صائمہ مقبول
ٹیکی پورہ لولاب کپواڑہ
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھی کروبیاں۔
(خواجہ میر درد )
زمانہ بدل گیا ہے، اور انسان کے ساتھ اُس کی سوچ بھی۔ کبھی وہ دور تھا جب انسان کا ایک لفظ ضمانت ہوا کرتا تھا، جب وعدہ قرآن سے کم نہ سمجھا جاتا تھا، جب کاروبار میں ایمان کی خوشبو ہوتی تھی اور رشتوں میں سچائی کی روشنی۔ مگر آج، ہر طرف دھوکہ، فریب اور خود غرضی کے سائے پھیل چکے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں منافقت نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں۔ اب نہ وعدے سچے رہتے ہیں، نہ تعلقات وفادار، نہ کاروبار پاکیزگی ۔کاروبار کو کبھی عبادت کہا جاتا تھا۔ بزرگ کہا کرتے تھے کہ "کاروبار میں برکت سچائی سے آتی ہے۔” مگر آج کے تاجر کے لیے سچائی خسارے کا سودا بن چکی ہے۔ آج منافع کے لیے جھوٹ بولنا، مال میں milawat کرنا، تول میں کمی کرنا، سب معمول کی بات ہو گئی ہے۔
گاہک کو دھوکہ دینا ایک چالاکی سمجھی جاتی ہے، ایمان داری نہیں۔ لیکن وہ تاجر بھول جاتا ہے کہ جب وہ کسی دوسرے کا حق کھاتا ہے، تو دراصل اپنی ہی برکت کو جلا رہا ہوتا ہے۔ایک وقت تھا کہ دکان دار کا چہرہ اعتماد کی پہچان ہوتا تھا، مگر آج ہم کسی پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ ہر چیز میں ملاوٹ ہے — دودھ میں پانی، نیت میں فریب، اور الفاظ میں دھوکہ۔ یہ کیسا زمانہ آ گیا ہے جہاں کاروبار کمائی کا نہیں بلکہ ضمیر بیچنے کا نام بن گیا ہے؟
کل میں ایک ویڈیو دیکھ رہی تھی — رپورٹر مُدثر عزیز صاحب ایک ایسا واقعہ سامنے لا رہے تھے جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔ ایک دلال نے ایک مزدور سے اٹھارہ لاکھ روپے لوٹ لیے۔ میڈیا کے سامنے وہ بے بس عورت اسکا مزدور شوہر اور ننھی سی معصوم بچی بیٹھے تھے، جن کے چہرے پر زندگی کی شکست صاف لکھی تھی۔ وہ بہن رو رو کر بتا رہی تھی کہ “دو سال سے کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں، پانچ ہزار ماہانہ کرایہ دیتے ہیں… میرا شوہر مزدوری کرتا ہے… بچی کی کتابوں کے لیے ڈیڑھ ہزار ایک آٹو والے سے اُدھار لیے… پھر رشتہ داروں اور لوگوں سے قرض لے کر اٹھارہ لاکھ جوڑ کر گھر کا سودا کیا تھا… لیکن دلال نے دھوکہ دے دیا… ہمیں کسی اور کا گھر دکھا کر پیسے غائب ہو گیا…!”
یہ سن کر دل سوال کرتا ہے — کہاں گئی انسانیت کہاں گیا دردِ دل؟ کیا ان کے دلوں میں ذرا سا بھی خوفِ خدا نہ رہا؟ ایک طرف وہ دلال اپنی فیملی سمیت دہلی میں عیش کر رہا ہے، اور دوسری طرف یہ غریب خاندان اپنا سب کچھ لٹا کر سڑک پر آ گیا — ان کے پاس سب کچھ دے کر بھی کچھ نہیں بچا، پیسہ گیا، گھر گیا، مگر سب سے بڑھ کر ایمان انسانیت پر سے اٹھ گیا۔
کیا ہمارا ضمیر واقعی مر چکا ہےیا ہم نے خود غرضی کو اس قدر اپنایا ہے کہ اب دوسروں کا دکھ ہمیں چھو بھی نہیں سکتا۔حقوق العباد کا مسئلہ واقعی بہت پیچیدہ، نازک اور خوف پیدا کرنے والا ہے۔اللہ اپنے حقوق بہت معاف کرنے والا ہے، مگر بندوں کے حقوق کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔نماز، روزہ، حج، صدقہ — سب عبادات اپنی جگہ، مگر اگر کسی کے دل کو ٹھیس پہنچائی ہو، حق مارا ہو، دھوکہ دیا ہو، امانت توڑی ہو، عزت خراب کی ہو یا غیبت کی ہو تو صرف عبادت کافی نہیں ہوتی۔اور یہی وہ جگہ ہے جہاں دھوکہ، فریب اور ظلم کرنے والا انسان بظاہر دنیا میں کامیاب دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں سب سے زیادہ خطرے میں ہوتا ہے۔
اللہ نے صاف فرما دیا ہے:
اپنے حقوق معاف کر دوں گا
مگر بندے کے حقوق میں دخل نہیں دوں گا جب تک وہ بندہ خود معاف نہ کرے۔
یہ وہ معاشرہ ہے جہاں لوگ دوسرے کے فائدے کے وقت اُس کے قریب آتے ہیں، مگر جب وہ کسی مصیبت میں ہوتا ہے، تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ خود غرضی کا دور ہے، جہاں کوئی کسی کے لیے نہیں — سب صرف اپنے لیے ہیں۔لالچ وہ آگ ہے جو کبھی بجھتی نہیں۔انسان کے پاس جتنا بھی ہو، وہ کم لگتا ہے۔پیسہ، جائیداد، عہدہ — سب حاصل کرنے کے باوجود دل کا سکون غائب ہے۔آج کا انسان جتنا حاصل کرتا ہے، اتنا ہی خالی محسوس کرتا ہے۔ کیونکہ اُس نے اپنے ضمیر کو مار دیا ہے۔جائیداد کے لیے بھائی بھائی کا دشمن بن گیا، بیٹے باپ کے دشمن بن گئے۔ چند گز زمین کے لیے خون بہا دیا جاتا ہے۔ کیا یہ ترقی ہے؟ کیا یہ وہ انسانیت ہے جس پر فخر کیا جا سکتا ہے؟ نہیں — یہ اخلاقی موت ہے۔
آج ہر رشتہ مفاد سے بندھا ہے۔اگر فائدہ ہو تو تعلق مضبوط، ورنہ رشتہ ختم۔دوست، رشتہ دار، شریکِ کار — سب ایک جیسے ہو گئے ہیں۔کسی کو دوسرے کے دکھ سے غرض نہیں، کسی کو سچائی سے مطلب نہیں۔انسان اب انسان نہیں رہا — وہ ایک مفاد پرست مشین بن گیا ہے، جو صرف اپنے فائدے کے لیے چلتی ہے۔یہی مفاد پرستی ہمیں روز دھوکے میں مبتلا کرتی ہے۔ ہم دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ کل ہمیں بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دنیا گول ہے — جو کچھ ہم دیتے ہیں، وہی پلٹ کر واپس آتا ہےسب سے بڑی دولت انسانیت ہے۔ مگر آج وہ دولت سب سے زیادہ نایاب ہو چکی ہے۔لوگ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، مگر انسانیت نہیں نبھاتے۔کسی کے آنسو دیکھ کر دل نرم نہیں ہوتا، کسی کی بھوک دیکھ کر ضمیر نہیں جاگتا۔ہم اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کو روند کر گزر جاتے ہیں، جیسے انسان نہیں، بے حس پتھر ہوں۔کبھی سوچا ہےجس دن ہم اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے، کیا جواب دیں گے؟کیا کہیں گے کہ ہم نے دوسروں کو دھوکہ دیا، کسی کا حق کھایا، کسی کی آنکھوں میں آنسو لائے؟
کیا ہم اُس روز اپنی آنکھیں اُٹھا سکیں ۔
پرانے وقتوں کے لوگ شاید دولت میں کمزور تھے، مگر دل کے امیر تھے۔ان کے پاس سونا چاندی نہیں تھی، مگر سکون تھا۔ان کے گھر چھوٹے تھے، مگر دل بہت بڑے۔
آج ہمارے گھروں میں سب کچھ ہے — مگر دلوں میں کچھ نہیں۔ہم نے خوشیوں کی جگہ حرص لے لی، محبت کی جگہ مفاد، اور ایمان کی جگہ لالچ۔کبھی بزرگوں کی باتیں یاد آتی ہیں ۔
"بیٹا، برکت سچائی میں ہے، اور سکون قناعت میں۔”
لیکن آج کا انسان سچائی کو کمزوری سمجھتا ہے، اور قناعت کو نادانی۔یہی ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔دھوکہ چاہے کاروبار میں ہو، وعدوں میں، یا رشتوں میں آخرکار انسان کو ہی برباد کرتا ہے۔جو دوسروں کو دھوکہ دیتا ہے، وہ اپنے ضمیر، اپنی عزت، اور اپنے ایمان کو مار دیتا ہے۔دنیا میں وہ شاید کامیاب دکھائی دے، مگر دل کے اندر وہ سب سے بڑا ناکام ہوتا ہے۔سچی کامیابی وہ ہے جو دل کے سکون سے ملے، نہ کہ دوسروں کو روند کر۔اللہ نے ہمیں عقل، ایمان، اور ضمیر دیا ہے — مگر ہم نے سب کچھ دنیا کی خاطر قربان کر دیا۔
اب وقت ہے کہ ہم رکیں، سوچیں، اور اپنے اندر انسانیت کو دوبارہ زندہ کریں۔کیونکہ زندگی دھوکے سے نہیں، سچائی سے سنورتی ہے۔اور یاد رکھو ۔دنیا میں سب کچھ بدل سکتا ہے، مگر دھوکے کا انجام کبھی نہیں۔
چاہے جلد یا دیر سے، قدرت انصاف ضرور کرتی ہے۔
لہٰذا سچائی، دیانت اور انسانیت کو اپنا زیور بنا لو — کیونکہ یہی وہ خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔


