آندھرا پردیش کے ضلع وشاکھاپٹنم میں جمعرات کے روز ایک پرائیویٹ اسکول میں ایل کے جی (LKG) کا ۶ سالہ طالب علم اچانک بے ہوش ہو کر جاں بحق ہو گیا۔ بچے کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ہوم ورک مکمل نہ کرنے پر ٹیچر کے تشدد کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ٹیچر کی مار پیٹ کے بعد بچہ خوفزدہ ہو گیا، روتے ہوئے اسے کھانسی شروع ہوئی اور وہ وہیں گر پڑا۔ اگرچہ بچے کی موت کی اصل وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی ہے، لیکن گھر والوں نے ٹیچر کے تشدد کو ہی اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
پولیس کو ملنے والی اسکول کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیچر بچے کو ڈانٹ رہی ہے، جس کے بعد بچہ روتے ہوئے معافی مانگنے کے انداز میں ہاتھ جوڑ رہا ہے۔ اس کے بعد ٹیچر بچے کے کپڑے درست کرتی ہے اور اسے ایک تھپڑ مارتی ہے۔ چند سیکنڈز بعد بچہ ٹیچر کی گود میں گر جاتا ہے۔ ٹیچر بیٹھے بیٹھے ہی اسے اٹھانے کی کوشش کرتی ہے لیکن بچہ کوئی ردعمل نہیں دیتا۔ پولیس فوٹیج کو اپنی تحقیقات کا حصہ بنا کر معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔
بچے کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں اسکول انتظامیہ کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی، بلکہ انہیں اپنے سالے کے ہاں کام کرنے والے باورچیوں کے ذریعے واقعے کی خبر ملی۔ انہوں نے ان تمام باتوں کو مسترد کر دیا کہ بچہ اسکول جانے سے پہلے بیمار تھا۔ والد کے مطابق بچے کو اسپتال لایا گیا تو وہ پہلے ہی دم توڑ چکا تھا، انہوں نے ٹیچر اور اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی حقیقی وجہ سامنے آسکے گی۔ پولیس نے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اسکول کے عملے سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
آندھرا پردیش کے وزیر برائے انسانی وسائل کی ترقی ناڑا لوکیش نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ایک ۶ سالہ بچے کی اس طرح جان جانا انتہائی دل دہلا دینے والا ہے۔” انہوں نے متاثرہ والدین سے تعزیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت قصورواروں اور اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی اور اس مشکل وقت میں خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔


