واشنگٹن:
امریکہ اور ایران نے ایک اہم جنگ بندی اور امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور امن کے قیام کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر میں کمی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ امریکہ نے اقتصادی پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات پر عائد رکاوٹوں کے خاتمے اور ایران کی معاشی بحالی میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔
یہ معاہدہ فرانس میں جی-7 سربراہی اجلاس کے بعد ہونے والی ایک خصوصی ملاقات کے دوران طے پایا، جہاں دونوں ممالک کے صدور نے دستاویز پر دستخط کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق باضابطہ طور پر اس پر متفق ہو چکے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سرکاری خبر رساں ادارے کے ذریعے معاہدے کی توثیق کی۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، جنہیں مذاکرات میں اہم ثالثی کردار کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، نے اعلان کیا کہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
معاہدے کا مقصد اس تنازع کا خاتمہ ہے جو فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس دوران ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ جواباً امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
نئے معاہدے کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرے گا اور امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ ساتھ ہی واشنگٹن ایران پر عائد تیل سے متعلق پابندیوں کو بھی واپس لے گا، جس سے ایرانی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر محدود کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عالمی برادری کے خدشات میں کمی آئے گی۔
معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر آئندہ مذاکرات مثبت نتائج دیتے ہیں اور ایران طے شدہ شرائط پر عمل درآمد جاری رکھتا ہے تو اس کی معاشی ترقی اور تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے ایک بڑے فنڈ کے قیام میں مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم یہ رقم براہِ راست امریکی حکومت نہیں بلکہ علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے مہیا کی جائے گی۔
آئندہ دو ماہ کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے جن میں جوہری معاملات، اقتصادی تعاون اور دیرپا علاقائی امن کے لیے اضافی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے معاہدے کو ایران کی کامیابی قرار دیا، جبکہ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے بھی اسے ایران کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا۔


