جنگ نیوز ڈیسک
میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ریذیڈنسی روڈ پر ایک افتتاحی تقریب کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’آج جب ہم عالمی امن کی بات کرتے ہیں تو مجھے خوشی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مکالمے کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایک بار پھر اس ہفتے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت متوقع ہے۔ ہم نے ہمیشہ ایسی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
اسی تناظر میں گزشتہ جمعہ کو جامع مسجد سرینگر میں، میں نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اور ایران کشیدگی کے بعد مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان بھی مسائل کے حل کے لیے ایک ساتھ بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت میں نے بھارت کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ مکالمے کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ جنگوں سے تنازعات حل نہیں ہوتے۔ مسائل بات چیت ہی کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔
لوگوں کو اس پس منظر کو سمجھنا چاہیے جس میں، میں نے یہ باتیں کہیں۔ میرا ماننا ہے کہ آج ہمارے خطے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ برصغیرِ ہند میں زبردست معاشی مواقع اور وافر انسانی وسائل موجود ہیں۔ اگر برصغیر کی قیادت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی سمت کام کرے تو پورا خطہ آگے بڑھ سکتا ہے اور خوشحال ہو سکتا ہے۔
میرا یقین ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی دیرینہ مسائل، بشمول مسئلہ کشمیر، کے حل کا بہترین راستہ فراہم کرتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ بھارت، پاکستان اور کشمیر کی قیادت ایسی کوششوں کی حمایت کرے گی تاکہ امن کو مضبوط بنایا جا سکے اور مسائل پُرامن ذرائع سے حل ہوں۔‘‘
ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے کشمیر کے مسلمانوں میں اتحاد پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلسِ علماء کے تمام اراکین اس اہم مسئلہ پر متفق ہیں کہ تمام مسالک کے اندر اور مسالک کے درمیان اتحاد کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کبھی بین المسالک یا داخلی سطح پر کوئی غلط فہمی پیدا ہو تو اسے نیک نیتی، بات چیت اور مسلمانوں کے وسیع تر اتحاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔
میرواعظ نے زور دے کر کہا کہ لوگ صرف اتحاد کے ذریعے ہی اپنی شناخت اور مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔


