عادل سلام
جنگ نیوز
سرینگر/HPRF (ہمالین پالیسی اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن) کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن، سرینگر میں ایک روزہ ’’ینگ تھنکرز میٹ‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں وادی سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی۔ اختتامی اجلاس میں مرکزی وزیرِ مملکت برائے سماجی انصاف و بااختیاری رام داس اٹھاولے نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں حکمرانی، آفات کے انتظام، امن کی تعلیم، دیہی معیشت، ہمالیائی ماحولیاتی نظام، تہذیب و ثقافت اور عصرِ حاضر کے جغرافیائی و معاشی امور سے متعلق تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔ اس موقع پر مقررین نے نوجوان محققین میں پالیسی پر مبنی تحقیق کے فروغ اور خطے کی سماجی، معاشی، ثقافتی اور ماحولیاتی حقیقتوں سے ہم آہنگ علمی کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت کلسٹر یونیورسٹی سرینگر کے وائس چانسلر پروفیسر محمد مبین نے کی، جنہوں نے ہمالیائی ماحولیاتی نظام، خصوصاً جھیلوں، آبی ذخائر، جنگلات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کی۔ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن کی پرنسپل پروفیسر سیما ناز بطور مہمانِ اعزاز شریک ہوئیں، جبکہ ڈاکٹر توقیف، ڈاکٹر وجاہت اور HPRF کے ڈائریکٹر فاضل علی ڈار نے بھی شرکاء کی رہنمائی کی۔
دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر زاہد سلطان نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، معیاری تحقیقی تجزیے اور مستند معلوماتی ذخائر کی تشکیل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ بعد ازاں منتخب محققین نے ماہرین کی جیوری کے روبرو اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ اجلاس کی صدارت سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسر اے۔ رویندر ناتھ نے کی، جنہوں نے ہمالیائی خطے کے علمی، تہذیبی اور ماحولیاتی مستقبل کے لئے ان موضوعات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
تقریب کے دوران HPRF اور ARNI یونیورسٹی کے درمیان تعلیمی تعاون، مشترکہ تحقیق، علمی تبادلۂ خیال اور صلاحیت سازی کے فروغ کے لئے MoU پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر HPRF کا تعارفی کتابچہ بھی جاری کیا گیا۔
HPRF کے بانی ڈائریکٹر سریندر امبردار نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان اہلِ قلم، محققین اور دانشوروں پر مشتمل ایک مضبوط مقامی تھنک ٹینک کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہمالیائی خطے میں علمی اور فکری سرمایہ کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کشمیر میں ’’ٹرانسینڈینٹل نالج سینٹر‘‘ کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مرکزی وزیرِ مملکت رام داس اٹھاولے نے فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نوجوان محققین کو وزارتِ سماجی انصاف و بااختیاری کی مختلف فلاحی اسکیموں سے جوڑنے اور دیگر وزارتوں کے ساتھ بھی تعاون کو یقینی بنانے کا یقین دلایا۔
اختتامی تقریب میں تین بہترین تحقیقی مقالات پیش کرنے والے محققین کو اعزازات سے نوازا گیا۔ HPRF کے میڈیا مینجمنٹ کے مدیر ڈاکٹر پیرزادہ منیر نے کہا کہ نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی سے ایسے علمی قائدین تیار ہوں گے جو تحقیق اور مستند شواہد کی بنیاد پر حقیقت پسندانہ بیانیے کو فروغ دیں گے۔ تقریب کے اختتام پر کنوینر پیر گلزار نے اظہارِ تشکر پیش کیا، جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔

تقریب کے دوران سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسر اے. رویندر ناتھ نے ہمالین پالیسی اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے لیے تحریر کردہ مضمون "Aspirational Youth” پر روزنامہ سرینگر جنگ کے مدیر اعلیٰ بلال بشیر بٹ کو اعزاز سے نوازا۔


