جب میں روضۂ رسول ﷺ کے روبرو ہوا

محمد مسلم کبیر

اکتوبر 2024ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ مدینۂ منورہ کی پاکیزہ فضاؤں میں سانس لینے کی سعادت مل رہی تھی۔ دل میں ایک ایسی کیفیت تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا شاید ممکن نہیں۔ انسان جب کسی انتہائی محبوب ہستی سے ملنے کے انتظار میں ہو تو وقت کی رفتار بھی بدل جاتی ہے۔ ایک ایک لمحہ طویل محسوس ہوتا ہے، اور دل بار بار یہی پوچھتا ہے:
وہ لمحہ کب آئے گا؟
وہ ساعت کب آئے گی جب میری آنکھیں روضۂ رسول ﷺ کا دیدار کریں گی؟
میرے ساتھ میرے منجلے فرزندِ ارجمند محمد شہاب مہدی کبیر بھی تھے۔ باپ اور بیٹے کا یہ سفر بظاہر ایک سفر تھا، مگر حقیقت میں یہ ہمارے لئے زندگی کی سب سے بڑی سعادتوں میں سے ایک تھا۔
اور میری اہلیہ اور بہو بھی مستورات کے باب سے داخل ہو کر اسی مقدس مقام کے دیدار سے فیض یاب ہو رہی تھیں۔
ہم سب ایک دوسرے سے دور تھے، مگر ہمارے دل ایک ہی دربار سے وابستہ تھے۔
پھر وہ لمحہ آ گیا۔۔۔!
میں روضۂ رسول ﷺ کے روبرو تھا۔
نہ جانے اس لمحے میرے قدم کیوں رک گئے۔
آنکھیں اٹھیں تو سامنے وہ مقدس مقام تھا جسے دیکھنے کی آرزو دل نے نہ جانے کتنے برسوں سے پال رکھی تھی۔
وہی روضۂ اطہر ﷺ۔۔۔
وہی دربارِ رحمت۔۔۔
وہی شہرِ محبوب۔۔۔
وہی مدینہ، جس کا نام آتے ہی دل کی دھڑکن بدل جاتی ہے۔
میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
میں نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔
آخر کیوں روکتا؟
یہ آنسو غم کے نہیں تھے۔
یہ تو برسوں کی آرزو کے آنسو تھے۔
یہ شکر کے آنسو تھے۔
یہ محبت کے آنسو تھے۔
یہ اس احساس کے آنسو تھے کہ ایک گناہ گار، کمزور اور خطاکار انسان کو بھی اس دربار کی حاضری نصیب ہو گئی جس کی تمنا میں نہ جانے کتنے عاشقانِ رسول ﷺ اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں۔
لب پر درود شریف جاری تھا۔
اللّٰہم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد۔۔۔
مگر عجیب بات تھی کہ درود پڑھتے پڑھتے آواز بھرا جاتی، گلا رندھ جاتا اور آنکھیں پھر نم ہو جاتیں۔
ایسا لگتا تھا جیسے زبان درود پڑھ رہی ہے اور دل رو رہا ہے۔
میں سامنے دیکھ رہا تھا، مگر اندر سے خود کو دیکھ رہا تھا۔
اپنی زندگی۔۔۔
اپنی کوتاہیاں۔۔۔
اپنی خطائیں۔۔۔
اپنی بے احتیاطیاں۔۔۔
اپنی کمزوریاں۔۔۔
سب کچھ یاد آنے لگا۔
دل نے کہا:
اے مسلم کبیر! تو کس کے دربار میں کھڑا ہے؟
یہ وہ دربار ہے جس کے آقا ﷺ نے اپنی امت کے لئے راتوں کو جاگ کر دعائیں کیں۔
یہ وہ نبی ﷺ ہیں جنہیں اپنی امت کی تکلیف گوارا نہ تھی۔
یہ وہ رحمت للعالمین ﷺ ہیں جنہوں نے انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھایا۔
اور میں سوچتا رہا:
کیا میں نے اپنے محبوب ﷺ کی تعلیمات کے ساتھ انصاف کیا؟
کیا میرے اخلاق ویسے ہیں جیسے میرے آقا ﷺ کے اخلاق تھے؟
کیا میرے معاملات میں سچائی ہے؟
کیا میرے دل میں لوگوں کے لئے وہی رحمت ہے؟
کیا میں کسی کا دل تو نہیں دکھاتا؟
کیا میں کسی کی غیبت تو نہیں کرتا؟
کیا میرے اندر بدگمانی، حسد اور نفرت تو نہیں؟
یہ سوالات تھے یا دل پر پڑنے والی دستک؟
میں نہیں جانتا۔
مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ روضۂ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر انسان دوسروں کے عیب تلاش نہیں کرتا۔
اسے صرف اپنے عیب نظر آتے ہیں۔
اور شاید یہی مدینے کی سب سے بڑی تربیت ہے۔
وہاں جا کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ صرف نعت پڑھنے، درود پڑھنے اور آنکھوں میں آنسو لانے کا نام نہیں۔
محبت تو یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اتارے۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلائے۔
کسی بے سہارا کا سہارا بنے۔
کسی کا دل نہ توڑے۔
کسی کی عزت پامال نہ کرے۔
معاملات میں سچا ہو۔
گھر میں محبت بانٹے۔
کمزور پر رحم کرے۔
اور اختلاف کے باوجود انسانیت کا دامن نہ چھوڑے۔
میں روضۂ اطہر ﷺ کے سامنے کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ ہم محبت کا دعویٰ تو بہت کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے کردار ہماری محبت کی گواہی بھی دیتے ہیں؟
آنکھیں پھر بھر آئیں۔
دل نے کہا:
یا رسول اللہ ﷺ! ہم بہت کمزور ہیں۔
ہم بہت خطاکار ہیں۔
ہم آپ ﷺ کی محبت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
مگر آپ ﷺ کی محبت سے محروم بھی نہیں ہونا چاہتے۔
بس اسی کیفیت میں لبوں سے درود جاری رہا۔
میرے ساتھ میرا بیٹا محمد شہاب مہدی کبیر تھا۔ میں نے اسے دیکھا تو دل میں ایک اور احساس جاگا۔
یہ کیسا حسین لمحہ تھا!
باپ اور بیٹا مدینے میں تھے۔
ایک نسل کے بعد دوسری نسل۔
اور دونوں کے دل ایک ہی محبت میں گرفتار۔
دل نے دعا کی:
یا اللہ! جس طرح تو نے مجھے اپنے محبوب ﷺ کے دربار تک پہنچایا، میرے بچوں اور آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی اپنے حبیب ﷺ کی سچی محبت پیدا فرما۔
اور پھر خیال آیا کہ میری اہلیہ اور بہو بھی اسی وقت مستورات کے باب سے حاضری دے رہی ہیں۔
ہم سب کے مقامات الگ تھے، مگر ہماری دعائیں ایک تھیں۔
ہماری آرزو ایک تھی۔
ہماری منزل ایک تھی۔
اور ہمارے دل کا مرکز بھی ایک ہی تھا:
محمد مصطفیٰ ﷺ۔
اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ دنیا کے تمام رشتے، تمام عہدے، تمام دولتیں، تمام شہرتیں اور تمام کامیابیاں ایک طرف۔۔۔ اور مدینے کی ایک حاضری دوسری طرف۔
دنیا میں انسان بہت کچھ حاصل کرنے کے لئے دوڑتا ہے۔
مگر مدینے میں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ اصل دولت کیا ہے۔
وہاں دل دولت مند ہو جاتا ہے۔
آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
زبان پر درود آ جاتا ہے۔
اور انسان اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سوچتا ہے:
یا اللہ! میں اس قابل کہاں تھا؟
پھر دل جواب دیتا ہے:
یہ تمہاری قابلیت نہیں تھی۔
یہ تمہارے رب کا کرم تھا۔
یہ اس محبوب ﷺ کی نسبت تھی جن کے نام پر یہ شہر آباد ہے۔
یہ وہ مقام تھا جہاں کھڑے ہو کر دل چاہتا تھا کہ وقت رک جائے۔
لوگ چلتے رہیں۔
دن گزرتے رہیں۔
راتیں آتی رہیں۔
مگر یہ لمحہ ختم نہ ہو۔
میں بس دیکھتا رہوں۔۔۔
درود پڑھتا رہوں۔۔۔
اور روتا رہوں۔۔۔
لیکن ہر خوب صورت لمحے کی طرح وہ لمحہ بھی گزر گیا۔
قدم آگے بڑھ گئے۔
جسم وہاں سے ہٹ گیا۔
مگر دل؟
دل وہیں رہ گیا۔
آج بھی جب اکتوبر 2024ء کی اس حاضری کو یاد کرتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
آج بھی وہی منظر دل کے پردے پر ابھرتا ہے۔
وہی سبز گنبد۔۔۔
وہی مقدس فضا۔۔۔
وہی درود کی آوازیں۔۔۔
وہی نم آنکھیں۔۔۔
وہی دھڑکتا ہوا دل۔۔۔
اور دل کے اندر سے ایک سوال اٹھتا ہے:
پھر کب بلاؤ گے، یا رسول اللہ ﷺ کے شہر؟
نہ جانے دوبارہ وہ سعادت نصیب ہو یا نہ ہو۔
نہ جانے پھر وہ راستے دیکھ سکوں یا نہ دیکھ سکوں۔
نہ جانے پھر روضۂ اطہر ﷺ کے روبرو کھڑے ہو کر آنکھوں سے آنسو بہانے کا موقع ملے یا نہ ملے۔
اسی لئے اس حاضری کی یاد میرے لئے صرف ایک یاد نہیں۔
یہ میری زندگی کا سرمایہ ہے۔
اور اگر کبھی مجھ سے پوچھا جائے کہ زندگی میں سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا لمحہ کون سا تھا؟
تو شاید میں بہت سی باتیں بھول جاؤں، بہت سے واقعات یاد نہ رہیں، مگر ایک منظر کبھی نہیں بھول سکتا:
میں روضۂ رسول ﷺ کے روبرو کھڑا تھا۔۔۔
آنکھوں میں آنسو تھے۔
لب پر درود تھا۔
دل بے قرار تھا۔
اور روح جیسے کہہ رہی تھی:
بس یہی وہ در ہے، جس کی طلب میں دل نے پوری زندگی گزاری ہے۔
یا اللہ!
اس حاضری کو قبول فرما۔
اس محبت کو قبول فرما۔
ان آنسوؤں کو قبول فرما۔
اور ہمارے دلوں میں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایسی سچی محبت پیدا فرما جو ہمارے الفاظ ہی نہیں، ہماری پوری زندگی سے ظاہر ہو۔آمین یا رب العالمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

جب میں روضۂ رسول ﷺ کے روبرو ہوا

محمد مسلم کبیر

اکتوبر 2024ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ مدینۂ منورہ کی پاکیزہ فضاؤں میں سانس لینے کی سعادت مل رہی تھی۔ دل میں ایک ایسی کیفیت تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا شاید ممکن نہیں۔ انسان جب کسی انتہائی محبوب ہستی سے ملنے کے انتظار میں ہو تو وقت کی رفتار بھی بدل جاتی ہے۔ ایک ایک لمحہ طویل محسوس ہوتا ہے، اور دل بار بار یہی پوچھتا ہے:
وہ لمحہ کب آئے گا؟
وہ ساعت کب آئے گی جب میری آنکھیں روضۂ رسول ﷺ کا دیدار کریں گی؟
میرے ساتھ میرے منجلے فرزندِ ارجمند محمد شہاب مہدی کبیر بھی تھے۔ باپ اور بیٹے کا یہ سفر بظاہر ایک سفر تھا، مگر حقیقت میں یہ ہمارے لئے زندگی کی سب سے بڑی سعادتوں میں سے ایک تھا۔
اور میری اہلیہ اور بہو بھی مستورات کے باب سے داخل ہو کر اسی مقدس مقام کے دیدار سے فیض یاب ہو رہی تھیں۔
ہم سب ایک دوسرے سے دور تھے، مگر ہمارے دل ایک ہی دربار سے وابستہ تھے۔
پھر وہ لمحہ آ گیا۔۔۔!
میں روضۂ رسول ﷺ کے روبرو تھا۔
نہ جانے اس لمحے میرے قدم کیوں رک گئے۔
آنکھیں اٹھیں تو سامنے وہ مقدس مقام تھا جسے دیکھنے کی آرزو دل نے نہ جانے کتنے برسوں سے پال رکھی تھی۔
وہی روضۂ اطہر ﷺ۔۔۔
وہی دربارِ رحمت۔۔۔
وہی شہرِ محبوب۔۔۔
وہی مدینہ، جس کا نام آتے ہی دل کی دھڑکن بدل جاتی ہے۔
میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
میں نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔
آخر کیوں روکتا؟
یہ آنسو غم کے نہیں تھے۔
یہ تو برسوں کی آرزو کے آنسو تھے۔
یہ شکر کے آنسو تھے۔
یہ محبت کے آنسو تھے۔
یہ اس احساس کے آنسو تھے کہ ایک گناہ گار، کمزور اور خطاکار انسان کو بھی اس دربار کی حاضری نصیب ہو گئی جس کی تمنا میں نہ جانے کتنے عاشقانِ رسول ﷺ اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں۔
لب پر درود شریف جاری تھا۔
اللّٰہم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد۔۔۔
مگر عجیب بات تھی کہ درود پڑھتے پڑھتے آواز بھرا جاتی، گلا رندھ جاتا اور آنکھیں پھر نم ہو جاتیں۔
ایسا لگتا تھا جیسے زبان درود پڑھ رہی ہے اور دل رو رہا ہے۔
میں سامنے دیکھ رہا تھا، مگر اندر سے خود کو دیکھ رہا تھا۔
اپنی زندگی۔۔۔
اپنی کوتاہیاں۔۔۔
اپنی خطائیں۔۔۔
اپنی بے احتیاطیاں۔۔۔
اپنی کمزوریاں۔۔۔
سب کچھ یاد آنے لگا۔
دل نے کہا:
اے مسلم کبیر! تو کس کے دربار میں کھڑا ہے؟
یہ وہ دربار ہے جس کے آقا ﷺ نے اپنی امت کے لئے راتوں کو جاگ کر دعائیں کیں۔
یہ وہ نبی ﷺ ہیں جنہیں اپنی امت کی تکلیف گوارا نہ تھی۔
یہ وہ رحمت للعالمین ﷺ ہیں جنہوں نے انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھایا۔
اور میں سوچتا رہا:
کیا میں نے اپنے محبوب ﷺ کی تعلیمات کے ساتھ انصاف کیا؟
کیا میرے اخلاق ویسے ہیں جیسے میرے آقا ﷺ کے اخلاق تھے؟
کیا میرے معاملات میں سچائی ہے؟
کیا میرے دل میں لوگوں کے لئے وہی رحمت ہے؟
کیا میں کسی کا دل تو نہیں دکھاتا؟
کیا میں کسی کی غیبت تو نہیں کرتا؟
کیا میرے اندر بدگمانی، حسد اور نفرت تو نہیں؟
یہ سوالات تھے یا دل پر پڑنے والی دستک؟
میں نہیں جانتا۔
مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ روضۂ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر انسان دوسروں کے عیب تلاش نہیں کرتا۔
اسے صرف اپنے عیب نظر آتے ہیں۔
اور شاید یہی مدینے کی سب سے بڑی تربیت ہے۔
وہاں جا کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ صرف نعت پڑھنے، درود پڑھنے اور آنکھوں میں آنسو لانے کا نام نہیں۔
محبت تو یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اتارے۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلائے۔
کسی بے سہارا کا سہارا بنے۔
کسی کا دل نہ توڑے۔
کسی کی عزت پامال نہ کرے۔
معاملات میں سچا ہو۔
گھر میں محبت بانٹے۔
کمزور پر رحم کرے۔
اور اختلاف کے باوجود انسانیت کا دامن نہ چھوڑے۔
میں روضۂ اطہر ﷺ کے سامنے کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ ہم محبت کا دعویٰ تو بہت کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے کردار ہماری محبت کی گواہی بھی دیتے ہیں؟
آنکھیں پھر بھر آئیں۔
دل نے کہا:
یا رسول اللہ ﷺ! ہم بہت کمزور ہیں۔
ہم بہت خطاکار ہیں۔
ہم آپ ﷺ کی محبت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
مگر آپ ﷺ کی محبت سے محروم بھی نہیں ہونا چاہتے۔
بس اسی کیفیت میں لبوں سے درود جاری رہا۔
میرے ساتھ میرا بیٹا محمد شہاب مہدی کبیر تھا۔ میں نے اسے دیکھا تو دل میں ایک اور احساس جاگا۔
یہ کیسا حسین لمحہ تھا!
باپ اور بیٹا مدینے میں تھے۔
ایک نسل کے بعد دوسری نسل۔
اور دونوں کے دل ایک ہی محبت میں گرفتار۔
دل نے دعا کی:
یا اللہ! جس طرح تو نے مجھے اپنے محبوب ﷺ کے دربار تک پہنچایا، میرے بچوں اور آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی اپنے حبیب ﷺ کی سچی محبت پیدا فرما۔
اور پھر خیال آیا کہ میری اہلیہ اور بہو بھی اسی وقت مستورات کے باب سے حاضری دے رہی ہیں۔
ہم سب کے مقامات الگ تھے، مگر ہماری دعائیں ایک تھیں۔
ہماری آرزو ایک تھی۔
ہماری منزل ایک تھی۔
اور ہمارے دل کا مرکز بھی ایک ہی تھا:
محمد مصطفیٰ ﷺ۔
اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ دنیا کے تمام رشتے، تمام عہدے، تمام دولتیں، تمام شہرتیں اور تمام کامیابیاں ایک طرف۔۔۔ اور مدینے کی ایک حاضری دوسری طرف۔
دنیا میں انسان بہت کچھ حاصل کرنے کے لئے دوڑتا ہے۔
مگر مدینے میں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ اصل دولت کیا ہے۔
وہاں دل دولت مند ہو جاتا ہے۔
آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
زبان پر درود آ جاتا ہے۔
اور انسان اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سوچتا ہے:
یا اللہ! میں اس قابل کہاں تھا؟
پھر دل جواب دیتا ہے:
یہ تمہاری قابلیت نہیں تھی۔
یہ تمہارے رب کا کرم تھا۔
یہ اس محبوب ﷺ کی نسبت تھی جن کے نام پر یہ شہر آباد ہے۔
یہ وہ مقام تھا جہاں کھڑے ہو کر دل چاہتا تھا کہ وقت رک جائے۔
لوگ چلتے رہیں۔
دن گزرتے رہیں۔
راتیں آتی رہیں۔
مگر یہ لمحہ ختم نہ ہو۔
میں بس دیکھتا رہوں۔۔۔
درود پڑھتا رہوں۔۔۔
اور روتا رہوں۔۔۔
لیکن ہر خوب صورت لمحے کی طرح وہ لمحہ بھی گزر گیا۔
قدم آگے بڑھ گئے۔
جسم وہاں سے ہٹ گیا۔
مگر دل؟
دل وہیں رہ گیا۔
آج بھی جب اکتوبر 2024ء کی اس حاضری کو یاد کرتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
آج بھی وہی منظر دل کے پردے پر ابھرتا ہے۔
وہی سبز گنبد۔۔۔
وہی مقدس فضا۔۔۔
وہی درود کی آوازیں۔۔۔
وہی نم آنکھیں۔۔۔
وہی دھڑکتا ہوا دل۔۔۔
اور دل کے اندر سے ایک سوال اٹھتا ہے:
پھر کب بلاؤ گے، یا رسول اللہ ﷺ کے شہر؟
نہ جانے دوبارہ وہ سعادت نصیب ہو یا نہ ہو۔
نہ جانے پھر وہ راستے دیکھ سکوں یا نہ دیکھ سکوں۔
نہ جانے پھر روضۂ اطہر ﷺ کے روبرو کھڑے ہو کر آنکھوں سے آنسو بہانے کا موقع ملے یا نہ ملے۔
اسی لئے اس حاضری کی یاد میرے لئے صرف ایک یاد نہیں۔
یہ میری زندگی کا سرمایہ ہے۔
اور اگر کبھی مجھ سے پوچھا جائے کہ زندگی میں سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا لمحہ کون سا تھا؟
تو شاید میں بہت سی باتیں بھول جاؤں، بہت سے واقعات یاد نہ رہیں، مگر ایک منظر کبھی نہیں بھول سکتا:
میں روضۂ رسول ﷺ کے روبرو کھڑا تھا۔۔۔
آنکھوں میں آنسو تھے۔
لب پر درود تھا۔
دل بے قرار تھا۔
اور روح جیسے کہہ رہی تھی:
بس یہی وہ در ہے، جس کی طلب میں دل نے پوری زندگی گزاری ہے۔
یا اللہ!
اس حاضری کو قبول فرما۔
اس محبت کو قبول فرما۔
ان آنسوؤں کو قبول فرما۔
اور ہمارے دلوں میں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایسی سچی محبت پیدا فرما جو ہمارے الفاظ ہی نہیں، ہماری پوری زندگی سے ظاہر ہو۔آمین یا رب العالمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں