اردو کے ساتھ ناانصافی کیوں؟

سہیل ساحل
ہندوستان کثیر زبان رکھنے والا ملک ہے، جہاں بے شمار علاقائی زبانیں و بولیاں بولی جاتی ہیں اور ہر زبان و بولی اپنے محدود خطہ و علاقہ کی پہچان تصور کی جاتی ہیں۔ زبانوں و بولیوں کی اس بھیڑ میں کئی ایک زبانیں ایسی بھی ہیں جو اپنے محدود دائرہ سے نکل کر ملک گیر سطح پر اپنی شناخت کو دوبالا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ان کے چاہنے و ماننے والے اپنے خلوص و جذبہ سے اپنی زبان کو ایک نئی سمت دینے میں سرگرم ہیں۔
زبانوں کے اس جمِ غفیر میں اگر اردو کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کی بعض ریاستوں نے اردو زبان کو دوسری زبان کا درجہ دے کر وسیع القلبی کا ثبوت دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس وسیع و عریض ملک میں جہاں ۲۹ ریاستیں اور سات یونین ٹریٹریز آباد ہیں، کیا واقعی اردو کے ساتھ انصاف ہو رہا ہے؟ اور اگر ان ریاستوں کا احسان تسلیم بھی کر لیا جائے جنہوں نے اردو کو دوسری زبان کا درجہ دیا ہے، تو کیا وہاں کی حکومتیں اردو کے منصب و مقام کو پہچاننے کی کوئی سنجیدہ سعی کر رہی ہیں؟ کیا ملکی حکومت نے بھی اردو زبان کی وقعت کو سمجھا ہے؟ کبھی اس کو جائز مقام و مرتبہ دینے کی کوشش کی ہے؟ کبھی اس کے فروغ و ترقی کے لئے صحیح سمت و راہ متعین کی ہے؟ کبھی اس کے حقوق کی پاسبانی کی ہے؟
ظاہر ہے کہ ایسے سوالات اب بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں، کیونکہ کچھ ریاستوں کے دستور نے اس زبان کو دوسری زبان کا درجہ ضرور دے دیا ہے، لیکن حکومتوں نے اس کا دائرہ صرف اور صرف سطحی حد تک محدود کر دیا ہے۔ اور اگر اردو کے ترقیاتی کاموں اور حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری ادارے ہندوستان میں بولی جانے والی دیگر زبانوں کی طرح اردو کے فروغ کے لیے اتنے کوشاں نہیں۔ موجودہ سیاسی و سماجی حالات میں جبکہ اردو زبان کو ایک مخصوص قوم کی زبان کے طور پر دیکھا جارہا ہو، اس کی پرورش و پرداخت نفرت کے سایے میں ہو رہی ہو، ایسے میں یہ دعویٰ کرنا مشکل ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے افسران اردو کے تئیں کسی نرم گوشے کے حامل ہیں، یا جتنے مواقع دیگر زبانوں کو دئیے گئے کیا اردو کو بھی دیے جاتے ہیں؟ پوری اردو برادری ان بھیانک حقائق سے بخوبی واقف ہے۔ اسے اس بات کا احساس ہے کہ اردو مسلسل سازشوں کا شکار ہو رہی ہے، آئے دن اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، اور دن بہ دن اس کی ترقی کی راہوں کو تنگ کیا جارہا ہے۔
جہاں اردو کو "دوسری زبان” کا درجہ دینے کا ڈھول پیٹا جاتا ہے وہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک خواب اور دکھاوا ہے، جس کے سائے میں اردو داں طبقہ زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا۔ مقامِ افسوس تو یہ ہے کہ ہندوستان کی سب سے شیریں زبان جس کا دعویٰ اس کی پیدائش کے وقت سے ہی کیا جارہا ہے نہ صرف اہلِ اردو بلکہ غیر زبان والے بھی اس پر فخر کرتے رہے آج انہی کے ہاتھوں اس کے پیچھے خنجر گھونپے جارہے ہیں۔
اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان حالات میں بھی اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہوئے وہ لوگ جو اردو کے خیر خواہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں، اپنے بلند و بانگ دعوؤں سے باز نہیں آتے۔ انہیں ان تلخ حقائق کو بے نقاب کرنا تھا مگر وہ اپنے چمک دار جملوں سے اردو داں طبقہ کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اپنے جاہ و منصب کا غلط استعمال کر کے اردو کی زبوں حالی پر دکھ کا اظہار تو کرتے ہیں مگر عملی اقدامات سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ حالاں کہ زبان کی بقا، فروغ اور استحکام صرف دعوؤں سے نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدامات سے ممکن ہوتا ہے۔
تاہم اس تمام تر مایوسی کے باوجود اردو کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ زبان کبھی سرکاری احکامات کی مرہونِ منت نہیں رہی۔ اردو ہمیشہ عوام کے دلوں سے پھوٹی ہے، محبت سے پروان چڑھی ہے، تہذیب سے جڑی ہے، اور دلوں کی دھڑکنوں میں بسی ہے۔ جس زبان کے پیچھے صدیوں کی مشترکہ تہذیب کا سرمایہ ہو، جس کے دامن میں میر و غالب، اقبال و فراق، جوش و فیض جیسے آفتاب و ماہتاب ہوں وہ زبان چند سازشوں، چند فریبوں اور چند سیاسی فیصلوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔
اردو کے چاہنے والے آج بھی اپنی بساط کے مطابق اس چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ اساتذہ، قلم کار، شاعر، ادیب، محقق، طالب علم اور عام قاری سب اس زبان کے مسلسل محافظ ہیں۔ یہی امید کا سب سے بڑا چراغ ہے۔ حکومتیں اگر اپنا فرض ادا نہیں کر رہیں تو اہلِ اردو کو اپنا کردار مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ زبانیں سرکاری میزوں پر نہیں بلکہ دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کو اس کے جائز مقام تک پہنچانے کے لئے اجتماعی کوششیں کی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں اسے مضبوط بنایا جائے، بچوں میں اس کی شمع روشن کی جائے، ادبی تنظیموں کو فعال کیا جائے، اور ہر ممکن سطح پر اس کے فروغ کی راہ ہموار کی جائے۔ حکومتوں کو بھی چاہیے کہ زبان کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی اس امانت کی حفاظت کریں۔
آخرکار حقیقت یہی ہے کہ جب تک اردو کے چاہنے والے زندہ ہیں، اردو بھی زندہ رہے گی۔
یہ زبان نہ کسی مذہب کی ہے، نہ کسی مخصوص قوم کی
یہ زبان محبت کی ہے، ہندوستان کی ہے، ہم سب کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

اردو کے ساتھ ناانصافی کیوں؟

سہیل ساحل
ہندوستان کثیر زبان رکھنے والا ملک ہے، جہاں بے شمار علاقائی زبانیں و بولیاں بولی جاتی ہیں اور ہر زبان و بولی اپنے محدود خطہ و علاقہ کی پہچان تصور کی جاتی ہیں۔ زبانوں و بولیوں کی اس بھیڑ میں کئی ایک زبانیں ایسی بھی ہیں جو اپنے محدود دائرہ سے نکل کر ملک گیر سطح پر اپنی شناخت کو دوبالا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ان کے چاہنے و ماننے والے اپنے خلوص و جذبہ سے اپنی زبان کو ایک نئی سمت دینے میں سرگرم ہیں۔
زبانوں کے اس جمِ غفیر میں اگر اردو کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کی بعض ریاستوں نے اردو زبان کو دوسری زبان کا درجہ دے کر وسیع القلبی کا ثبوت دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس وسیع و عریض ملک میں جہاں ۲۹ ریاستیں اور سات یونین ٹریٹریز آباد ہیں، کیا واقعی اردو کے ساتھ انصاف ہو رہا ہے؟ اور اگر ان ریاستوں کا احسان تسلیم بھی کر لیا جائے جنہوں نے اردو کو دوسری زبان کا درجہ دیا ہے، تو کیا وہاں کی حکومتیں اردو کے منصب و مقام کو پہچاننے کی کوئی سنجیدہ سعی کر رہی ہیں؟ کیا ملکی حکومت نے بھی اردو زبان کی وقعت کو سمجھا ہے؟ کبھی اس کو جائز مقام و مرتبہ دینے کی کوشش کی ہے؟ کبھی اس کے فروغ و ترقی کے لئے صحیح سمت و راہ متعین کی ہے؟ کبھی اس کے حقوق کی پاسبانی کی ہے؟
ظاہر ہے کہ ایسے سوالات اب بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں، کیونکہ کچھ ریاستوں کے دستور نے اس زبان کو دوسری زبان کا درجہ ضرور دے دیا ہے، لیکن حکومتوں نے اس کا دائرہ صرف اور صرف سطحی حد تک محدود کر دیا ہے۔ اور اگر اردو کے ترقیاتی کاموں اور حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری ادارے ہندوستان میں بولی جانے والی دیگر زبانوں کی طرح اردو کے فروغ کے لیے اتنے کوشاں نہیں۔ موجودہ سیاسی و سماجی حالات میں جبکہ اردو زبان کو ایک مخصوص قوم کی زبان کے طور پر دیکھا جارہا ہو، اس کی پرورش و پرداخت نفرت کے سایے میں ہو رہی ہو، ایسے میں یہ دعویٰ کرنا مشکل ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے افسران اردو کے تئیں کسی نرم گوشے کے حامل ہیں، یا جتنے مواقع دیگر زبانوں کو دئیے گئے کیا اردو کو بھی دیے جاتے ہیں؟ پوری اردو برادری ان بھیانک حقائق سے بخوبی واقف ہے۔ اسے اس بات کا احساس ہے کہ اردو مسلسل سازشوں کا شکار ہو رہی ہے، آئے دن اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، اور دن بہ دن اس کی ترقی کی راہوں کو تنگ کیا جارہا ہے۔
جہاں اردو کو "دوسری زبان” کا درجہ دینے کا ڈھول پیٹا جاتا ہے وہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک خواب اور دکھاوا ہے، جس کے سائے میں اردو داں طبقہ زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا۔ مقامِ افسوس تو یہ ہے کہ ہندوستان کی سب سے شیریں زبان جس کا دعویٰ اس کی پیدائش کے وقت سے ہی کیا جارہا ہے نہ صرف اہلِ اردو بلکہ غیر زبان والے بھی اس پر فخر کرتے رہے آج انہی کے ہاتھوں اس کے پیچھے خنجر گھونپے جارہے ہیں۔
اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان حالات میں بھی اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہوئے وہ لوگ جو اردو کے خیر خواہ ہونے کے دعوے کرتے ہیں، اپنے بلند و بانگ دعوؤں سے باز نہیں آتے۔ انہیں ان تلخ حقائق کو بے نقاب کرنا تھا مگر وہ اپنے چمک دار جملوں سے اردو داں طبقہ کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اپنے جاہ و منصب کا غلط استعمال کر کے اردو کی زبوں حالی پر دکھ کا اظہار تو کرتے ہیں مگر عملی اقدامات سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ حالاں کہ زبان کی بقا، فروغ اور استحکام صرف دعوؤں سے نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدامات سے ممکن ہوتا ہے۔
تاہم اس تمام تر مایوسی کے باوجود اردو کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ زبان کبھی سرکاری احکامات کی مرہونِ منت نہیں رہی۔ اردو ہمیشہ عوام کے دلوں سے پھوٹی ہے، محبت سے پروان چڑھی ہے، تہذیب سے جڑی ہے، اور دلوں کی دھڑکنوں میں بسی ہے۔ جس زبان کے پیچھے صدیوں کی مشترکہ تہذیب کا سرمایہ ہو، جس کے دامن میں میر و غالب، اقبال و فراق، جوش و فیض جیسے آفتاب و ماہتاب ہوں وہ زبان چند سازشوں، چند فریبوں اور چند سیاسی فیصلوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔
اردو کے چاہنے والے آج بھی اپنی بساط کے مطابق اس چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ اساتذہ، قلم کار، شاعر، ادیب، محقق، طالب علم اور عام قاری سب اس زبان کے مسلسل محافظ ہیں۔ یہی امید کا سب سے بڑا چراغ ہے۔ حکومتیں اگر اپنا فرض ادا نہیں کر رہیں تو اہلِ اردو کو اپنا کردار مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ زبانیں سرکاری میزوں پر نہیں بلکہ دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کو اس کے جائز مقام تک پہنچانے کے لئے اجتماعی کوششیں کی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں اسے مضبوط بنایا جائے، بچوں میں اس کی شمع روشن کی جائے، ادبی تنظیموں کو فعال کیا جائے، اور ہر ممکن سطح پر اس کے فروغ کی راہ ہموار کی جائے۔ حکومتوں کو بھی چاہیے کہ زبان کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی اس امانت کی حفاظت کریں۔
آخرکار حقیقت یہی ہے کہ جب تک اردو کے چاہنے والے زندہ ہیں، اردو بھی زندہ رہے گی۔
یہ زبان نہ کسی مذہب کی ہے، نہ کسی مخصوص قوم کی
یہ زبان محبت کی ہے، ہندوستان کی ہے، ہم سب کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں