کہانی حجاز کی, مدینہ منورہ کا روح پرور سفر ،ایک نورانی داستان

توصیف احمد وانی

ایرپورٹ سے مدینہ منورہ کی طرف ہماری مسافر بس مسلسل رواں دواں تھی۔ بس میں سوار تمام زائرین مدینہ منورہ پہنچنے کی خوشی میں ذکرِ الٰہی، درودِ پاک، تسبیحات اور تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول تھے۔ ہر چہرے پر سرور، ہر دل میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہر زبان پر صلوٰۃ و سلام جاری تھا۔ شاہراہ کے دونوں اطراف کہیں فلک بوس پہاڑ دکھائی دیتے تھے اور کہیں دور دور تک پھیلا ہوا سنہرا صحرا اپنی خاموشی میں قدرتِ الٰہی کی عظمت بیان کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد گاڑی کے منتظم نے ایک آرام گاہ اور طعام خانے پر مختصر قیام کیا۔ تمام مسافروں نے کھانا تناول کیا، وضو کیا اور تازہ دم ہونے کے لیے سرسبز میدان میں آہستہ آہستہ چہل قدمی کرنے لگے۔ بعض لوگ تسبیح ہاتھ میں لیے درودِ پاک پڑھ رہے تھے، کچھ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے رب سے راز و نیاز کر رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد گاڑی کے بگل کی بلند آواز گونجی تو تمام زائرین ادب و شوق کے ساتھ دوبارہ اپنی نشستوں پر آ بیٹھے۔
بس ایک مرتبہ پھر منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہو گئی۔ اب گاڑی کے اندر روحانیت کا ایسا سماں تھا کہ دل خوشی سے جھوم اٹھتا تھا۔ کسی کے لبوں پر قرآنِ مجید کی تلاوت تھی، کسی کے ہاتھ میں تسبیح تھی، کوئی درودِ پاک کا ورد کر رہا تھا اور کوئی خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ محبوب کے شہر سے قربت کی خوشخبری دے رہا تھا۔چند گھنٹوں بعد امیرِ قافلہ نے نہایت محبت بھرے انداز میں اعلان کیا: "الحمدللہ! اب ہم بہت جلد مدینہ منورہ میں داخل ہونے والے ہیں۔”
یہ سنتے ہی ہر آنکھ نم ہو گئی، ہر دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور ہر زبان پر بے اختیار درود و سلام جاری ہو گیا۔ پھر وہ ساعتِ سعادت آ پہنچی جس کا برسوں سے انتظار تھا۔ دور افق پر نورانی منظر دکھائی دیا۔ جونہی سبز گنبد پر نظر پڑی، آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہ نکلا۔ بس میں سوار تمام زائرین نے بلند آواز سے درودِ پاک پڑھنا شروع کر دیا۔ بعض خوش نصیب نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھنے لگے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ روح جسم سے نکل کر درِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضر ہو گئی ہو۔
بس مسجد نبوی کے سامنے سے گزرتی ہوئی ہماری قیام گاہ تک پہنچی۔ ہم نے اپنا سامان کمرے میں رکھا، وضو کیا اور نمازِ عصر کی ادائیگی کے لیے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب فلائی اوور کے نیچے بنی سڑک کو عبور کر رہے تھے تو سڑک کے دونوں اطراف آنے والی گاڑیاں رک گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے پوری دنیا زائرینِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احترام میں ٹھہر گئی ہو۔جونہی ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پیدل چلنے لگے تو سامنے سبز گنبد شریف کا نورانی منظر دکھائی دیا۔ دل کی کیفیت ایسی ہوئی جیسے جسم سے جان نکل گئی ہو۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے، قدم ادب سے آہستہ آہستہ اٹھ رہے تھے اور زبان پر مسلسل درودِ پاک جاری تھا۔ ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دروازہ نمبر تین سو اٹھارہ سے داخل ہوئے، نمازِ عصر ادا کی اور بلند و بالا میناروں کو دیکھ کر بچپن کی پڑھی ہوئی نعت بے اختیار یاد آ گئی:
جب مسجدِ نبوی کے مینار نظر آئے
اللہ کی رحمت کے آثار نظر آئے
اب روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قدم بڑھ رہے تھے۔ زبان پر مسلسل درود و سلام تھا، دل بے قابو ہو رہا تھا اور آنکھیں اشکبار تھیں۔ جونہی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنہری جالیوں کے سامنے حاضر ہوا تو ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ میں دھاڑیں مار مار کر روتا رہا اور دل سے صرف یہی الفاظ نکل رہے تھے:
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بڑی مشکل سے آپ کے درِ اقدس تک پہنچا ہوں۔ برسوں سے یہی آرزو دل میں تھی، آج اللہ تعالیٰ نے اسے پورا فرما دیا۔”
وہاں کھڑے ہو کر اپنے والدین، اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں مانگتا رہا۔ دل کو ایسا سکون نصیب ہوا جو دنیا کی کسی نعمت سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ کچھ دیر بعد وہاں موجود محافظ نے نہایت محبت سے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ میں آہستہ آہستہ باہر آیا، مگر دل وہیں رہ گیا۔
نمازِ عشاء کے بعد اپنی قیام گاہ واپس آ گیا۔ میری رہائش باب السلام کے بالکل سامنے تھی، جہاں سے دور ہی سے روضۂ اقدس کی زیارت ہو جاتی تھی۔ رات بھر یہی احساس دل کو مسرور کرتا رہا کہ میں کس قدر خوش نصیب ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر میں حاضری نصیب فرمائی۔
اگلی صبح نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد جنت البقیٰ کی زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ جونہی مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا، دل پر ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہو گئی۔ اہلِ بیت اطہار، صحابۂ کرام اور بے شمار مقدس ہستیوں کی قبورِ مبارکہ کو دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ خاموش فضا ایمان کو تازگی اور دل کو نور بخش رہی تھی۔
مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مسجد قباء،مسجد قبلتین ، مسجد جمعہ، مسجد غمامہ، مسجد فتح اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ جنگ احد پر سید الشہداء حضرت امیر حمزہ اور دیگر شہدائے اُحد کی قبور پر حاضری دی۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باغ میں کھجوریں تناول کرنے کا موقع بھی ملا۔
ہر روز روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر گھنٹوں درودِ پاک پڑھتا، دعائیں مانگتا اور سبز گنبد کو دیکھ کر دل و روح کو سکون نصیب ہوتا۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیع صحن، سفید سنگِ مرمر، سایہ دار چھتریاں، خوشگوار ہوائیں اور نورانی ماحول دل کو مسحور کر دیتا تھا۔
ایک روز ریاض الجنتہ میں حاضری کا اجازت نامہ ملا۔ مقررہ وقت پر حاضر ہو کر نوافل ادا کیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر مبارک اور مبارک مقام کی زیارت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ ریاض الجنہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ اس مقدس مقام پر کھڑے ہو کر واقعی ایسا محسوس ہوا جیسے جنت کی ٹھنڈی اور معطر ہواؤں میں سانس لے رہا ہوں۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک وہاں عبادت اور دعا میں مشغول رہا۔
مدینہ منورہ میں ہر طرف نور ہی نور تھا۔ دل ہر لمحہ خوشی، محبت اور عقیدت سے لبریز رہتا تھا۔ جب خوشی حد سے بڑھ جاتی تو بے اختیار یہی دعا لبوں پر آتی: "اے اللہ تعالیٰ! ہر مسلمان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی بار بار حاضری نصیب فرما۔”
دس دن کے اس مبارک قیام نے دل و روح کو ایسا سکون عطا کیا کہ بار بار دل سے یہی دعا نکلتی: "اے میرے پروردگار! اگر تیری رضا ہو تو میری آخری سانس اسی مبارک شہر میں ہو۔”
مگر وقت گزرتا گیا اور واپسی کا دن آ پہنچا۔ یہ زندگی کے سب سے مشکل اور رنجیدہ لمحات میں سے ایک تھا۔ آخری بار روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضر ہوا تو قدم لڑکھڑا رہے تھے، زبان خاموش تھی، دل غم سے بوجھل تھا اور آنکھیں مسلسل اشکبار تھیں۔ دل سے صرف یہی صدا نکل رہی تھی:
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اجازت عطا فرمائیے، مگر میرا دل اپنے شہر میں ہی رہنے دیجیے۔”
اس کے بعد ہم مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں احرام باندھا اور خانہ کعبہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا۔ گلشنے بہار ٹور اینڈ ٹولز کے روح رواں مولانا یاسین احمد قادری صاحب کی صدارت ھمارے لیے باعث فخر تھا .
۔آج بھی جب مدینہ منورہ کے وہ نورانی لمحات یاد آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنے گھر خانۂ کعبہ اور اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کی بار بار حاضری نصیب فرمائے، ایمان کو تازگی عطا کرے، دلوں کو نورِ محبت سے بھر دے اور مدینہ منورہ کی محبت ہمیشہ ہمارے سینوں میں زندہ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔۔
مصنف سید حسن منطقی ریسرچ اکیڈمی کے سربراہ ہیں۔
ضضض

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

کہانی حجاز کی, مدینہ منورہ کا روح پرور سفر ،ایک نورانی داستان

توصیف احمد وانی

ایرپورٹ سے مدینہ منورہ کی طرف ہماری مسافر بس مسلسل رواں دواں تھی۔ بس میں سوار تمام زائرین مدینہ منورہ پہنچنے کی خوشی میں ذکرِ الٰہی، درودِ پاک، تسبیحات اور تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول تھے۔ ہر چہرے پر سرور، ہر دل میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہر زبان پر صلوٰۃ و سلام جاری تھا۔ شاہراہ کے دونوں اطراف کہیں فلک بوس پہاڑ دکھائی دیتے تھے اور کہیں دور دور تک پھیلا ہوا سنہرا صحرا اپنی خاموشی میں قدرتِ الٰہی کی عظمت بیان کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد گاڑی کے منتظم نے ایک آرام گاہ اور طعام خانے پر مختصر قیام کیا۔ تمام مسافروں نے کھانا تناول کیا، وضو کیا اور تازہ دم ہونے کے لیے سرسبز میدان میں آہستہ آہستہ چہل قدمی کرنے لگے۔ بعض لوگ تسبیح ہاتھ میں لیے درودِ پاک پڑھ رہے تھے، کچھ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے رب سے راز و نیاز کر رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد گاڑی کے بگل کی بلند آواز گونجی تو تمام زائرین ادب و شوق کے ساتھ دوبارہ اپنی نشستوں پر آ بیٹھے۔
بس ایک مرتبہ پھر منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہو گئی۔ اب گاڑی کے اندر روحانیت کا ایسا سماں تھا کہ دل خوشی سے جھوم اٹھتا تھا۔ کسی کے لبوں پر قرآنِ مجید کی تلاوت تھی، کسی کے ہاتھ میں تسبیح تھی، کوئی درودِ پاک کا ورد کر رہا تھا اور کوئی خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ محبوب کے شہر سے قربت کی خوشخبری دے رہا تھا۔چند گھنٹوں بعد امیرِ قافلہ نے نہایت محبت بھرے انداز میں اعلان کیا: "الحمدللہ! اب ہم بہت جلد مدینہ منورہ میں داخل ہونے والے ہیں۔”
یہ سنتے ہی ہر آنکھ نم ہو گئی، ہر دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور ہر زبان پر بے اختیار درود و سلام جاری ہو گیا۔ پھر وہ ساعتِ سعادت آ پہنچی جس کا برسوں سے انتظار تھا۔ دور افق پر نورانی منظر دکھائی دیا۔ جونہی سبز گنبد پر نظر پڑی، آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہ نکلا۔ بس میں سوار تمام زائرین نے بلند آواز سے درودِ پاک پڑھنا شروع کر دیا۔ بعض خوش نصیب نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھنے لگے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ روح جسم سے نکل کر درِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضر ہو گئی ہو۔
بس مسجد نبوی کے سامنے سے گزرتی ہوئی ہماری قیام گاہ تک پہنچی۔ ہم نے اپنا سامان کمرے میں رکھا، وضو کیا اور نمازِ عصر کی ادائیگی کے لیے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب فلائی اوور کے نیچے بنی سڑک کو عبور کر رہے تھے تو سڑک کے دونوں اطراف آنے والی گاڑیاں رک گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے پوری دنیا زائرینِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احترام میں ٹھہر گئی ہو۔جونہی ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پیدل چلنے لگے تو سامنے سبز گنبد شریف کا نورانی منظر دکھائی دیا۔ دل کی کیفیت ایسی ہوئی جیسے جسم سے جان نکل گئی ہو۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے، قدم ادب سے آہستہ آہستہ اٹھ رہے تھے اور زبان پر مسلسل درودِ پاک جاری تھا۔ ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دروازہ نمبر تین سو اٹھارہ سے داخل ہوئے، نمازِ عصر ادا کی اور بلند و بالا میناروں کو دیکھ کر بچپن کی پڑھی ہوئی نعت بے اختیار یاد آ گئی:
جب مسجدِ نبوی کے مینار نظر آئے
اللہ کی رحمت کے آثار نظر آئے
اب روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قدم بڑھ رہے تھے۔ زبان پر مسلسل درود و سلام تھا، دل بے قابو ہو رہا تھا اور آنکھیں اشکبار تھیں۔ جونہی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنہری جالیوں کے سامنے حاضر ہوا تو ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ میں دھاڑیں مار مار کر روتا رہا اور دل سے صرف یہی الفاظ نکل رہے تھے:
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بڑی مشکل سے آپ کے درِ اقدس تک پہنچا ہوں۔ برسوں سے یہی آرزو دل میں تھی، آج اللہ تعالیٰ نے اسے پورا فرما دیا۔”
وہاں کھڑے ہو کر اپنے والدین، اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں مانگتا رہا۔ دل کو ایسا سکون نصیب ہوا جو دنیا کی کسی نعمت سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ کچھ دیر بعد وہاں موجود محافظ نے نہایت محبت سے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ میں آہستہ آہستہ باہر آیا، مگر دل وہیں رہ گیا۔
نمازِ عشاء کے بعد اپنی قیام گاہ واپس آ گیا۔ میری رہائش باب السلام کے بالکل سامنے تھی، جہاں سے دور ہی سے روضۂ اقدس کی زیارت ہو جاتی تھی۔ رات بھر یہی احساس دل کو مسرور کرتا رہا کہ میں کس قدر خوش نصیب ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر میں حاضری نصیب فرمائی۔
اگلی صبح نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد جنت البقیٰ کی زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ جونہی مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا، دل پر ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہو گئی۔ اہلِ بیت اطہار، صحابۂ کرام اور بے شمار مقدس ہستیوں کی قبورِ مبارکہ کو دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ خاموش فضا ایمان کو تازگی اور دل کو نور بخش رہی تھی۔
مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مسجد قباء،مسجد قبلتین ، مسجد جمعہ، مسجد غمامہ، مسجد فتح اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ جنگ احد پر سید الشہداء حضرت امیر حمزہ اور دیگر شہدائے اُحد کی قبور پر حاضری دی۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باغ میں کھجوریں تناول کرنے کا موقع بھی ملا۔
ہر روز روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر گھنٹوں درودِ پاک پڑھتا، دعائیں مانگتا اور سبز گنبد کو دیکھ کر دل و روح کو سکون نصیب ہوتا۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیع صحن، سفید سنگِ مرمر، سایہ دار چھتریاں، خوشگوار ہوائیں اور نورانی ماحول دل کو مسحور کر دیتا تھا۔
ایک روز ریاض الجنتہ میں حاضری کا اجازت نامہ ملا۔ مقررہ وقت پر حاضر ہو کر نوافل ادا کیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر مبارک اور مبارک مقام کی زیارت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ ریاض الجنہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ اس مقدس مقام پر کھڑے ہو کر واقعی ایسا محسوس ہوا جیسے جنت کی ٹھنڈی اور معطر ہواؤں میں سانس لے رہا ہوں۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک وہاں عبادت اور دعا میں مشغول رہا۔
مدینہ منورہ میں ہر طرف نور ہی نور تھا۔ دل ہر لمحہ خوشی، محبت اور عقیدت سے لبریز رہتا تھا۔ جب خوشی حد سے بڑھ جاتی تو بے اختیار یہی دعا لبوں پر آتی: "اے اللہ تعالیٰ! ہر مسلمان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی بار بار حاضری نصیب فرما۔”
دس دن کے اس مبارک قیام نے دل و روح کو ایسا سکون عطا کیا کہ بار بار دل سے یہی دعا نکلتی: "اے میرے پروردگار! اگر تیری رضا ہو تو میری آخری سانس اسی مبارک شہر میں ہو۔”
مگر وقت گزرتا گیا اور واپسی کا دن آ پہنچا۔ یہ زندگی کے سب سے مشکل اور رنجیدہ لمحات میں سے ایک تھا۔ آخری بار روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضر ہوا تو قدم لڑکھڑا رہے تھے، زبان خاموش تھی، دل غم سے بوجھل تھا اور آنکھیں مسلسل اشکبار تھیں۔ دل سے صرف یہی صدا نکل رہی تھی:
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اجازت عطا فرمائیے، مگر میرا دل اپنے شہر میں ہی رہنے دیجیے۔”
اس کے بعد ہم مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں احرام باندھا اور خانہ کعبہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا۔ گلشنے بہار ٹور اینڈ ٹولز کے روح رواں مولانا یاسین احمد قادری صاحب کی صدارت ھمارے لیے باعث فخر تھا .
۔آج بھی جب مدینہ منورہ کے وہ نورانی لمحات یاد آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنے گھر خانۂ کعبہ اور اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کی بار بار حاضری نصیب فرمائے، ایمان کو تازگی عطا کرے، دلوں کو نورِ محبت سے بھر دے اور مدینہ منورہ کی محبت ہمیشہ ہمارے سینوں میں زندہ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔۔
مصنف سید حسن منطقی ریسرچ اکیڈمی کے سربراہ ہیں۔
ضضض

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں