معین فخر معین
مقدس کیا مہینہ آگیا ہے
طہارت کا قرینہ آگیا ہے
درخشاں ہوگئی جنت زمیں پر
منور ہو گئے ایماں جبیں پر
سبھی ہیں رشک میں عرش بریں پر
ہوئی خلد بریں مہماں زمیں پر
حسیں در رحمتوں کے سب کھلے ہیں
نصیبوں سے یہ دن پھر اب ملے ہیں
نزول رحمت رب کی عطا ہے
یہی ماہ کرم ماہ سخا ہے
پیام رب کو ہی رمضان کہئے
کہ رب کا تحفہ قرآن کہئے
عبادت میں بھی پنہاں راحتیں ہیں
حسیں شام و سحر میں لذتیں ہیں
جو تقوی کا سکھاتا ہے تقدس
وہی پھر آیا ہے ماہ مقدس
دل صائم میں رہتا ہے مدینہ
نہیں وہ طالب مال و نگینہ
ادا صائم کی بھاتی ہے خدا کو
وہ کرتا ہے قبول اس کی دعا کو
الہی سب لبوں پہ یہ دعا ہو
ترے در سے جو مانگے سب عطا ہو
معین ایسی مبارک یہ گھڑی ہو
سبھی پر رحمتوں کی پھر جھڑی ہو
زز


