جنگ نیوز ڈیسک
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے بیانات نے طویل عرصے سے جاری جوہری کشیدگی میں کسی حد تک لچک کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن توانائی کے حصول تک محدود ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات کی آمادگی تو ظاہر کی لیکن شرط رکھی کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنا ہوگی۔یہ دو ٹوک شرط ایرانی قیادت کے بیانیے سے متصادم ہے، خاص طور پر اس وقت جب سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کر دیا ہے کہ کسی دباؤ میں آکر امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اسی دوران، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے اعلان کیا ہے کہ ایران دوبارہ معائنوں کی اجازت دینے اور اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی تفصیلات فراہم کرنے پر آمادہ ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر ایران کے ارادوں کو شفاف بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر ساتھ ہی ایران نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر نئی پابندیاں عائد ہوئیں تو تعاون منسوخ ہو سکتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ ایک طرف واشنگٹن "شرائط پر مبنی مذاکرات” کی حکمتِ عملی پر قائم ہے تو دوسری جانب تہران "اعتماد سازی اور عزتِ نفس” کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ نتیجہ اس وقت تک سامنے نہیں آئے گا جب تک دونوں فریقین سفارت کاری کو محض الزام تراشی کے بجائے حقیقی اعتماد سازی کے عمل میں تبدیل نہ کریں۔


