جنگ نیوز ڈیسک
نئی دلی/مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعرات کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر کی مجموعی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی کہ دہشت گردوں کے ڈھانچے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف انسداد دہشت گردی کارروائیاں مشن موڈ میں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھی جائیں۔
اس اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی داخلہ سیکریٹری، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، چیف سیکریٹری، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس، سی اے پی ایف کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔ یہ سال 2026 میں جموں و کشمیر کی سلامتی پر امیت شاہ کی زیر صدارت ہونے والا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس تھا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت جموں و کشمیر میں پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ مسلسل اور مربوط کوششوں کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا پورا ماحولیاتی نظام شدید طور پر کمزور ہو چکا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے سکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کی مالی معاونت کے خلاف کارروائیاں مشن کی صورت میں بلا تعطل جاری رہنی چاہئیں۔ انہوں نے تمام ایجنسیوں کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ چوکنا رہنے کی ہدایت دی تاکہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد حاصل ہونے والی کامیابیاں برقرار رہیں اور جلد از جلد دہشت گردی سے پاک جموں و کشمیر کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
یہ اجلاس ملک بھر میں یوم جمہوریہ کی چھہترویں تقریبات سے چند ہفتے قبل منعقد ہوا، جبکہ اسی دوران جموں خطے کے پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔
ایک سرکاری افسر کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ افسران نے مشکل اور ناقابل رسائی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کے خاتمے کی مربوط حکمت عملی سے آگاہ کیا، ساتھ ہی لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر دراندازی کو مکمل طور پر روکنے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران کشتواڑ، ڈوڈہ، ادھم پور اور دیگر اضلاع کے بالائی علاقوں میں کئی جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اس عرصے میں لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر دراندازی کی متعدد کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
اجلاس میں مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان موجودہ ہم آہنگی، زمینی سطح کی کارروائیوں اور اس رفتار کو برقرار رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد 2026 کو جموں و کشمیر سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا فیصلہ کن سال بنانا ہے۔


