جنگ نیوز
نئی دہلی/امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز نئی دہلی میں باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ عہدہ سنبھالنے سے قبل اپنے عوامی خطاب میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی جمہوریتوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کریں گے۔
سرجیو گور نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ان کی سفارتی ذمہ داری کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک، سیاسی اور عوامی سطح کے روابط کو گہرا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری اقدار بھارت امریکا تعلقات کی بنیاد ہیں اور مستقبل میں بھی یہی اقدار باہمی تعاون کی سمت متعین کریں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ذاتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر گور نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی دوستی حقیقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچے دوست بعض اوقات اختلاف رکھتے ہیں، مگر آخرکار بات چیت اور باہمی احترام کے ذریعے اپنے اختلافات حل کر لیتے ہیں۔
سفیر گور کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حالیہ دنوں میں بعض امریکی عہدیداروں نے ایک اہم دو طرفہ معاہدے میں تاخیر کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہرایا تھا، تاہم نئی دہلی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذاکرات معمول کے سفارتی عمل کے تحت جاری ہیں۔
نئی دہلی میں اپنے پہلے دن سفیر سرجیو گور نے سوشل میڈیا پر بھی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفارت خانے کی ٹیم کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز ہے اور وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ بھارت امریکا شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرامید ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مستقبل کو روشن قرار دیا۔
سفارتی مبصرین کے مطابق سفیر گور کے ابتدائی بیانات مفاہمتی پیغام رکھتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک باہمی پیچیدگیوں کے باوجود اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔


