جنگ نیوز+اے پی آئی
سرینگر/وادی کشمیر کی سنڈے مارکیٹ میں اب محض خرید و فروخت کے مراکز نہیں رہیں بلکہ یہ ہزاروں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی امید، خودداری اور خاموش جدوجہد کی علامت بن چکی ہیں۔ ہر اتوار صبح جب شہر اور قصبوں کی سڑکوں پر عارضی بازار سجتے ہیں تو ان بازاروں میں صرف سامان نہیں بکتا بلکہ نوجوان اپنی عزتِ نفس، خواب اور مستقبل کو سنبھالنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
کشمیر میں بڑھتی بے روزگاری اور معاشی بحران نے نوجوانوں کو ایسے راستوں پر کھڑا کردیا ہے جہاں ڈگریاں ہاتھوں میں ہیں مگر روزگار کا کوئی مستقل وسیلہ موجود نہیں۔ ایسے میں سنڈے مارکیٹ ان نوجوانوں کیلئے ایک عارضی سہارا بن گئی ہیں۔ اندازاً پانچ ہزار کے قریب گریجویٹ اور سات سو سے زائد پوسٹ گریجویٹ نوجوان مختلف سنڈے مارکیٹوں میں کپڑے، جوتے، گھریلو اشیا اور دیگر مصنوعات فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کے دن چند ہزار روپے کما کر اپنے والدین کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں سماج میں "بے روزگار”ہونے کے طعنے نہ سننے پڑیں۔ ایک نوجوان فروش نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا کہ “ہم یہاں صرف پیسے کمانے نہیں آتے، ہم اپنے وجود کو ثابت کرنے آتے ہیں۔”
اگرچہ سنڈے مارکیٹوں میں لوگوں کی بھیڑ امڈتی ہے، مگر خریداری پہلے جیسی نہیں رہی۔ بازار سجانے والوں کے مطابق لوگ بازاروں کا رخ ضرور کرتے ہیں لیکن جیبوں کی خاموشی ان کے قدم روک لیتی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ خریداری کی شرح توقعات سے کہیں کم ہے اور بیشتر لوگ صرف بازار کی رونق دیکھ کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔
بازاروں سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ وادی اس وقت شدید معاشی اور اقتصادی بدحالی سے گزر رہی ہے۔ چند برس قبل عیدالفطر یا عیدالاضحی سے کئی دن پہلے بازاروں میں چہل پہل عروج پر ہوا کرتی تھی، مگر اب عید قرباں میں صرف چند دن باقی رہ جانے کے باوجود بازاروں میں وہ رونق، وہ خوشی اور وہ خریداری دکھائی نہیں دیتی۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور عالمی حالات خصوصاً خلیجی کشیدگی نے عام انسان کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ سنڈے مارکیٹوں میں چلتے پھرتے چہروں کے پیچھے اب ایک خاموش اداسی، بے بسی اور مستقبل کا خوف صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔
وادی کی سنڈے مارکیٹ آج بھی آباد ہیں، مگر ان بازاروں کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہر اتوار صرف سامان نہیں بکتا بلکہ نوجوان اپنے خوابوں کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔


