کیا ہمارے بچوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں؟

تجمل قادری

جموں و کشمیر میں سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کی سرمائی اور گرمیوں کی تعطیلات ہر سال نئی بحث چھیڑ دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں میں لوگ اپنی بے بسی اور ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔ تنقید ہمیشہ حکومت پر آتی ہے کیونکہ تعلیم کا شعبہ وہی ہے جو ہر بار سب سے زیادہ نظر انداز ہوتا ہے۔
ہر سال بجٹ آتا ہے۔ کروڑوں روپے مختلف محکموں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ لیکن جب بات تعلیم کی ہو، تو اسے ہمیشہ چند ہزار میں نپٹا دیا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے اسکول آج بھی بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے بچوں کو بہتر ماحول میسر نہیں۔
سرکاری دفاتر میں بیٹھے افسران گرمیوں میں آرام دہ اے سی کے نیچے اور سردیوں میں گرم کمروں میں فیصلہ کرتے ہیں کہ اسکول کب کھلیں گے اور کب بند ہوں گے۔ وہ شاید کبھی سوچتے بھی نہیں کہ جن بچوں کے لیے وہ کاغذوں پر فیصلے کر رہے ہیں، وہ کن حالات میں بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔
ان اسکولوں میں نہ سردی کا انتظام ہے اور نہ گرمی کا بچاؤ ہے۔ کئی جگہ تو صاف بیت الخلا تک موجود نہیں۔ بچے کبھی سخت ٹھنڈ میں ٹھٹھرتے ہیں، کبھی گرمی میں ہانپتے ہیں۔ اساتذہ بھی اسی اذیت میں دن گزار کر لوٹتے ہیں۔
حکومت مفت تعلیم، کتابیں اور مڈ ڈے میل کے دعوے کرتی ہے۔ لیکن یہ سب اس وقت ادھورا لگتا ہے جب ایک بچہ ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر اپنا قلم پکڑنے سے پہلے ہاتھ گرم کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ یا جب کوئی بچی گرمی سے بے حال ہو کر پنکھے کی تلاش میں خالی چھت کو دیکھتی رہتی ہو۔
آخر یہ کیسی تعلیم ہے جو بنیادی سہولیات کے بغیر چل رہی ہے؟
ضروری گذارشات
1. محکمہ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے
اگر یہ بچے واقعی ہمارے مستقبل ہیں، تو انہیں وہ سب ملنا چاہیے جو ہر بہتر سسٹم اپنے بچوں کو دیتا ہے۔
2. تمام سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات فوری طور فراہم کی جائیں
صاف پانی، بجلی، بیت الخلا، پنکھے اور ہیٹر—یہ کوئی آسائش نہیں، یہ ایک طالب علم کا حق ہے۔
3. سرکاری دفاتر جیسی سہولیات اسکولوں میں بھی دی جائیں
اگر افسر آرام دہ ماحول میں کام کر سکتے ہیں تو بچوں کو کیوں نہیں؟ کیا وہ کم اہم ہیں؟
4. اسکولوں کا ہر سال آڈٹ ہو اور رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جائے
تاکہ سچ چھپ نہ سکے اور ہر کمی دور کرنے کی طرف ایک قدم بڑھایا جا سکے۔
ہمیں سوچنا ہوگا:
کیا ہمارے بچوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں؟
اگر نہیں—تو پھر اب وقت ہے کہ تعلیم کو صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری سمجھ کر نبھایا جائے۔ جموں و کشمیر کے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے فوری، واضح اور عملی قدم اٹھانا ہو گا۔ یہ صرف ضرورت نہیں، یہ اخلاقی فرض بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

کیا ہمارے بچوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں؟

تجمل قادری

جموں و کشمیر میں سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کی سرمائی اور گرمیوں کی تعطیلات ہر سال نئی بحث چھیڑ دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں میں لوگ اپنی بے بسی اور ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔ تنقید ہمیشہ حکومت پر آتی ہے کیونکہ تعلیم کا شعبہ وہی ہے جو ہر بار سب سے زیادہ نظر انداز ہوتا ہے۔
ہر سال بجٹ آتا ہے۔ کروڑوں روپے مختلف محکموں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ لیکن جب بات تعلیم کی ہو، تو اسے ہمیشہ چند ہزار میں نپٹا دیا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے اسکول آج بھی بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے بچوں کو بہتر ماحول میسر نہیں۔
سرکاری دفاتر میں بیٹھے افسران گرمیوں میں آرام دہ اے سی کے نیچے اور سردیوں میں گرم کمروں میں فیصلہ کرتے ہیں کہ اسکول کب کھلیں گے اور کب بند ہوں گے۔ وہ شاید کبھی سوچتے بھی نہیں کہ جن بچوں کے لیے وہ کاغذوں پر فیصلے کر رہے ہیں، وہ کن حالات میں بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔
ان اسکولوں میں نہ سردی کا انتظام ہے اور نہ گرمی کا بچاؤ ہے۔ کئی جگہ تو صاف بیت الخلا تک موجود نہیں۔ بچے کبھی سخت ٹھنڈ میں ٹھٹھرتے ہیں، کبھی گرمی میں ہانپتے ہیں۔ اساتذہ بھی اسی اذیت میں دن گزار کر لوٹتے ہیں۔
حکومت مفت تعلیم، کتابیں اور مڈ ڈے میل کے دعوے کرتی ہے۔ لیکن یہ سب اس وقت ادھورا لگتا ہے جب ایک بچہ ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر اپنا قلم پکڑنے سے پہلے ہاتھ گرم کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ یا جب کوئی بچی گرمی سے بے حال ہو کر پنکھے کی تلاش میں خالی چھت کو دیکھتی رہتی ہو۔
آخر یہ کیسی تعلیم ہے جو بنیادی سہولیات کے بغیر چل رہی ہے؟
ضروری گذارشات
1. محکمہ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے
اگر یہ بچے واقعی ہمارے مستقبل ہیں، تو انہیں وہ سب ملنا چاہیے جو ہر بہتر سسٹم اپنے بچوں کو دیتا ہے۔
2. تمام سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات فوری طور فراہم کی جائیں
صاف پانی، بجلی، بیت الخلا، پنکھے اور ہیٹر—یہ کوئی آسائش نہیں، یہ ایک طالب علم کا حق ہے۔
3. سرکاری دفاتر جیسی سہولیات اسکولوں میں بھی دی جائیں
اگر افسر آرام دہ ماحول میں کام کر سکتے ہیں تو بچوں کو کیوں نہیں؟ کیا وہ کم اہم ہیں؟
4. اسکولوں کا ہر سال آڈٹ ہو اور رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جائے
تاکہ سچ چھپ نہ سکے اور ہر کمی دور کرنے کی طرف ایک قدم بڑھایا جا سکے۔
ہمیں سوچنا ہوگا:
کیا ہمارے بچوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں؟
اگر نہیں—تو پھر اب وقت ہے کہ تعلیم کو صرف نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری سمجھ کر نبھایا جائے۔ جموں و کشمیر کے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے فوری، واضح اور عملی قدم اٹھانا ہو گا۔ یہ صرف ضرورت نہیں، یہ اخلاقی فرض بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں