جنگ نیوز ڈیسک
ایران میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے فون پر بات کی۔ جے شنکر نے ایکس پر بتایا کہ گفتگو میں ایران اور اس کے گرد و نواح کی بدلتی صورتحال پر تبادلۂ خیال ہوا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر بھارت کے سفارت خانے نے ایران میں موجود تمام بھارتی شہریوں، طلبہ، زائرین، تاجروں اور سیاحوں کو تجارتی پروازوں سمیت دستیاب ذرائع سے ملک چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔
ایران میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں مہنگائی کی دوہری شرح اور ایرانی کرنسی کی مسلسل گراوٹ کے خلاف خامنہ ای حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے اپنے بیسویں دن میں داخل ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں 280 مقامات پر ہونے والی خونریز جھڑپوں کے باعث صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2500 تک پہنچ گئی ہے۔

دریں اثناء کرگل میں بدھ کے روز ایران، نظامِ ولایتِ فقیہ اور اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی حمایت میں ایک بڑا جلوس اور عوامی اجتماع منعقد ہوا۔ یہ پروگرام امام خمینی میموریل ٹرسٹ (IKMT) کے زیرِ اہتمام نمازِ ظہر کے بعد ہوا۔


