ اسی لئے آج سب سے بڑی ضرورت کسی ایک فریق کی فتح نہیں بلکہ کشیدگی کو روکنے، شہریوں کو بچانے اور ایک ایسے سیاسی حل کی تلاش ہے جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے بنیادی حقوق اور سلامتی کو تسلیم کرے۔


