جنگ نیوز
پیر کو چند گھنٹوں کی شدید بارش کے بعد سرینگر کے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے، جس سے ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی اور شہر کے نکاسیٔ آب کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے۔
SSCL نے پانی جمع ہونے کی ذمہ داری سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ بیشتر سڑکیں اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت تعمیر نہیں کی گئیں۔ ادھر SMC نے بتایا کہ شہر میں پانی جمع ہونے کے 60 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پانی نکالنے کے لئے ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ دوسری جانب شہریوں نے بار بار پیش آنے والی اس صورتحال پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
اسمارٹ سٹی منصوبے پر پھر سوالات
AIP کے ترجمان انعام النبی نے کہا ہے کہ اسمارٹ سٹی منصوبے پر 792 کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود سرینگر میں ہر بارش کے بعد پانی جمع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے منصوبے کی جوابدہی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔


