چاکلیٹ کا ڈبہ

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

شازیہ انجم باورچی خانہ میں گرے پڑے چاکلیٹ اور اس ڈبے کو حسرت بھری نگایوں سے تک رہی تھی جو آج صبح اس کا بھائی طاہرانجم اس کے سسرال لایا تھا ۔شازیہ انجم کی ساس فریدہ بیگم سسر جی مرزا لالے کے علاوہ شازیہ انجم کے شوہر مرزا بانکے سے بھی ملاقات کرکے اپنے گھر نکل گیا تھا ۔شازیہ انجم باورچی خانہ میں باقی کام نپٹانے چلی گئی جھاڑو لگانے برتن دھونے میں مصروف رہی۔تھوڑی دیر نہ گزری کہ ساس فریدہ بیگم نے ڈبہ کھولا تو اچھنبے میں آگئی لالے مرزا کی طرف بڑھایا ڈبہ کا ایک کونہ خالی پایا شازیہ انجم کا شوہر مرزا بانکے آگ بگولہ ہوا چاکلیٹ ایک ایک گننے لگے تعداد میں ۲ کم نکلے ۔ساس
سسر نے نہ آو دیکھا نہ تاو ڈبہ شازیہ انجم کے سر کو مارا جو سر کے بجائے شازیہ کے شانے کو لگا۔ساس سسر برا بھلا کہنے لگے طاہر انجم کو کوسنے لگے *ایسے فقیر نہیں دیکھے تیرے گھر والے جیسے۔تیرا بھائی شکم سیر یہاں سے نکلا بہن کی کمائی کھا گیا *شازیہ خود کو سنبھالنے والی ہی تھی کہ رہی سہی کسر مرزا بانکے نے پوری کی ۔شازیہ انجم کو دو تین سنائے ۔ساس پیچھے ہٹنے والی کہاں بیٹھی طعنوں کی بوچھاڑ کرکے دل کی بھڑاس نکالی ۔
شازیہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ بھڑکے کیوں ہوگئے دبی دبی آواز میں کہنے لگی۔*بات کیا ہے* اتنا ہی کہنا تھا کہ تینوں بھڑکے غرائی آواز میں کہنے لگے ( تیرا بھائی چاکلیٹ کا ڈبہ آدھا لایا ایک کونہ خالی ہے ہم نے ایک ایک گنے ۱۰۰ میں ۲کم نکلے یہ اس نے مذاق کیا ۔ہم بھی بازار دیکھے ہیں خریداری کی ہے اتنے گئے گزرے نہیں کہ مذاق کریں) مرزا لالے نے طنزیہ کہا اتنا بھڑکے کہ پڑوسیوں کے دروازے بند ہوگئے
وہ مرزا لالے کے گھر سے واقف تھے کوئی دن ایسا نہ گزرا کہ لالے کے گھر خاموشی ہو اور بیچاری بہو سکون سے رہے
شازیہ کی بے بسی پر سب چپ تھے وہ مرزا لالے کو بار ہا سمجھا چکے تھے لیکن لالے کا کورا جواب سن کے چپ ہوگئے تھے ۔شازیہ روئے جارہی تھی باورچی خانہ میں اس کےسوا اب کوئی نہیں تھا ساس سسر ڈانٹ ڈپٹ کرکےاپنے کمرے میں چلے گئے تھے مرزا بانکے بھی کام پر چلا گیا تھا شازیہ نے گرے پڑے چاکلیٹ اٹھا ئے ڈبہ بھرا اور فرج کے اوپر سنبھال کے رکھا تاکہ بھائی طاہر انجم کو واپس کرے اور دوبارہ یہاں آنے سے منع کرے ۔۔۔۔۔۔ شام ہوچکی تھی شازیہ رات کا کھانا پکا کر باورچی خانہ میں گم سم بیٹھی تھی اسی لمحے ساس داخل ہوئی اور شازیہ کو دستر خواں بچھانے کاحکم دیا کھانا لگ گیا سب کھانے سے فارغ ہوکر چاکلیٹ کا ڈبہ تلاش کرنے لگے ۔شازیہ نے ڈبے کی نشاندہی کی لے گئے اور شوہر مرزا بانکے کے ساتھ ساتھ سسر اور ساس بھی کھانے میں مصروف ہوگئے۔۔شازیہ انجم کھڑکی کی اوٹ سے چاکلیٹ کے ڈبے پر سسر ساس اور شوہر کا اس قدر جھپٹ پڑنے پر زیر لب بڑ بڑا کر کہہ رہی تھی (بے غیرت اعرابی مغرب کے بھکاری)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

چاکلیٹ کا ڈبہ

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

شازیہ انجم باورچی خانہ میں گرے پڑے چاکلیٹ اور اس ڈبے کو حسرت بھری نگایوں سے تک رہی تھی جو آج صبح اس کا بھائی طاہرانجم اس کے سسرال لایا تھا ۔شازیہ انجم کی ساس فریدہ بیگم سسر جی مرزا لالے کے علاوہ شازیہ انجم کے شوہر مرزا بانکے سے بھی ملاقات کرکے اپنے گھر نکل گیا تھا ۔شازیہ انجم باورچی خانہ میں باقی کام نپٹانے چلی گئی جھاڑو لگانے برتن دھونے میں مصروف رہی۔تھوڑی دیر نہ گزری کہ ساس فریدہ بیگم نے ڈبہ کھولا تو اچھنبے میں آگئی لالے مرزا کی طرف بڑھایا ڈبہ کا ایک کونہ خالی پایا شازیہ انجم کا شوہر مرزا بانکے آگ بگولہ ہوا چاکلیٹ ایک ایک گننے لگے تعداد میں ۲ کم نکلے ۔ساس
سسر نے نہ آو دیکھا نہ تاو ڈبہ شازیہ انجم کے سر کو مارا جو سر کے بجائے شازیہ کے شانے کو لگا۔ساس سسر برا بھلا کہنے لگے طاہر انجم کو کوسنے لگے *ایسے فقیر نہیں دیکھے تیرے گھر والے جیسے۔تیرا بھائی شکم سیر یہاں سے نکلا بہن کی کمائی کھا گیا *شازیہ خود کو سنبھالنے والی ہی تھی کہ رہی سہی کسر مرزا بانکے نے پوری کی ۔شازیہ انجم کو دو تین سنائے ۔ساس پیچھے ہٹنے والی کہاں بیٹھی طعنوں کی بوچھاڑ کرکے دل کی بھڑاس نکالی ۔
شازیہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ بھڑکے کیوں ہوگئے دبی دبی آواز میں کہنے لگی۔*بات کیا ہے* اتنا ہی کہنا تھا کہ تینوں بھڑکے غرائی آواز میں کہنے لگے ( تیرا بھائی چاکلیٹ کا ڈبہ آدھا لایا ایک کونہ خالی ہے ہم نے ایک ایک گنے ۱۰۰ میں ۲کم نکلے یہ اس نے مذاق کیا ۔ہم بھی بازار دیکھے ہیں خریداری کی ہے اتنے گئے گزرے نہیں کہ مذاق کریں) مرزا لالے نے طنزیہ کہا اتنا بھڑکے کہ پڑوسیوں کے دروازے بند ہوگئے
وہ مرزا لالے کے گھر سے واقف تھے کوئی دن ایسا نہ گزرا کہ لالے کے گھر خاموشی ہو اور بیچاری بہو سکون سے رہے
شازیہ کی بے بسی پر سب چپ تھے وہ مرزا لالے کو بار ہا سمجھا چکے تھے لیکن لالے کا کورا جواب سن کے چپ ہوگئے تھے ۔شازیہ روئے جارہی تھی باورچی خانہ میں اس کےسوا اب کوئی نہیں تھا ساس سسر ڈانٹ ڈپٹ کرکےاپنے کمرے میں چلے گئے تھے مرزا بانکے بھی کام پر چلا گیا تھا شازیہ نے گرے پڑے چاکلیٹ اٹھا ئے ڈبہ بھرا اور فرج کے اوپر سنبھال کے رکھا تاکہ بھائی طاہر انجم کو واپس کرے اور دوبارہ یہاں آنے سے منع کرے ۔۔۔۔۔۔ شام ہوچکی تھی شازیہ رات کا کھانا پکا کر باورچی خانہ میں گم سم بیٹھی تھی اسی لمحے ساس داخل ہوئی اور شازیہ کو دستر خواں بچھانے کاحکم دیا کھانا لگ گیا سب کھانے سے فارغ ہوکر چاکلیٹ کا ڈبہ تلاش کرنے لگے ۔شازیہ نے ڈبے کی نشاندہی کی لے گئے اور شوہر مرزا بانکے کے ساتھ ساتھ سسر اور ساس بھی کھانے میں مصروف ہوگئے۔۔شازیہ انجم کھڑکی کی اوٹ سے چاکلیٹ کے ڈبے پر سسر ساس اور شوہر کا اس قدر جھپٹ پڑنے پر زیر لب بڑ بڑا کر کہہ رہی تھی (بے غیرت اعرابی مغرب کے بھکاری)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں