اسکولوں کے دروازوں پر صحت کا پہرہ

جموں و کشمیر کےانتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میںJUNK FOODکی فروخت اور تشہیر پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ نہایت بروقت اور قابل ستائش ہے۔ اس ہدایت کے تحت اسکولوں کے احاطے اور ان کے داخلی دروازوں کے پچاس میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش غذاؤں کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔یقیناً یہ ہماری نئی نسل کی صحت اور مستقبل کے تحفظ سے متعلق ایک اہم ذمہ داری کا اظہار ہے۔
آج کے بچے جس تیزی سے بازار کی تیار کردہ غذا، مصنوعی مشروبات، رنگوں اور مختلف کیمیائی اجزا سے بھرپور اشیائے خورونوش کی طرف مائل ہو رہے ہیں، وہ والدین، اساتذہ اور متعلقہ اداروں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ چپس، برگر، پیزا، میٹھے مشروبات اور دیگر غیر صحت بخش غذائیں رفتہ رفتہ بچوں کی روزمرہ خوراک کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ ان چیزوں کی آسان دستیابی نے صحت مند غذا کی اہمیت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
اسکول محض تعلیم حاصل کرنے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ وہ بچوں کی شخصیت، عادات اور طرز زندگی کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ایک طرف کلاس روم میں صحت، صفائی اور اچھی زندگی کے اصول پڑھائے جائیں اور دوسری طرف اسکول کے دروازے پر ہی ایسی غذائیں آسانی سے دستیاب ہوں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہیں، تو یہ ایک واضح تضاد ہے۔ اس لئے اسکولوں اور ان کے اطراف میں جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی ایک مثبت آغاز ہے۔
تاہم مسئلہ صرف جنک فوڈ تک محدود نہیں۔ اسکولوں کے گردونواح میں سگریٹ اور تمباکو کی مصنوعات کی آسان دستیابی اس سے بھی زیادہ سنگین تشویش کا باعث ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اسکول، خصوصاً شہری اور مرکزی علاقوں میں واقع تعلیمی ادارے، ایسے بازاروں اور دکانوں سے گھرے ہوتے ہیں جہاں سگریٹ اور تمباکو کی اشیا بآسانی فروخت کی جاتی ہیں۔
یہ صورت حال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب کم عمر طلبہ روزانہ ان دکانوں کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ بچپن اور لڑکپن تجسس اور اثر پذیری کا زمانہ ہوتا ہے۔ جس چیز کو بار بار آنکھوں کے سامنے دیکھا جائے، اس کی طرف رغبت پیدا ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کے اطراف تمباکو اور سگریٹ کی فروخت کے مسئلے کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا جائے جس سنجیدگی سے غیر صحت بخش غذا کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
قانون اور انتظامی احکامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ صرف ایک حکم نامہ جاری کر دینا کافی نہیں ہوگا۔ متعلقہ محکموں کو باقاعدہ نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اسکولوں کے قریب ایسی اشیا کی فروخت نہ ہو جو بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی: کشمیر سپر لیگ سیزن 2 تیار

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ خیبر سیمنٹ کشمیر سپر لیگ...

سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں تین روزہ قومی کھیل مہم کا آغاز

جنگ نیوز ڈیسک قومی مہم "کھیلے گا بھارت، جیتے گا...

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے شعبۂ جسمانی تعلیم نے فٹ بال مقابلہ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک گاندربل/سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUKashmir) کے شعبۂ...

NITسری نگر میں قومی یومِ کھیل کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی...

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

تازہ ترین خبریں

چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی: کشمیر سپر لیگ سیزن 2 تیار

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ خیبر سیمنٹ کشمیر سپر لیگ...

سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں تین روزہ قومی کھیل مہم کا آغاز

جنگ نیوز ڈیسک قومی مہم "کھیلے گا بھارت، جیتے گا...

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے شعبۂ جسمانی تعلیم نے فٹ بال مقابلہ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک گاندربل/سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUKashmir) کے شعبۂ...

NITسری نگر میں قومی یومِ کھیل کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی...

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسکولوں کے دروازوں پر صحت کا پہرہ

جموں و کشمیر کےانتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میںJUNK FOODکی فروخت اور تشہیر پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ نہایت بروقت اور قابل ستائش ہے۔ اس ہدایت کے تحت اسکولوں کے احاطے اور ان کے داخلی دروازوں کے پچاس میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش غذاؤں کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔یقیناً یہ ہماری نئی نسل کی صحت اور مستقبل کے تحفظ سے متعلق ایک اہم ذمہ داری کا اظہار ہے۔
آج کے بچے جس تیزی سے بازار کی تیار کردہ غذا، مصنوعی مشروبات، رنگوں اور مختلف کیمیائی اجزا سے بھرپور اشیائے خورونوش کی طرف مائل ہو رہے ہیں، وہ والدین، اساتذہ اور متعلقہ اداروں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ چپس، برگر، پیزا، میٹھے مشروبات اور دیگر غیر صحت بخش غذائیں رفتہ رفتہ بچوں کی روزمرہ خوراک کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ ان چیزوں کی آسان دستیابی نے صحت مند غذا کی اہمیت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
اسکول محض تعلیم حاصل کرنے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ وہ بچوں کی شخصیت، عادات اور طرز زندگی کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ایک طرف کلاس روم میں صحت، صفائی اور اچھی زندگی کے اصول پڑھائے جائیں اور دوسری طرف اسکول کے دروازے پر ہی ایسی غذائیں آسانی سے دستیاب ہوں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہیں، تو یہ ایک واضح تضاد ہے۔ اس لئے اسکولوں اور ان کے اطراف میں جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی ایک مثبت آغاز ہے۔
تاہم مسئلہ صرف جنک فوڈ تک محدود نہیں۔ اسکولوں کے گردونواح میں سگریٹ اور تمباکو کی مصنوعات کی آسان دستیابی اس سے بھی زیادہ سنگین تشویش کا باعث ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اسکول، خصوصاً شہری اور مرکزی علاقوں میں واقع تعلیمی ادارے، ایسے بازاروں اور دکانوں سے گھرے ہوتے ہیں جہاں سگریٹ اور تمباکو کی اشیا بآسانی فروخت کی جاتی ہیں۔
یہ صورت حال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب کم عمر طلبہ روزانہ ان دکانوں کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ بچپن اور لڑکپن تجسس اور اثر پذیری کا زمانہ ہوتا ہے۔ جس چیز کو بار بار آنکھوں کے سامنے دیکھا جائے، اس کی طرف رغبت پیدا ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کے اطراف تمباکو اور سگریٹ کی فروخت کے مسئلے کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا جائے جس سنجیدگی سے غیر صحت بخش غذا کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
قانون اور انتظامی احکامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ صرف ایک حکم نامہ جاری کر دینا کافی نہیں ہوگا۔ متعلقہ محکموں کو باقاعدہ نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اسکولوں کے قریب ایسی اشیا کی فروخت نہ ہو جو بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں