ریاستی درجہ:عدالت عظمیٰ میں ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق درخواست کی سماعت

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/مرکزی حکومت نے جمعہ کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر وہ جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ مشاورت میں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مرکز کو اس سلسلے میں چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی مہلت دی ہے۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نےپہلگام دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی سے پہلے اس واقعے کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت اس معاملے پر ریاستی حکومت سے مشاورت کر رہی ہے اور یہی درست طریقہ کار ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل گولپال شنکرنارائنن نے عدالت میں کہا کہپہلگام حملہ مرکزی حکومت کے دور میں ہوا اور اس کے باوجود ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں ریاستی حیثیت ختم کی گئی اور اب 2025 آ چکا ہے، انتخابات بھی ہو چکے ہیں، لہٰذا تاخیر کی کوئی وجہ باقی نہیں۔
اس دوران سالیسیٹر جنرل مہتہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، ترقی کے نمایاں آثار ہیں اور 99.99 فیصد لوگ حکومتِ ہند کو اپنی حکومت سمجھتے ہیں۔ تاہم کچھ واقعات جیسےپہلگام حملہ بھی پیش آئے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ "سالیسیٹر جنرل نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات پرامن طور پر منعقد ہوئے اور منتخب حکومت قائم ہو چکی ہے۔ تاہم چند واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کرنے سے قبل وقت درکار ہے۔ اس بنا پر مرکز کو چار ہفتے کی مہلت دی جاتی ہے۔”
درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری طور پر ریاستی حیثیت بحال کرنے اور دسمبر 2023 میں آئینی بینچ کے احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ 11 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو درست قرار دیا تھا، تاہم مرکز کو ہدایت دی تھی کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت "جلد از جلد” بحال کی جائے۔ جموں و کشمیر کو 5 اگست 2019 کو خصوصی درجہ ختم کر کے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا تھا۔ مرکزی حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ ریاستی حیثیت "مناسب وقت” پر بحال کی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

ریاستی درجہ:عدالت عظمیٰ میں ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق درخواست کی سماعت

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/مرکزی حکومت نے جمعہ کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر وہ جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ مشاورت میں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مرکز کو اس سلسلے میں چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی مہلت دی ہے۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نےپہلگام دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی سے پہلے اس واقعے کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت اس معاملے پر ریاستی حکومت سے مشاورت کر رہی ہے اور یہی درست طریقہ کار ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل گولپال شنکرنارائنن نے عدالت میں کہا کہپہلگام حملہ مرکزی حکومت کے دور میں ہوا اور اس کے باوجود ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں ریاستی حیثیت ختم کی گئی اور اب 2025 آ چکا ہے، انتخابات بھی ہو چکے ہیں، لہٰذا تاخیر کی کوئی وجہ باقی نہیں۔
اس دوران سالیسیٹر جنرل مہتہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، ترقی کے نمایاں آثار ہیں اور 99.99 فیصد لوگ حکومتِ ہند کو اپنی حکومت سمجھتے ہیں۔ تاہم کچھ واقعات جیسےپہلگام حملہ بھی پیش آئے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ "سالیسیٹر جنرل نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات پرامن طور پر منعقد ہوئے اور منتخب حکومت قائم ہو چکی ہے۔ تاہم چند واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کرنے سے قبل وقت درکار ہے۔ اس بنا پر مرکز کو چار ہفتے کی مہلت دی جاتی ہے۔”
درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری طور پر ریاستی حیثیت بحال کرنے اور دسمبر 2023 میں آئینی بینچ کے احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ 11 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو درست قرار دیا تھا، تاہم مرکز کو ہدایت دی تھی کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت "جلد از جلد” بحال کی جائے۔ جموں و کشمیر کو 5 اگست 2019 کو خصوصی درجہ ختم کر کے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا تھا۔ مرکزی حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ ریاستی حیثیت "مناسب وقت” پر بحال کی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں