
اختر جمال عثمانی
27 ستمبر 2025 کو آر ایس ایس کے قیام کو ایک صدی مکمل ہو رہی ہے اور ان ایک سو سالوں کے دوران اس کی فکر اور نظریات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ اپنے بنیادی مقصد’’ ہندو راشٹر ‘‘ کے قریب پہونچ چکی ہے۔ آر ایس ایس کی مرکزی سیاسی تنظیم تو بھارتیہ جنتا پارٹی ہے اس کے علاوہ بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد، بھارتیہ مزدور سنگھ، بھارتیہ کسان سنگھ ، درگا واہنی ، سنسکار بھارتی جیسی بے شمار ذیلی تنظیمیں اس سے وابستہ ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اقتدار کے ایوانوں میں اس کا نام بھی لینا بھی ناگوار سمجھا جاتا تھا، آج یہ حال ہے کہ ملک کے وزیر اعظم یومِ آزادی کی لال قلعے سے کی جانے والی اپنی تقریر میں اسی آر ایس ایس کی تعریف اور توصیف میں رتب السان ہیں۔
اگرچہ ہندوئوں میں بیداری کا عمل دو سو برس قبل مسلمانوں کی حکمرانی ختم ہونے اور انگریزوں کی عملداری قائم ہونے کے ساتھ ہی شروع ہو چکا تھا۔ بنکم چندر چٹرجی، بال گنگادھر تلک اور دامودر ساورکر ہندو احیا پرستی کے علم بردار تھے۔ ساورکر نے ایک کتاب ’’ ہندتوا، ہندو کون ہے؟‘‘ کے نام سے لکھی تھی۔اس میں انہوں نے ہندوئوں کو ایک قوم ( راشٹر) قرار دیا۔ ان کے نظریہ کے مطابق ہندو وہ ہیں جن کے آباء و اجداد ہندوستان کے ہوں اور جو ہندوستان کو اپنی پِتر بھومی ( فادر لینڈ) اور مقدس سرزمین مانیں۔ ساورکر کے نظریات نے آر ایس ایس کے بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ آر ایس ایس کے قیام سے قبل ہندو مہا سبھا اور آریہ سماج جیسی تنظیمیں قائم ہو چکی تھیں۔1920 میں آریہ سماج نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک چلائی جو ’ شدھی‘ تحریک کہلاتی ہے۔گاندھی جی کی عدم تعاون تحریک کی ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر ہندو اور مسلمان فسادات ہوئے۔ اس سے قبل ہندو مہا سبھا کا مقصد گائے کا تحفظ، ہندی کا استعمال، اور ذات پات کے نظام میں اصلاح تک محدود تھا۔1923 کے ہندو مہا سبھا کے اجلاس میں صدر پنڈت مدن موہن مالویہ نے ہندوئوں کے مظبوط ہونے پر زور دیا۔ 1925میں ہندو مہا سبھا کے آٹھویں اجلاس میں لالہ لاجپت رائے نے گاندھی جی کی عدم تشدد یا اہنسا کی پالیسی پر سخت تنقید کی اور ہندو مت کو درپیش خطرات کا احساس دلایا۔ ان حالات میں 27 ستمبر 1925 کو وجے دشمی یا دسہرے کے موقع پرنا گپور میں آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا۔پہلے دن چند افراد ڈاکٹر ہیڈگیوار کے مکان پر جمع ہوئے ۔ڈاکٹر ہیڈگیوار نے اس دن موجود لوگوں کے سامنے تنظیم کا مقصد اور خاکہ پیش کیا۔ شروع میں باقاعدہ شاکھا کا نظم نہیں تھا ،ممبران کسی اکھاڑے میں جاکر ورزش کیا کرتے تھے۔ اگلے سال سے مخصوص مقامات پر شاکھائیں لگنا شروع ہوئیں ، لاٹھی کا استعمال اور اجتماعی پرارتھنا کو ضروری قرار دیا گیا۔تین سال گذرتے گذرتے ناگ پور میں اٹھارہ شاکھائیں لگنے لگی تھیں۔1928تک سیوم سیوکوں کی تعداد صرف 99 تک پہونچی تھی۔ اسی سال تنظیم میں حلف برداری کی رسم بھی شروع ہوئی۔یہ کہنا قطعی غلط ہے کہ آر ایس ایس کے اصول جرمنی کی نازی پارٹی سے اخذ کئے گئے تھے کیونکہ نازی پارٹی کئی سال کے بعد وجود میں آئی تھی۔ڈاکٹر ہیڈگیوار کا 21 جون 1940 کو انتقال ہو گیا۔
03 جولائی 1940 کو گولوالکر آر ایس ایس کے دوسرے سربراہ یا سر سنگھ چالک بنے ۔سنگھ کے جنرل سیکریٹری رہتے ہوئے 1939 میں وہ اپنی مشہور لیکن متنازعہ کتاب We or Our Nationhood defined لکھ چکے تھے۔ جس میں انہوں نے اپنے اس نظریے کا اظہار کیا تھا کہ ’’ ہندوستان میں موجود غیر ملکی نسلوں ( مسلمانوں،عیسائیوں)کو ہندو زبان اور تہذ یب اختیار کر لینی چاہئے ہندو قوم کی تعظیم کے علاو ہ ان کے ذہن اور دماغ میں کوئی اور بات نہیں آنی چاہئے یا پھر اس ملک میں ہندو قوم کے ماتحت رہیں۔ کسی خاص قسم کے برتائو تو دور کسی مراعات کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے۔‘ گولوالکر کے یہ نظریات ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد مظبوط کرنے کا سبسب بنے ۔ گولوالکر جنہیں عرف عام میں گرو جی کہا جاتا رہا ہے کے دور میں سنگھ نے ایک ملک گیر تنظیم کی شکل اختیار کی، ملک کی آزادی کا موقع آتے آتے شاکھائوں کی تعداد پانچ ہزار تک پہونچ چکی تھی۔ گاندھی جی کے قتل کے بعد حکومت ہند نے آر ایس ایس پر پابندی لگا دی۔ قاتل ناتھو رام گوڈسے کا تعلق ہندو مہا سبھا اور اس سے پہلے آر ایس ایس سے رہ چکا تھا۔ گاندھی جی کے قتل کی سازش میں سنگھ کی برا ہ راست شرکت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اٹھارہ ماہ بعد پابندی اٹھا لی گئی لیکن سنگھ کو اپنا تحریری دستور مرتب کرنا پڑا۔ اب سنگھ کے لوگ نئے جوش و خروش کے ساتھ اپنی تنظیم کو وسعت دینے میں لگ گئے۔بہت سی ذیلی تنظیمیں قائم کی گیئں۔جن کے الگ الگ مقاصد تھے۔سیاست میں حصہ لینے کے لئے جن سنگھ، طلباء کی تنظیم سازی کے لئے ’ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) اور مختلف طبقات میں کام کرنے کے لئے مختلف تنظیمیں بنائی گئیں۔ گولوالکر کی تقریروں کا مجموعہ بنچ آف تھاٹس ؓٗںثح Bunch of Thoughts کے نام سے شایع ہوا ۔ یہ بھی ایک متنازعہ کتاب قرار پائی۔
1973میں گرو گولولکر کے انتقال کے بعد بالا صاحب دیورس آر ایس ایس کے تیسرے سر سنگھ چالک بنے۔ ان کا دورآر ایس ایس کے لئے کافی اتھل پتھل کا رہا۔1974 میں ایک پرانے سوشلسٹ لیڈر جے پرکاش نارائن نے بد عنوانی اور مہنگائی کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔طلباء اس تحریک کے رو ح رواں تھے۔ اس تحریک میں جن سنگھ اور ودیارتھی پریشد بھی پیش پیش رہے۔1975 میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافظ کر دی اور ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔ آر ایس ایس کو ایک بار پھر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1977میں اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر جنتا پارٹی قائم کی جس میں آر ایس ایس کا سیاسی بازو رہی جن سنگھ بھی ضم ہو گئی۔اب تک آر ایس ایس کی شاکھائوں کی تعداد تیرہ ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔ جنتا پارٹی کا تجربہ ناکام ہو جانے کے بعد آر ایس ایس کے سیاسی بازو کے طور پر جن سنگھ کے لیڈران نے 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی BJP قائم کی۔
اس کے بعد کا دور آر ایس ایس کے ملک کی سیاست میں تیزی سے ابھار کا دور ہے۔اور یہی دور ملک میں فرقہ واریت کے ابھار کا بھی ہے۔پہلا معاملہ تامل ناڈو کے میناکشی پورم میں کثیر تعداد میں ہریجنوں کے اسلام قبول کرنے کا ہے۔جس کو لیکر ملک گیر تحریک چلائی گئی اور اصل وجوہات کے قطع نظر پیٹرو ڈالر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پورے ملک کی دیواریں فرقہ وارانہ ناروں سے رنگ دی گئیں۔دوسرا معاملہ جو آر ایس ایس اور اسکے سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے عروج کی بنیاد بنا وہ تھا بابری مسجد کی جگہ پر رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے لئے مہم جوئی۔ اس تنازعہ نے ہندوئوں اور مسلمانوں کے بیچ خلیج وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد آر ایس ایس کو ایک بار پھر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔1994 میں بالا صاحب دیورس صحت کے مسائل کو لیکر اپنے منصب سے دستبردار ہو گئے اور سر سنگھ چالک کا عہدہ پروفیسر راجندر سنگھ عرف رجو بھیا کو سونپ دیا۔ اس دوران آر ایس ایس کی سیاسی سرگرمیاں بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد جیسیی بے شمار ذیلی تنظیموں کے سہارے عروج پر پہونچ جاتی ہیں۔ ۔پروفیسر راجندر سنگھ بھی صحت کی خرابی کی بناء پر سر سنگھ چالک کا عہدہ کے ایس سدرشن کو سونپ دیتے ہیں ۔ کے ایس سدرشن کے زمانے میں اقلیتوں کے لئے زمین تنگ ہونے لگتی ہے ۔ عیسائیوں اور مسلمانوں سے اپنے مذاہب کا ہندوکرن کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اپنے دو پیشرئوں کی طرح کے ایس سدرشن نے بھی خرابیء صحت کی وجہ سے 2009 میں سر سنگھ چالک کا عہدہ موجودہ سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کو سونپ دیا۔ وہ آر ایس ایس کے چھٹے سر سنگھ چالک ہیں۔ اپنی پہلی ہی تقریر میں انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ ہندو راشٹر کے مقصد کو سامنے رکھیں گے اور یہ کہ بھارت ہندو راشٹر ہے اور یہاں کے تمام باشندے ہندو ہیں۔ یہ بیان وہ اکثر دوہراتے رہتے ہیں۔ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے دور میں بی جے پی کو عدیم المثال کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں مکمل اکثریت سے حکومت قائم ہوئی۔آج آر ایس ایس جس مقام پر ہے وہاں تک پہونچنے کا خواب دیکھنے کے لئے بھی بڑا حوصلہ چاہئے۔
آج مرکز کے علاوہ متعدد صوبوں میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ صدر ، نائب صدر ، وزیر اعظم سبھی آر ایس ایس کے پرچارک رہ چکے ہیں۔ اسی ہزار سے زیادہ شاکھائیں ہیں، ایک کروڑ سے زیادہ سیوم سیوک ہیں، تیس ہزار اسکول اور کالج اور تین لاکھ کا تدریسی عملہ ہے اور ان میں پچاس لاکھ سے زیادہ طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔تقریباََ ایک کروڑ بھارتیہ مزدور سنگھ کے ممبران ، پچاس لاکھ اے بی وی پی کے ممبر اور کروڑوں بی جے پی کے ورکر ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباََ چالیس دیگر ممالک میں اس کی سر گرمیاں جاری ہیں ۔سنگھ آج جس مقام پر ہے اس تک آنے کے لئے اس کے لیڈروں اور ممبران نے پوری استقامت سے ہر طرح کے حالات کا سامنا کیا ہے۔ ان کا کمٹمنٹ واقعی قابلِ داد ہے۔بابری مسجد میں بت رکھے جانے سے لیکر مسجد کی شہادت کا معاملہ ہو، آزادی کے بعد سے ہی فسادات کے لامتناہی سلسلہ ہو، فسادات کے دوران پولیس اور انتظامیہ کی جانبداری ہو، فرضی مقدمات قائم کرکے نوجوانوں کی زندگی برباد کرنے کا معاملہ ہو ، سی اے اے، این آر سی اور لو جہاد کو لیکر قانون سازی کا معاملہ ہو یا علماء اکرام کی گرفتاری کے معاملات ہوںہم ہمیشہ جس متعصب سنگھی ذہنیت کو ذمہ دارسمجھتے رہے ہیں بیشک اس طرح کی ذ ہنیت کی آبیاری نسلوں سے آر ایس ایس کرتا رہا ہے، اور آج زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہا آر ایس ایس کے ماحول میںپروردہ لوگ موجود نہ ہوں، آج کوئی سیاسی پار ٹی بھی اس سے مبرا نہیں ہے، کانگریس کا ایک بڑا طبقہ ہمیشہ سے آر ایس ایس کے نظریات کا حامل رہا ہے ، دیگر پارٹیوں کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے متعلق کسی مسئلے میں آواز ٹھانے کے بجائے خاموش رہتی ہیں کہ ہندو ووٹر ناراض نہ ہو جائے۔ ادھر آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کے کچھ بیانات سے مسلمانوں میں مثبت پیغام پہونچا ہے۔ ایک تو ماب لنچنگ کے بارے میں ان کا کہنا کہ ماب لنچنگ کرنے والے ہندو نہیں ہیں، اور ساورکر اور گرو گولوالکر کی کتابوں میں ظاہر کی گئی مسلم مخالفت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ا ن کو یہ کہنا پڑاکہ آر ایس ایس ایسے کسی نظریہ کا پابند نہیں ہے ۔ ایک حالیہ بیان میں انہوں نے ہندئوں اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہونا بتایا ہے۔ اور یہ بھی واضح کیا کہ لفظ ’’ہندو‘‘ کی اصطلاح وہ ہندستانی کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔مسلم راشٹریہ منچ پہلے ہی قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد مسلمانوں کو آر ایس ایس کے قریب لانا تھا۔ مسلم علماء اور دانوروں سے وہ اکثر ملاقات بھی کرتے رہے ہیں اور مسلمانوں کے قریب آنے کے کوشش بھی کرتے رہے ہیں لیکن انھیں احساس ہے کہ سنگھ کے نظریات کا بوجھ لے کر وہ اس راستے پر تیز نہیں چل سکتے ، ان حالات کے تناظر میں مکالمہ ضروری ہے ۔ غلط فہمیاں دور ہوں اور ہر طبقے میں اتحاد ہو یہ ملک میں امن و امان اور سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ آج آر ایس ایس کو سیاست اور سماج میں جومرکزی حیثیت حاصل ہے وہ ایک صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔


