
ریاض فردوسی
کبھی کبھی تاریخ انسان کو کسی ایک بڑے دھماکے سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے دھماکوں، بڑھتی ہوئی دھمکیوں، ٹوٹتے ہوئے معاہدوں، خاموش ہوتی سفارت کاری اور خوف زدہ چہروں کے ذریعے خبردار کرتی ہے۔
آج دنیا کچھ ایسی ہی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف یورپ میں روس اور یوکرین کی جنگ نے بین الاقوامی سلامتی کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تصادم نے خطے کو ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں ایک میزائل صرف فوجی ہدف کو نہیں بلکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور کئی ریاستوں کے مفادات کو متاثر کر سکتا ہے۔
تیسری طرف چین اور تائیوان کا مسئلہ ہے، جس کے پیچھے امریکہ اور چین جیسی بڑی طاقتیں کھڑی ہیں۔ ان سب کے اوپر ایٹمی ہتھیاروں کا خوفناک سایہ ہے۔ سعودی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان تصادم، بھارت اور پاکستان کی کشیدگی بھی اسی عالمی بے چینی کا حصہ ہیں۔
تو سوال یہ ہے: کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟
دیانت دار جواب یہ ہے کہ خطرہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ دکھائی دیتا ہے، لیکن عالمی جنگ کا آغاز کوئی طے شدہ یا ناگزیر نتیجہ نہیں۔ دنیا خطرناک دہانے پر ضرور کھڑی ہے، مگر پیچھے ہٹنے کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ اصل تشویش یہ ہے کہ آج دنیا میں ایک نہیں، کئی بحران موجود ہیں جو اگر ایک دوسرے سے جڑ گئے تو صورتِ حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
دنیا پہلے ہی کتنی جنگوں میں گھری ہوئی ہے؟
بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے مطابق دنیا میں مسلح تنازعات کی تعداد گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ 2025ء اور 2026ء کے آغاز کے آس پاس دنیا میں تقریباً 130 مسلح تنازعات موجود تھے۔ ان میں یوکرین، غزہ، ایران، سوڈان، مشرقی کانگو، میانمار اور کئی دوسرے خطے شامل ہیں۔
یہ صرف ایک عدد نہیں۔ ہر تنازعے کے پیچھے ایک ماں ہے جو اپنے بیٹے کا انتظار کرتی ہے، ایک بچہ ہے جس نے اسکول کے بجائے پناہ گاہ دیکھی ہے، اور ایک خاندان ہے جسے معلوم نہیں کہ اگلی صبح وہ زندہ بھی ہوگا یا نہیں۔ جنگ کا اصل چہرہ ٹیلی وژن پر دکھائی دینے والے میزائل نہیں بلکہ وہ بچہ ہے جو دھماکے کی آواز پر کانوں پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔
یوکرین: ایک علاقائی جنگ یا بڑی طاقتوں کا خطرناک تصادم؟
روس اور یوکرین کی جنگ نے یورپ کے امن کے تصور کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ نیٹو موجودہ ماحول کو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کا انتہائی خطرناک سلامتی کا ماحول قرار دیتا ہے۔ خطرہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ یوکرین کو مغربی ممالک کی سیاسی، مالی اور فوجی مدد حاصل ہے، جبکہ روس کے ساتھ مغرب کا براہِ راست فوجی تصادم اب بھی ایک ایسی حد ہے جسے بڑی طاقتیں عبور کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔
مگر غلط فہمی، حادثہ یا کسی حملے کی غلط تعبیر اس حد کو اچانک مٹا سکتی ہے۔ ستمبر 2026ء میں ڈنمارک کی دفاعی انٹیلی جنس نے خبردار کیا کہ روس آنے والے مہینوں میں نیٹو کے کسی ملک پر محدود فوجی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔ یہ پیش گوئی نہیں بلکہ خطرے کا جائزہ تھا، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ میں براہِ راست روس۔نیٹو تصادم کا امکان محض خیالی بحث نہیں رہا۔
یہاں اصل خوف روس یا نیٹو کے ارادوں سے زیادہ غلط حساب کتاب کا ہے۔ اگر کسی سرحدی واقعے کو دانستہ حملہ سمجھ لیا جائے، کسی میزائل کی سمت غلط سمجھی جائے یا سائبر حملے کا ذمہ دار غلط ریاست کو قرار دے دیا جائے تو محدود بحران تیزی سے بڑے تصادم میں بدل سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ: ایک چنگاری جو پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے!
مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال شاید آج کی عالمی بے چینی کی سب سے خطرناک مثال ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نے خلیج، بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق ایران سے متعلق جنگی صورتِ حال ستمبر 2026ء تک بگڑتی ہوئی کیفیت میں تھی، جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات نے توانائی اور عالمی تجارت کے خدشات بڑھا دیے۔
عالمی جنگ ہمیشہ اس لئے عالمی نہیں بنتی کہ دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے پر حملہ کریں۔ کبھی ایک جنگ اپنے اقتصادی، فوجی اور سیاسی اثرات کے باعث عالمی اثر پیدا کرتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل عالمی تیل کی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ تیل مہنگا ہو تو نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے، پھر خوراک اور صنعتی اشیا مہنگی ہوتی ہیں، مہنگائی بڑھتی ہے اور دنیا کے دوسرے حصوں میں سیاسی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی ایک میزائل خلیج میں داغا جاتا ہے، لیکن اس کی قیمت دنیا کے کسی غریب گھرانے کو بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ستمبر کے آخری ہفتے میں ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطے دوبارہ شروع ہوئے، لیکن بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت کی کوششیں جاری تھیں، جبکہ فوجی کارروائی کا خطرہ بھی برقرار تھا۔ یہی موجودہ دنیا کی تصویر ہے: جنگ بھی جاری ہے، مذاکرات بھی؛ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور رابطے بھی قائم ہیں۔
تائیوان: وہ محاذ جہاں دنیا کی دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں!
عالمی جنگ کے ممکنہ مراکز کی بات ہو تو تائیوان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ تائیوان اپنی موجودہ سیاسی و جمہوری حیثیت کے ساتھ خود حکومت کرتا ہے۔ امریکہ تائیوان کا اہم سکیورٹی اور دفاعی شراکت دار ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق تائیوان کے گرد چینی فوجی اور "گرے زون” دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر 2026ء میں چینی حکام نے ایک مرتبہ پھر تائیوان کو اپنی "ریڈ لائن” قرار دیا۔ اسی دوران چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات ہوئی، جس میں تجارت، مصنوعی ذہانت اور تائیوان سمیت حساس معاملات زیرِ بحث آئے۔
یہ ملاقات ایک اہم حقیقت یاد دلاتی ہے: دنیا کی بڑی طاقتیں سخت اختلاف کے باوجود مکمل رابطہ ختم نہیں کرتیں، کیونکہ ایٹمی دور میں رابطہ منقطع ہونا خود ایک خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لئے تائیوان کو عالمی جنگ کا یقینی دروازہ کہنا درست نہیں، البتہ یہاں کسی بحران کے بین الاقوامی اثرات انتہائی وسیع ہو سکتے ہیں۔
سب سے بڑا خوف: ایٹمی ہتھیار!
دنیا کی موجودہ صورتِ حال میں سب سے خوفناک حقیقت ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، یعنی SIPRI، کے مطابق جنوری 2026ء میں دنیا کے نو ایٹمی ممالک کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 12187 ایٹمی وارہیڈز موجود تھے۔ ان میں تقریباً 9745 فوجی ذخیرے میں تھے اور تقریباً 4012 جنگی نظاموں کے ساتھ تعینات تھے۔ اندازاً 2100 سے 2200 وارہیڈز بیلسٹک میزائلوں پر بلند آپریشنل الرٹ کی حالت میں تھے۔
مسئلہ صرف تعداد نہیں۔ SIPRI کے مطابق تمام نو ایٹمی ریاستیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو جدید بنا رہی ہیں، جبکہ عالمی جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے پرانے معاہدے بھی کمزور ہوئے ہیں۔ فروری 2026 میں New START کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان اسٹریٹجک ایٹمی ہتھیاروں پر سابقہ پابندیوں اور شفافیت کا ایک اہم ستون مزید کمزور ہوا۔
اگر دنیا میں اتنے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں کہ چند فیصلے کروڑوں نہیں بلکہ شاید اربوں انسانوں کی زندگی بدل سکتے ہیں تو جنگ کے بارے میں معمولی زبان بھی خطرناک ہو جاتی ہے۔ ایٹمی جنگ میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوگا۔ کسی شہر پر ایٹم بم گرے تو صرف دشمن نہیں مرتا، انسان مرتے ہیں؛ ہسپتال، اسکول، عبادت گاہیں، بازار اور آنے والی نسلوں کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔
کیا ہم واقعی تیسری عالمی جنگ کے قریب ہیں؟
یہاں جذبات کے بجائے عقل سے جواب دینا ضروری ہے۔
آج دنیا میں عالمی جنگ کے خطرے کو بڑھانے والی کئی چیزیں موجود ہیں: بڑی طاقتوں کے درمیان براہِ راست فوجی مقابلہ، کئی خطوں میں جڑی ہوئی جنگیں، ایٹمی ہتھیاروں کی جدید کاری، سائبر جنگ، ڈرون اور مصنوعی ذہانت۔ اقتصادی پابندیاں اور تجارتی جنگیں بھی جغرافیائی سیاست کا ہتھیار بن چکی ہیں۔
غلط معلومات اور پروپیگنڈا بحران کے دوران عوامی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ SIPRI نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایک ایسا خود تقویت دینے والا چکر پیدا ہو رہا ہے جس میں بڑی طاقتیں اپنی سلامتی بڑھانے کے لئے ایسے اقدامات کرتی ہیں جو دوسری طاقتوں کو مزید غیر محفوظ محسوس کراتے ہیں۔ نتیجتاً وہ مزید ہتھیار بناتی ہیں اور عدمِ تحفظ بڑھتا جاتا ہے۔ یہی Security Dilemma ہے۔
ایک ملک کہتا ہے: "میں ہتھیار اس لئے بڑھا رہا ہوں کہ مجھے خطرہ ہے۔”
دوسرا جواب دیتا ہے: "تم ہتھیار بڑھا رہے ہو، اس لئے مجھے خطرہ ہے۔”
پہلا مزید ہتھیار خریدتا ہے، دوسرا بھی، اور آخرکار دونوں پہلے سے زیادہ محفوظ ہونے کے بجائے زیادہ خوف زدہ پاتے ہیں۔
لیکن ایک اہم حقیقت امید بھی دیتی ہے۔ اگر خطرات بڑھ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی جنگ لازمی ہے۔ اس کی بڑی وجہ بازدارندگی اور سفارت کاری ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک جانتے ہیں کہ براہِ راست بڑی جنگ کی قیمت ناقابلِ تصور ہو سکتی ہے، اسی لئے شدید دشمنی کے باوجود رابطے کے دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔
ستمبر 2026ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے ہوئے۔ اسی طرح امریکہ اور چین کے سربراہان کی ملاقات ہوئی، جس میں اختلافات کے باوجود تعلقات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لئے رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ یوکرین کے معاملے میں بھی سفارتی سرگرمیوں کے دوران محدود جنگ بندی، توانائی اور اناج سے متعلق اہداف پر بات چیت کی کوششیں سامنے آئیں۔
یہ خبریں شاید میزائلوں کی خبروں جتنی سنسنی خیز نہ ہوں، مگر تاریخ میں کبھی کبھی یہی چھوٹے رابطے بڑی جنگوں کو روکنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اصل خطرہ جنگ نہیں، جنگ کی معمولی ہوتی ہوئی زبان ہے!
آج دنیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جنگ کی زبان عام ہوتی جا رہی ہے۔ دھمکیاں معمول بن رہی ہیں:
"تباہ کر دیں گے۔”
"ختم کر دیں گے۔”
"جواب ایسا ہوگا کہ دنیا یاد رکھے گی۔”
ایسی زبان سیاسی جلسوں میں شاید طاقت کی علامت سمجھی جائے، مگر ایٹمی دور میں اس کے نتائج خوفناک ہو سکتے ہیں۔ ستمبر 2026ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی میٹنگ میں ایران کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے اور مزید شدید کارروائی کا امکان ظاہر کیا۔ اسی عرصے میں سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں۔
یہ تضاد ایک بنیادی سبق دیتا ہے: طاقت کا مظاہرہ اور جنگ سے بچنے کی کوشش بیک وقت چل سکتی ہے، مگر ایک غلط قدم دونوں کے درمیان توازن ختم کر سکتا ہے۔
تیسری عالمی جنگ اگر ہوئی تو وہ 1940ء کی دہائی جیسی نہیں ہوگی!
آج کی عالمی جنگ لازماً ٹینکوں اور فوجوں کے ایک دوسرے کے ملکوں میں داخل ہونے سے شروع نہیں ہوگی۔ یہ سائبر حملوں سے شروع ہو سکتی ہے۔ کسی ملک کا بجلی کا نظام بند ہو سکتا ہے، بینکنگ نیٹ ورک مفلوج ہو سکتا ہے، سیٹلائٹ متاثر ہو سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت غلط اطلاعات کو لاکھوں لوگوں تک چند منٹوں میں پہنچا سکتی ہے۔
ڈرون سرحدوں کے پار جا سکتے ہیں، بحری راستے بند ہو سکتے ہیں اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایک ملک یہ سمجھ سکتا ہے کہ جنگ شروع ہو چکی ہے جبکہ دوسرا دعویٰ کر رہا ہو کہ وہ صرف "جواب” دے رہا ہے۔ مستقبل کی جنگ میں امن اور جنگ کے درمیان لکیر مزید دھندلی ہو سکتی ہے۔
ICRC بھی خبردار کر چکا ہے کہ ڈرون، مصنوعی ذہانت اور سائبر آپریشنز جنگ کے طریقوں کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں اور ان کے اثرات عام شہریوں پر انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
یہ سوال صرف حکومتوں سے متعلق نہیں۔ ہم عام لوگ بھی اس دنیا کا حصہ ہیں۔ ہمیں جنگی خبروں کو ذمہ داری کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔ ہر ویڈیو سچ نہیں ہوتی، ہر دعویٰ خبر نہیں ہوتا اور ہر وائرل پوسٹ حقیقت نہیں ہوتی۔ غلط معلومات بھی جنگ کا ہتھیار بن چکی ہیں۔
اگر ایک جعلی خبر لاکھوں لوگوں کو یہ یقین دلا دے کہ "دشمن نے حملہ کر دیا ہے” تو عوامی دباؤ کسی حکومت کو ایسے ردعمل کی طرف دھکیل سکتا ہے جو حقیقت میں ضروری نہ ہو۔ اس لئے آج کے دور میں امن صرف سفارت کاروں کی ذمہ داری نہیں، سچ کی حفاظت بھی امن کی حفاظت ہے۔
حکومتوں کی ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے: ہاٹ لائنز قائم رہیں، فوجی رابطے برقرار رہیں، ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں غلط فہمی کم کی جائے، بین الاقوامی قانون کا احترام ہو اور جنگی بحرانوں کے لئے براہِ راست مذاکرات کے دروازے کبھی مکمل طور پر بند نہ کیے جائیں۔
انسانیت کے سامنے اصل انتخاب!
دنیا آج ایک عجیب مقام پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ہمارے پاس تاریخ کی سب سے تباہ کن فوجی ٹیکنالوجی ہے، دوسری طرف تاریخ کی سب سے وسیع معاشی اور انسانی باہمی وابستگی۔
تیل ایک ملک سے آتا ہے، صنعت دوسرے میں چلتی ہے، پرزہ تیسرے ملک میں بنتا ہے، سافٹ ویئر چوتھے میں تیار ہوتا ہے اور صارف پانچویں ملک میں ہوتا ہے۔ اس دنیا میں مکمل جنگ کا مطلب صرف فوجی تباہی نہیں بلکہ عالمی معیشت، خوراک، توانائی، مواصلات اور انسانی زندگی کے پورے نظام پر ضرب ہے۔
اسی لئے آج کی سب سے بڑی دانش مندی شاید یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون طاقت کے باوجود جنگ کو روک سکتا ہے۔
آخری سوال: کیا دنیا جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟
ہاں، خطرات بڑھے ہیں۔ نہیں، یہ کہنا درست نہیں کہ عالمی جنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ دونوں باتیں بیک وقت درست ہو سکتی ہیں۔
روس اور نیٹو کے درمیان تناؤ، مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کا تصادم، تائیوان کے گرد چین اور امریکہ کی کشیدگی، ایٹمی ہتھیاروں کی جدید کاری اور عالمی نظام میں بڑھتی ہوئی بے یقینی ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جسے نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا۔
مگر اسی تصویر میں امید کے رنگ بھی موجود ہیں۔ امریکہ اور چین بات کر رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان محدود معاملات پر جنگ بندی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ اب بھی ایک ایسا مقام ہے جہاں دشمن ممالک ایک ہی عمارت میں بیٹھتے ہیں۔
دنیا جنگ کے کنارے تک پہنچ سکتی ہے، مگر انسانیت کے پاس ہر لمحے واپسی کا راستہ موجود رہتا ہے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض اوقات انسان یہ سمجھتا ہے کہ اگلی جنگ کی قیمت بہت زیادہ ہے، لیکن آج ہمارے پاس اس قیمت کو ادا کرنے سے پہلے رک جانے کا موقع ہے۔
شاید ہماری نسل کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے: کیا ہم اپنے اختلافات کو اتنا بڑا بنا دیں گے کہ انسانیت چھوٹی پڑ جائے؟ کیا ہم قومی وقار، جغرافیائی مفاد اور طاقت کی سیاست کو انسانی زندگی سے اوپر رکھ دیں گے؟ یا ہم یہ تسلیم کریں گے کہ کوئی بھی سرحد اتنی قیمتی نہیں کہ اس کے لئے پوری نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا جائے؟
دنیا کو آج ایک نئے ہتھیار سے زیادہ ایک نئے حوصلے کی ضرورت ہے۔ وہ حوصلہ جو دشمن سے بات کر سکے، وہ عقل جو بدترین صورتِ حال کی تیاری کرے مگر اسے پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے، اور وہ قیادت جو فتح کے نعرے سے پہلے انسانی جان کی قیمت سمجھے۔
دنیا واقعی ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی ہے، لیکن عالمی جنگ ابھی تقدیر نہیں ہے۔ جنگ انسان بناتا ہے، اور اگر جنگ انسان بنا سکتا ہے تو امن بھی انسان بنا سکتا ہے۔ آج فیصلہ میزائلوں کے پاس نہیں، انسانوں کے پاس ہے۔
شاید آنے والی تاریخ کا سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ دنیا کے پاس کتنے ایٹمی ہتھیار تھے، بلکہ یہ ہوگا کہ اتنے ہتھیار رکھنے کے باوجود انسان نے خود کو تباہ کرنے سے کیسے روکا؟


