وقت: انسانی زندگی کا اصل سرمایہ اور کامیابی کا راز !

محمد فداء المصطفیٰ
دنیا کی ہر کھوئی ہوئی چیز کسی نہ کسی صورت میں دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ دولت ختم ہو جائے تو محنت سے کمائی جا سکتی ہے، صحت بگڑ جائے تو علاج سے بہتر ہو سکتی ہے، عزت بھی کردار کی پاکیزگی سے دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، مگر ایک دولت ایسی ہے جو ایک لمحہ ہاتھ سے نکل جائے تو قیامت تک واپس نہیں آتی، اور وہ دولت وقت ہے۔ اللہ رب العزت نے زمین و آسمان، سورج و چاند، ستاروں کی چمک، سمندروں کی موجیں، پہاڑوں کی رفعت، ہوا کی تازگی، نباتات کی سرسبزی اور کائنات کی بے شمار نعمتیں انسان کی خدمت کے لئے پیدا فرمائیں، لیکن انسان کو صرف کھانے، کمانے، سونے اور دنیا آباد کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا، بلکہ ایک عظیم مقصد کے لئے تخلیق فرمایا:’’میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔‘‘
اس مقصد کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو سب سے قیمتی سرمایہ عطا فرمایا، وہ اس کی عمر ہے، اور عمر لمحوں، گھنٹوں اور دنوں کا مجموعہ ہے۔ گویا حقیقت میں انسان کی پوری زندگی کا نام ہی وقت ہے۔ افسوس یہ ہے کہ انسان اپنی عمر کو بڑھتی ہوئی سمجھتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر طلوع ہونے والا سورج ہماری زندگی میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ ہماری عمر میں سے ایک دن کم کر دیتا ہے۔ ہر شام ہماری زندگی کا ایک باب بند کر دیتی ہے اور ہر رات ہمیں قبر کے ایک قدم اور قریب لے آتی ہے۔
بزرگوں نے زندگی کی کتنی خوبصورت مثال دی ہے کہ انسان اس برف فروش کی مانند ہے جس کی برف تپتی دھوپ میں رکھی ہو۔ خواہ وہ فروخت کرے یا نہ کرے، برف بہرحال پگھلتی رہتی ہے۔ بالکل اسی طرح خواہ انسان نیکیاں کمائے یا گناہوں میں زندگی گزار دے، اس کی عمر ہر حال میں کم ہوتی رہتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: زندگی کو موت سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور مالداری کو فقر سے پہلے۔‘‘  یہ حدیث دراصل وقت کی قدر کا مکمل منشور ہے۔ اس میں انسان کو بتایا گیا ہے کہ زندگی کے بہترین لمحات ہمیشہ باقی نہیں رہتے، اس لئے انہیں ضائع کرنے کے بجائے انہیں نیکی، علم، عبادت اور خدمتِ خلق میں تبدیل کر دو۔
اسلام شاید دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے وقت کو عبادت کا معیار بنا دیا۔ نماز وقت کے بغیر ادا نہیں ہوتی، روزہ ایک لمحے کی تقدیم و تاخیر سے باطل ہو جاتا ہے، حج کے ارکان مخصوص اوقات کے پابند ہیں، زکوٰۃ کا سال مقرر ہے، عیدین کا وقت مقرر ہے، حتیٰ کہ قربانی کے لئے بھی مخصوص ایام ہیں۔ گویا اسلام کا پورا نظام ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جو شخص وقت کا پابند نہیں، وہ عبادت کی روح کو بھی مکمل طور پر نہیں پا سکتا۔ قرآن کریم نے بھی وقت کی عظمت کو غیر معمولی انداز میں بیان فرمایا۔ کبھی قسم کھا کر فرمایا: وَالْعَصْرِ اور پھر اعلان کر دیا کہ: اِنَّ الِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ، یعنی انسان سراسر خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان، عمل صالح، حق کی تلقین اور صبر کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن انسان سے اس کے مال سے پہلے اس کی عمر کا سوال ہوگا، اور خصوصاً اس کی جوانی کا کہ اسے کہاں صرف کیا۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وقت بہت ہے مگر ترجیحات نہیں۔ گھنٹوں موبائل فون کی اسکرین پر انگلیاں چلتی رہتی ہیں، سوشل میڈیا کی بے مقصد ویڈیوز ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، فضول تبصروں، بے فائدہ بحثوں، لمبی نشستوں اور غیر ضروری مصروفیات میں ہماری زندگیاں تحلیل ہوتی جا رہی ہیں۔ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ جس چیز کو ہم "ٹائم پاس” کہتے ہیں، حقیقت میں وہ ہماری زندگی پاس کر رہی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی عظیم قوموں نے وقت کی قدر کر کے ترقی کی منزلیں طے کیں۔ سائنس، طب، صنعت، معیشت، تعلیم اور تحقیق میں انہی اقوام نے کامیابی حاصل کی جنہوں نے ہر لمحے کو قیمتی سرمایہ سمجھا۔ وہ قومیں صحرا میں شہر آباد کر دیتی ہیں، سمندروں کی تہوں تک پہنچ جاتی ہیں، آسمانوں کو مسخر کر لیتی ہیں اور ستاروں پر کمند ڈال دیتی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ وقت ہی اصل سرمایہ ہے۔ اس کے برعکس جو قومیں وقت کو معمولی چیز سمجھتی ہیں، وقت انہیں معمولی بنا دیتا ہے۔ ان کی صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں، ان کا علم محدود رہ جاتا ہے، ان کی معیشت کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ دوسروں کی محتاج بن جاتی ہیں۔
ذرا تصور کیجیے، اگر ایک نوجوان روزانہ صرف ایک گھنٹہ قرآن، حدیث، فقہ، ادب یا کسی مفید علم کے لئے مخصوص کر لے تو چند برسوں میں اس کی شخصیت بدل سکتی ہے۔ اگر روزانہ صرف دس صفحات کسی معیاری کتاب کے پڑھ لئے جائیں تو ایک سال میں ہزاروں صفحات کا مطالعہ مکمل ہو سکتا ہے۔ اگر روزانہ ایک گھنٹہ کسی ہنر کے لئے وقف کیا جائے تو چند سال بعد وہی شخص اپنے فن کا ماہر بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب اور ناکام انسان کے درمیان سب سے بڑا فرق ذہانت یا دولت نہیں بلکہ وقت کے استعمال کا ہوتا ہے۔ افسوس یہ بھی ہے کہ جس امت کو وقت کا سب سے بڑا محافظ ہونا چاہیے تھا، آج وہی وقت کے ضیاع میں سب سے آگے دکھائی دیتی ہے۔ ہماری تقریبات وقت پر شروع نہیں ہوتیں، ہمارے اجتماعات غیر ضروری طوالت اختیار کر لیتے ہیں، ہمارے تعلیمی اور سماجی معاملات میں وقت کی پابندی کو اہمیت نہیں دی جاتی، حالانکہ اسلام ہمیں نظم، ضبط اور وقت شناسی کا سبق دیتا ہے۔ حکماء نے کیا خوب کہا ہے: ’’وقت ضائع کرنا خودکشی سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ خودکشی انسان کو دنیا سے جدا کرتی ہے، جبکہ وقت کا ضیاع انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔‘‘
آئیے! آج اپنے آپ سے چند سوال کریں۔ کتنی نمازیں قضا ہوئیں؟ کتنے لمحات فضول گفتگو میں گزر گئے؟ کتنے گھنٹے موبائل کی نذر ہو گئے؟ کتنے دن ایسے گزرے جن میں نہ کوئی نیا علم حاصل کیا، نہ کوئی نیکی کی، نہ کسی انسان کو فائدہ پہنچایا؟؟؟ اگر ان سوالات کے جواب ہمیں بے چین کر دیں تو سمجھ لیجیے کہ ہماری روح ابھی زندہ ہے، اور اگر دل میں کوئی اضطراب پیدا نہ ہو تو ہمیں اپنے ایمان اور اپنے طرزِ زندگی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیے! زندگی لمبی ہونے سے زیادہ قیمتی، بابرکت ہونا ضروری ہے۔ وہ شخص کامیاب ہے جس نے اپنی سانسوں کو اللہ کی رضا، بندوں کی خدمت، علم کی طلب اور آخرت کی تیاری میں صرف کیا۔
اللہ رب العزت ہمیں وقت کی حقیقی قدر عطا فرمائے، ہماری زندگی کے ہر لمحے کو اپنی رضا کا ذریعہ بنائے، ہمیں غفلت، سستی اور فضول مشاغل سے محفوظ رکھے، اور ہماری مختصر سی عمر کو دنیا و آخرت کی دائمی کامیابی کا وسیلہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

وقت: انسانی زندگی کا اصل سرمایہ اور کامیابی کا راز !

محمد فداء المصطفیٰ
دنیا کی ہر کھوئی ہوئی چیز کسی نہ کسی صورت میں دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ دولت ختم ہو جائے تو محنت سے کمائی جا سکتی ہے، صحت بگڑ جائے تو علاج سے بہتر ہو سکتی ہے، عزت بھی کردار کی پاکیزگی سے دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، مگر ایک دولت ایسی ہے جو ایک لمحہ ہاتھ سے نکل جائے تو قیامت تک واپس نہیں آتی، اور وہ دولت وقت ہے۔ اللہ رب العزت نے زمین و آسمان، سورج و چاند، ستاروں کی چمک، سمندروں کی موجیں، پہاڑوں کی رفعت، ہوا کی تازگی، نباتات کی سرسبزی اور کائنات کی بے شمار نعمتیں انسان کی خدمت کے لئے پیدا فرمائیں، لیکن انسان کو صرف کھانے، کمانے، سونے اور دنیا آباد کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا، بلکہ ایک عظیم مقصد کے لئے تخلیق فرمایا:’’میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔‘‘
اس مقصد کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو سب سے قیمتی سرمایہ عطا فرمایا، وہ اس کی عمر ہے، اور عمر لمحوں، گھنٹوں اور دنوں کا مجموعہ ہے۔ گویا حقیقت میں انسان کی پوری زندگی کا نام ہی وقت ہے۔ افسوس یہ ہے کہ انسان اپنی عمر کو بڑھتی ہوئی سمجھتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر طلوع ہونے والا سورج ہماری زندگی میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ ہماری عمر میں سے ایک دن کم کر دیتا ہے۔ ہر شام ہماری زندگی کا ایک باب بند کر دیتی ہے اور ہر رات ہمیں قبر کے ایک قدم اور قریب لے آتی ہے۔
بزرگوں نے زندگی کی کتنی خوبصورت مثال دی ہے کہ انسان اس برف فروش کی مانند ہے جس کی برف تپتی دھوپ میں رکھی ہو۔ خواہ وہ فروخت کرے یا نہ کرے، برف بہرحال پگھلتی رہتی ہے۔ بالکل اسی طرح خواہ انسان نیکیاں کمائے یا گناہوں میں زندگی گزار دے، اس کی عمر ہر حال میں کم ہوتی رہتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: زندگی کو موت سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور مالداری کو فقر سے پہلے۔‘‘  یہ حدیث دراصل وقت کی قدر کا مکمل منشور ہے۔ اس میں انسان کو بتایا گیا ہے کہ زندگی کے بہترین لمحات ہمیشہ باقی نہیں رہتے، اس لئے انہیں ضائع کرنے کے بجائے انہیں نیکی، علم، عبادت اور خدمتِ خلق میں تبدیل کر دو۔
اسلام شاید دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے وقت کو عبادت کا معیار بنا دیا۔ نماز وقت کے بغیر ادا نہیں ہوتی، روزہ ایک لمحے کی تقدیم و تاخیر سے باطل ہو جاتا ہے، حج کے ارکان مخصوص اوقات کے پابند ہیں، زکوٰۃ کا سال مقرر ہے، عیدین کا وقت مقرر ہے، حتیٰ کہ قربانی کے لئے بھی مخصوص ایام ہیں۔ گویا اسلام کا پورا نظام ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جو شخص وقت کا پابند نہیں، وہ عبادت کی روح کو بھی مکمل طور پر نہیں پا سکتا۔ قرآن کریم نے بھی وقت کی عظمت کو غیر معمولی انداز میں بیان فرمایا۔ کبھی قسم کھا کر فرمایا: وَالْعَصْرِ اور پھر اعلان کر دیا کہ: اِنَّ الِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ، یعنی انسان سراسر خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان، عمل صالح، حق کی تلقین اور صبر کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن انسان سے اس کے مال سے پہلے اس کی عمر کا سوال ہوگا، اور خصوصاً اس کی جوانی کا کہ اسے کہاں صرف کیا۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وقت بہت ہے مگر ترجیحات نہیں۔ گھنٹوں موبائل فون کی اسکرین پر انگلیاں چلتی رہتی ہیں، سوشل میڈیا کی بے مقصد ویڈیوز ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، فضول تبصروں، بے فائدہ بحثوں، لمبی نشستوں اور غیر ضروری مصروفیات میں ہماری زندگیاں تحلیل ہوتی جا رہی ہیں۔ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ جس چیز کو ہم "ٹائم پاس” کہتے ہیں، حقیقت میں وہ ہماری زندگی پاس کر رہی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی عظیم قوموں نے وقت کی قدر کر کے ترقی کی منزلیں طے کیں۔ سائنس، طب، صنعت، معیشت، تعلیم اور تحقیق میں انہی اقوام نے کامیابی حاصل کی جنہوں نے ہر لمحے کو قیمتی سرمایہ سمجھا۔ وہ قومیں صحرا میں شہر آباد کر دیتی ہیں، سمندروں کی تہوں تک پہنچ جاتی ہیں، آسمانوں کو مسخر کر لیتی ہیں اور ستاروں پر کمند ڈال دیتی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ وقت ہی اصل سرمایہ ہے۔ اس کے برعکس جو قومیں وقت کو معمولی چیز سمجھتی ہیں، وقت انہیں معمولی بنا دیتا ہے۔ ان کی صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں، ان کا علم محدود رہ جاتا ہے، ان کی معیشت کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ دوسروں کی محتاج بن جاتی ہیں۔
ذرا تصور کیجیے، اگر ایک نوجوان روزانہ صرف ایک گھنٹہ قرآن، حدیث، فقہ، ادب یا کسی مفید علم کے لئے مخصوص کر لے تو چند برسوں میں اس کی شخصیت بدل سکتی ہے۔ اگر روزانہ صرف دس صفحات کسی معیاری کتاب کے پڑھ لئے جائیں تو ایک سال میں ہزاروں صفحات کا مطالعہ مکمل ہو سکتا ہے۔ اگر روزانہ ایک گھنٹہ کسی ہنر کے لئے وقف کیا جائے تو چند سال بعد وہی شخص اپنے فن کا ماہر بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب اور ناکام انسان کے درمیان سب سے بڑا فرق ذہانت یا دولت نہیں بلکہ وقت کے استعمال کا ہوتا ہے۔ افسوس یہ بھی ہے کہ جس امت کو وقت کا سب سے بڑا محافظ ہونا چاہیے تھا، آج وہی وقت کے ضیاع میں سب سے آگے دکھائی دیتی ہے۔ ہماری تقریبات وقت پر شروع نہیں ہوتیں، ہمارے اجتماعات غیر ضروری طوالت اختیار کر لیتے ہیں، ہمارے تعلیمی اور سماجی معاملات میں وقت کی پابندی کو اہمیت نہیں دی جاتی، حالانکہ اسلام ہمیں نظم، ضبط اور وقت شناسی کا سبق دیتا ہے۔ حکماء نے کیا خوب کہا ہے: ’’وقت ضائع کرنا خودکشی سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ خودکشی انسان کو دنیا سے جدا کرتی ہے، جبکہ وقت کا ضیاع انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔‘‘
آئیے! آج اپنے آپ سے چند سوال کریں۔ کتنی نمازیں قضا ہوئیں؟ کتنے لمحات فضول گفتگو میں گزر گئے؟ کتنے گھنٹے موبائل کی نذر ہو گئے؟ کتنے دن ایسے گزرے جن میں نہ کوئی نیا علم حاصل کیا، نہ کوئی نیکی کی، نہ کسی انسان کو فائدہ پہنچایا؟؟؟ اگر ان سوالات کے جواب ہمیں بے چین کر دیں تو سمجھ لیجیے کہ ہماری روح ابھی زندہ ہے، اور اگر دل میں کوئی اضطراب پیدا نہ ہو تو ہمیں اپنے ایمان اور اپنے طرزِ زندگی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیے! زندگی لمبی ہونے سے زیادہ قیمتی، بابرکت ہونا ضروری ہے۔ وہ شخص کامیاب ہے جس نے اپنی سانسوں کو اللہ کی رضا، بندوں کی خدمت، علم کی طلب اور آخرت کی تیاری میں صرف کیا۔
اللہ رب العزت ہمیں وقت کی حقیقی قدر عطا فرمائے، ہماری زندگی کے ہر لمحے کو اپنی رضا کا ذریعہ بنائے، ہمیں غفلت، سستی اور فضول مشاغل سے محفوظ رکھے، اور ہماری مختصر سی عمر کو دنیا و آخرت کی دائمی کامیابی کا وسیلہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں