شریکِ حیات یا گھریلو ملازمہ؟ اسلامی تصورِ نکاح اور جدید عدالتی موقف

 

مسعود محبوب خان

تلنگانہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ازدواجی زندگی کے ایک نہایت حساس مگر اہم پہلو کو عدل و فہم کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ جہاں شوہر اور بیوی دونوں ملازمت پیشہ ہوں، وہاں صرف اس بنیاد پر کہ بیوی شوہر کے لیے کھانا نہیں پکاتی یا گھریلو امور پہلے کی طرح انجام نہیں دے پاتی، اسے ذہنی ظلم کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا، اور نہ ہی ایسے اسباب کو طلاق کا قانونی جواز بنایا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ازدواجی رشتہ جامد رسموں کا نہیں بلکہ بدلتے حالات، مشترکہ ذمہ داریوں اور باہمی احترام کا نام ہے۔ جب دونوں شریکِ حیات معاشی جدوجہد میں برابر کے شریک ہوں تو گھریلو زندگی کا نظام یک طرفہ توقعات کے بجائے تعاون اور تقسیمِ کار پر قائم ہونا چاہیے۔ عدالت کا یہ فیصلہ عورت کو محض گھریلو فرائض تک محدود کرنے کے بجائے ایک باوقار اور برابر کے شریک کے طور پر تسلیم کرنے کی آئینی توثیق ہے۔
اس فیصلے کو اگر اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ اسلامی تصورِ نکاح محض ایک قانونی معاہدہ نہیں بلکہ مودّت اور رحمت پر قائم ایک مقدس رشتہ ہے۔ قرآنِ حکیم سورۃ الروم (21) میں فرماتا ہے: “وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَوَدَّةً وَرَحْمَةً”۔ یہ آیت ازدواجی زندگی کی بنیاد محبت، احترام اور ایک دوسرے کی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے جذبے کو قرار دیتی ہے۔ اسلام نکاح کو حقوق و فرائض کی خشک فہرست نہیں بلکہ سکونِ قلب اور ذہنی آسودگی کا ذریعہ بناتا ہے۔
اسلامی فقہ کے مطابق بیوی پر شرعاً یہ لازم نہیں کہ وہ شوہر کے لیے کھانا پکائے یا گھریلو امور کو فرض سمجھ کر انجام دے۔ یہ امور حسنِ معاشرت کے دائرے میں تو آتے ہیں مگر شرعی فریضہ نہیں۔ اس کے برعکس شوہر پر نفقہ کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے، خواہ بیوی خود صاحبِ آمدنی ہی کیوں نہ ہو۔ بیوی کی کمائی اس کی ذاتی ملکیت ہے، اور یہ اصول عورت کے معاشی وقار اور خودمختاری کا اظہار ہے۔
فقہائے اسلام، جن میں امام ابنِ حزمؒ اور علامہ شوکانیؒ شامل ہیں، واضح کرتے ہیں کہ بیوی شوہر کی خادمہ نہیں بلکہ شریکِ حیات ہے۔ اگر وہ رضامندی اور محبت سے گھریلو امور میں ہاتھ بٹاتی ہے تو یہ اخلاقی حسن ہے، شرعی جبر نہیں۔ اسلامی تصورِ خاندان جبر کے بجائے تعاون اور احترام پر قائم ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس کی روشن مثال ہے۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے تو فرمایا: “آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت کرتے تھے” (صحیح بخاری)۔ یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ گھریلو کام عورت کی فطری یا لازمی ذمہ داری نہیں بلکہ باہمی شراکت کا تقاضا ہیں۔
اسلام عورت کو محض گھر تک محدود نہیں کرتا بلکہ اسے عزّت اور اختیار کے ساتھ معاشرتی زندگی میں حصہ لینے کا حق دیتا ہے۔ اگر عورت ملازمت پیشہ ہے تو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بغیر تعاون کے تمام گھریلو بوجھ بھی اٹھائے، اسلامی عدل کے خلاف ہے۔ شریعت کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتی۔
اسلام ظلم کو صرف جسمانی اذیت تک محدود نہیں کرتا بلکہ ذہنی دباؤ اور ناجائز مطالبات کو بھی ظلم قرار دیتا ہے۔ ایک ملازمت پیشہ خاتون پر غیر متوازن توقعات ڈالنا خاموش اذیت کو جنم دیتا ہے، جو اسلامی اصولِ عدل کے منافی ہے۔ اسلام میاں بیوی کو حاکم و محکوم نہیں بلکہ رفیق بناتا ہے۔
خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے اسلام نے طلاق کو آخری اور ناپسندیدہ حل قرار دیا ہے۔ معمولی اختلافات یا گھریلو کاموں کی بنیاد پر طلاق کو اختیار کرنا اسلامی حکمت کے خلاف ہے۔ اسلام صبر، گفت و شنید اور مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔
آخر میں، عدل، رحمت اور فہم وہ ستون ہیں جن پر اسلامی خاندانی نظام قائم ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اگر اسی روح کے ساتھ سمجھا جائے تو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ اسلام عورت کو گھریلو ملازمہ نہیں بلکہ شریکِ حیات کا درجہ دیتا ہے، اور یہی توازن جدید قانونی فکر اور اسلامی خاندانی تصور کو ایک نقطے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جدید دور میں خاندانی زندگی کے مسائل کو محض ماضی کی روایات کے پیمانے پر پرکھنا عملی حقیقتوں سے آنکھ چرانے کے مترادف ہے۔ معاشی دباؤ، مہنگائی، پیشہ ورانہ مصروفیات اور شہری زندگی کے تقاضے مرد و عورت دونوں پر یکساں اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر ازدواجی رشتے کو لچک، مکالمے اور باہمی سمجھ بوجھ سے محروم کر دیا جائے تو وہ رشتہ سہارا بننے کے بجائے بوجھ بن جاتا ہے۔ اسلام اور عقلِ سلیم دونوں اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ بدلتے حالات میں خاندانی نظام کو بھی فہم و حکمت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ گھریلو تنازعات کی ایک بڑی وجہ غیر حقیقت پسندانہ توقعات اور سماجی دباؤ ہوتا ہے، جہاں عورت سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ہر حال میں “مثالی بیوی” کے روایتی سانچے میں خود کو ڈھالے، چاہے اس کی جسمانی اور ذہنی طاقت اس کی اجازت دے یا نہ دے۔ اسلام ایسے کسی مثالی مگر ظالمانہ تصور کی تائید نہیں کرتا۔ شریعت انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق ذمہ دار ٹھہراتی ہے، نہ کہ سماج کے بنائے ہوئے معیار کے مطابق۔ یہی اصول ازدواجی عدل کی بنیاد ہے۔
آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خاندان کی مضبوطی احکامات اور مطالبات سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور اخلاقی شعور سے جنم لیتی ہے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور سہارا دینے کا ہنر سیکھ لیتے ہیں تو قانون کو مداخلت کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں رشتے قانون کے خوف سے نہیں بلکہ اخلاق اور رحم کے جذبے سے قائم ہوں، وہی حقیقی معنوں میں مہذب اور متوازن معاشرہ کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

شریکِ حیات یا گھریلو ملازمہ؟ اسلامی تصورِ نکاح اور جدید عدالتی موقف

 

مسعود محبوب خان

تلنگانہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ازدواجی زندگی کے ایک نہایت حساس مگر اہم پہلو کو عدل و فہم کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ جہاں شوہر اور بیوی دونوں ملازمت پیشہ ہوں، وہاں صرف اس بنیاد پر کہ بیوی شوہر کے لیے کھانا نہیں پکاتی یا گھریلو امور پہلے کی طرح انجام نہیں دے پاتی، اسے ذہنی ظلم کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا، اور نہ ہی ایسے اسباب کو طلاق کا قانونی جواز بنایا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ازدواجی رشتہ جامد رسموں کا نہیں بلکہ بدلتے حالات، مشترکہ ذمہ داریوں اور باہمی احترام کا نام ہے۔ جب دونوں شریکِ حیات معاشی جدوجہد میں برابر کے شریک ہوں تو گھریلو زندگی کا نظام یک طرفہ توقعات کے بجائے تعاون اور تقسیمِ کار پر قائم ہونا چاہیے۔ عدالت کا یہ فیصلہ عورت کو محض گھریلو فرائض تک محدود کرنے کے بجائے ایک باوقار اور برابر کے شریک کے طور پر تسلیم کرنے کی آئینی توثیق ہے۔
اس فیصلے کو اگر اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ اسلامی تصورِ نکاح محض ایک قانونی معاہدہ نہیں بلکہ مودّت اور رحمت پر قائم ایک مقدس رشتہ ہے۔ قرآنِ حکیم سورۃ الروم (21) میں فرماتا ہے: “وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَوَدَّةً وَرَحْمَةً”۔ یہ آیت ازدواجی زندگی کی بنیاد محبت، احترام اور ایک دوسرے کی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے جذبے کو قرار دیتی ہے۔ اسلام نکاح کو حقوق و فرائض کی خشک فہرست نہیں بلکہ سکونِ قلب اور ذہنی آسودگی کا ذریعہ بناتا ہے۔
اسلامی فقہ کے مطابق بیوی پر شرعاً یہ لازم نہیں کہ وہ شوہر کے لیے کھانا پکائے یا گھریلو امور کو فرض سمجھ کر انجام دے۔ یہ امور حسنِ معاشرت کے دائرے میں تو آتے ہیں مگر شرعی فریضہ نہیں۔ اس کے برعکس شوہر پر نفقہ کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے، خواہ بیوی خود صاحبِ آمدنی ہی کیوں نہ ہو۔ بیوی کی کمائی اس کی ذاتی ملکیت ہے، اور یہ اصول عورت کے معاشی وقار اور خودمختاری کا اظہار ہے۔
فقہائے اسلام، جن میں امام ابنِ حزمؒ اور علامہ شوکانیؒ شامل ہیں، واضح کرتے ہیں کہ بیوی شوہر کی خادمہ نہیں بلکہ شریکِ حیات ہے۔ اگر وہ رضامندی اور محبت سے گھریلو امور میں ہاتھ بٹاتی ہے تو یہ اخلاقی حسن ہے، شرعی جبر نہیں۔ اسلامی تصورِ خاندان جبر کے بجائے تعاون اور احترام پر قائم ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس کی روشن مثال ہے۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے تو فرمایا: “آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت کرتے تھے” (صحیح بخاری)۔ یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ گھریلو کام عورت کی فطری یا لازمی ذمہ داری نہیں بلکہ باہمی شراکت کا تقاضا ہیں۔
اسلام عورت کو محض گھر تک محدود نہیں کرتا بلکہ اسے عزّت اور اختیار کے ساتھ معاشرتی زندگی میں حصہ لینے کا حق دیتا ہے۔ اگر عورت ملازمت پیشہ ہے تو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بغیر تعاون کے تمام گھریلو بوجھ بھی اٹھائے، اسلامی عدل کے خلاف ہے۔ شریعت کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتی۔
اسلام ظلم کو صرف جسمانی اذیت تک محدود نہیں کرتا بلکہ ذہنی دباؤ اور ناجائز مطالبات کو بھی ظلم قرار دیتا ہے۔ ایک ملازمت پیشہ خاتون پر غیر متوازن توقعات ڈالنا خاموش اذیت کو جنم دیتا ہے، جو اسلامی اصولِ عدل کے منافی ہے۔ اسلام میاں بیوی کو حاکم و محکوم نہیں بلکہ رفیق بناتا ہے۔
خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے اسلام نے طلاق کو آخری اور ناپسندیدہ حل قرار دیا ہے۔ معمولی اختلافات یا گھریلو کاموں کی بنیاد پر طلاق کو اختیار کرنا اسلامی حکمت کے خلاف ہے۔ اسلام صبر، گفت و شنید اور مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔
آخر میں، عدل، رحمت اور فہم وہ ستون ہیں جن پر اسلامی خاندانی نظام قائم ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اگر اسی روح کے ساتھ سمجھا جائے تو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ اسلام عورت کو گھریلو ملازمہ نہیں بلکہ شریکِ حیات کا درجہ دیتا ہے، اور یہی توازن جدید قانونی فکر اور اسلامی خاندانی تصور کو ایک نقطے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جدید دور میں خاندانی زندگی کے مسائل کو محض ماضی کی روایات کے پیمانے پر پرکھنا عملی حقیقتوں سے آنکھ چرانے کے مترادف ہے۔ معاشی دباؤ، مہنگائی، پیشہ ورانہ مصروفیات اور شہری زندگی کے تقاضے مرد و عورت دونوں پر یکساں اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر ازدواجی رشتے کو لچک، مکالمے اور باہمی سمجھ بوجھ سے محروم کر دیا جائے تو وہ رشتہ سہارا بننے کے بجائے بوجھ بن جاتا ہے۔ اسلام اور عقلِ سلیم دونوں اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ بدلتے حالات میں خاندانی نظام کو بھی فہم و حکمت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ گھریلو تنازعات کی ایک بڑی وجہ غیر حقیقت پسندانہ توقعات اور سماجی دباؤ ہوتا ہے، جہاں عورت سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ہر حال میں “مثالی بیوی” کے روایتی سانچے میں خود کو ڈھالے، چاہے اس کی جسمانی اور ذہنی طاقت اس کی اجازت دے یا نہ دے۔ اسلام ایسے کسی مثالی مگر ظالمانہ تصور کی تائید نہیں کرتا۔ شریعت انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق ذمہ دار ٹھہراتی ہے، نہ کہ سماج کے بنائے ہوئے معیار کے مطابق۔ یہی اصول ازدواجی عدل کی بنیاد ہے۔
آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خاندان کی مضبوطی احکامات اور مطالبات سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور اخلاقی شعور سے جنم لیتی ہے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور سہارا دینے کا ہنر سیکھ لیتے ہیں تو قانون کو مداخلت کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں رشتے قانون کے خوف سے نہیں بلکہ اخلاق اور رحم کے جذبے سے قائم ہوں، وہی حقیقی معنوں میں مہذب اور متوازن معاشرہ کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں