سیرت طیبہ ﷺ میں بے روزگاری کا حل

بلال احمد پرے
ہاری پاری گام ترال

خالقِ کائینات نے انسان کو دنیا میں بیجھ کر وہ سب سِکھلایا، جس سے وہ یہاں اپنی زندگی گزار سکتا ہے ۔ اسی زندگی کو گُزر بسر کرنے کے لئے معاشی جدوجہد بھی ضروری ہے ۔ تاکہ انسان اپنی ضروریات کو اپنے آپ پورا کر سکیں ۔ موجودہ وقت میں سرکاری نوکریاں ملنا ناممکن بن چکا ہے جس کی وجہ سے بے شمار لکھے پڑھے نوجوان بے روزگاری میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں ۔ حالانکہ دیگر ذرائع معاش تو بے شمار میسر ہیں، لیکن انسان کے اندر کام کرنے کی لگن، دلچسپی اور جوش موجود ہو ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ” اور ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی، اور اس میں تمہارے لئے روزی کے اسباب پیدا کئے ۔” (الاعراف؛ 10)
یہاں ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے کسی نہ کسی ظاہری معاشی اَسباب کا سہارا لینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اور انسان کو بے کار بیٹھنے، کاہل و سُست بننے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ” پھر جب نماز ادا ہو جائے، تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ۔” (الجمعہ؛ 10)
یعنی نماز جمعہ کے لئے اذان کے فوراً بعد معاش کمانے، تجارت کرنے و دیگر کام کاج میں مشغول رہنے پر جو پابندی عائد ہوئی تھی، اس پابندی کو اب نماز ادا ہوتے ہی ہٹا دیا گیا ہے ۔
لہذا یہاں نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ روزگار حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ جس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام بے کار بیٹھنے کا روادار نہیں ۔ رب العالمین نے مال و دولت کو لفظ خیر و فضل سے تعبیر فرمایا ہے ۔ کیونکہ مال و دولت سے سرفراز ہونے پر ہی مسلمانوں کو زکوٰۃ و حج جیسے بنیادی ارکانِ اسلام فرض ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے زمین میں پھیل جاؤ اور جو ذرائع حلال ممکن ہوں، ان سے حصولِ رزق کے لیے محنت و جستجو کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے ۔
کُتبِ سیرت کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ امام الانبیاء، شفیع المزنبین، ختم الرسل، خیر الانام سرورکونین حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ہی معاشی سرگرمیاں اختیار کیں ہے ۔ آپ ﷺ نے بچپن میں اپنے رضاعی بھائی عبداللہ اور رضاعی بہن شیما کے ساتھ حلیمہ سعدیہ کے وہاں بکریاں چرانے کا کام کیا ۔ حالانکہ مکہ المکرمہ میں رہتے ہوئے بھی آپ ﷺ اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض میں چراتے تھے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کسی پر بوجھ بننے کے بجائے اپنی روزی روٹی خود کمانا چاہیے ۔ اور کام پر اُجرت لینا، مزدوری کرنا، کوئی پیشہ ورانہ خدمات پر اجارہ داری کرنا نہ غیر شرعی ہے اور نہ سنت نبوی کے خلاف ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ” کہ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں حتیٰ کہ حضرت داؤد، موسٰی علیہم السلام نے بھی چرائی (البخاری) ہیں ۔ جس سے انبیاء کرام علیہم السلام کے اندر صبر و استقلال، استقامت، سمجھ داری، ہوشیاری اور بردباری جیسے اوصاف پیدا کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہیں ۔
اس طرح کی تعلیمات سے آج کل کے ہم عصّر زمانے میں ڈائری فارم (Diary Farm) بھیڑ و بکریوں کا فارم (Sheep Farm)، پولٹری فارم (Poultry Farm) اور بھینسیں چرائے جانے کا تصور ملتا ہے ۔ جس کی آمدن سے انسان اپنی معاشی حالت مستحکم بنا کر دوسرے لوگوں کے لئے بھی روزگار کے وسائل پیدا کر سکتا ہے ۔
نزولِ وحی کے ابتدائی موقع پر حضرت خدیجہؓ کا آپ ﷺ کو اس طرح کے الفاظ سے تسلی دینا ” آپ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے، مہمان نوازی کرتے، جن کے پاس کچھ نہیں اُنہیں کما کر دیتے ہیں ” اس بات کی عکاسی ہے کہ آپ ﷺ اس قدر خود کفیل تھے کہ آپ ﷺ دوسروں کو بھی مدد فرمایا کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے تجارتی سرگرمیاں بڑی دیانتداری، وفا شعاری، اعتماد سازی، بھروسہ مندی، صاف و شفاف اصول و ضوابط کے ساتھ انجام دی ہیں ۔ آپ ﷺ نے اپنے چچا جان ابو طالب و زبیرؓ کے ساتھ تجارتی اسفار طے کرنے کیے ۔ اس کے علاوہ حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہ کے مال کو بحثیت اجارہ داری (representative) پر بھی تجارت کی سرگرمیاں بخوبی انجام دی ہے ۔ تجارت کی یہ ترغیب آپ ﷺ کو اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں ملی ہے ۔
نبی آخرالزمان ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے نکاح کرنے کے بعد سامانِ تجارت بحرین میں اس وقت کی مشہور و معروف بین الاقوامی تجارتی منڈی میں شرکت کرنے کے غرض سے لے لیا ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ نفع کمایا جائے اور اپنے تجارتی سامان کو بین الاقوامی سطح تک پروموٹ (promotion) بھی کیا جائے ۔
اس سے یہی تعلیم ملتی ہے کہ کسی کے مال کو فروخت کرنے کے غرض سے تجارتی سفر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ یہ سُنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے ۔ آج کل اسی طرح کی تجارت کے لئے مختلف لوگ مختلف چیزیں اپنا منافع کمانے کے غرض سے فروخت کرتے ہیں ۔ جن میں اکثریت شعبہ طب سے وابستہ نمائندوں medical representatives کی ہیں ۔ اسی طرح کپڑے، ہینڈی کرافٹس کے اشیاء وغیرہ کی تجارت کرنے والے لوگ بھی اس طرح سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں ۔ جنہیں اسلام کے وہی اصول و ضوابط اپنانے کی ضرورت ہیں جو رہبرِ کامل، امام الانبیاء، خیر الانام ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں ۔
سیرتِ طیبہ ﷺ میں نہ صرف حضرت نبی اکرم ﷺ کی اپنی انفرادی حیات مبارک میں ذریعہ معاش کمانے کی تعلیم ملتی ہے بلکہ آپ ﷺ نے اپنے جانثار صحابہ کبار رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کو بھی یہی سبق سکھلایا کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے حلال اور با عزت روزگار کمانے کے اسباب اختیار کریں ۔ رسول اللہ ﷺ کا مبارک ارشاد ہے کہ ” فرائض کے بعد کسبِ حلال کی تلاش بھی فرض ہے "۔ (البیھقی، مشکوٰۃ؛ 2781)
اللہ کے آخری نبی ﷺ نے ایک موقع پر کسی صحابیؓ کو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی اپنے بندے کو صنعت و حرفت کی حالت میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے انصار جو کہ زمیندار تھے کو اس کی کاشتکاری کی ترغیب دی اور مہاجرین جو تجارت پیشہ تھے کو تجارت کے فضائل بیان کر کے اس کی طرف متوجہ فرمایا ہے ۔
اسی طرح ایک اور موقع پر لوگ ایک ایسے شخص کی تعریفیں کر رہے تھے جو بڑا عابد و زاہد تھا، دن کو روزے رکھتا اور رات کو عبادت کرتا تھا ۔ نبی رحمت ﷺ نے سنا اور ان سے پوچھا کہ ” پھر وہ کہاں سے کھاتا ہے” ؟ آپ ﷺ کو جواباً عرض کیا گیا کہ اس کا ایک بھائی ہے جو کما کر لاتا ہے، خود بھی کھاتا ہے اور اس عابد و زاہد بھائی کو بھی کِھلاتا ہے ۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے اس پر فرمایا ” تم جانتے ہو ان دونوں میں بہتر کون ہے”؟ عرض کیا گیا حضور ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں ۔ تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ” اللہ تعالٰی کے ہاں اس کا بھائی درجے میں اس سے بہتر ہے ۔”
لہذا اس سے معلوم ہوا کہ عملِ صالحات کے ساتھ ساتھ حلال کمائی کرنے والا بہترین مسلمان ہے۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا کہ ” آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر اچھی تجارت ” (احمد، مشکوٰۃ؛ 2783) کو سب سے پاکیزہ کسب گنوا کر اُمتِ مسلمہ کو آگاہ کیا ۔
دوسری جانب نبی رحمت ﷺ کی مبارک زندگی سے یہ بھی ظاہر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جزیرۃ العرب میں بے شمار دیگر ذرائع معاش جن میں جُوا، شراب، سود، سٹہ بازی، لُوٹ کھسوٹ قابل ذکر ہیں کو میسر ہونے کے باوجود ہرگز نہیں اپنایا ۔ کیونکہ یہ سبھی ذرائع ناجائز اور غیر اخلاقی تھے ۔ جنہیں بعد میں قرآن کریم نے غیر شرعی بھی ٹھرایا ہیں ۔ یہ اُمت مسلمہ کو تربیت کی جا رہی تھی کہ اس طرح کے سبھی ناجائز، غیر اخلاقی اور غیر شرعی ذرائع معاش سے اجتناب کر کے اپنے آپ کو بچانا چاہئے ۔ اور دیگر میّسر حلال طریقوں سے اپنی ذرائع معاش حاصل کرنی چاہئے ۔ موجودہ دور میں شراب، سود، فکی، و دیگر منشیات کے کاروبار سے اگر چہ بے پناہ منافع حاصل ہونے کی قوی امکان موجود ہے، لیکن اس طرح کے کاروبار کرنے سے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے اور ایسے اُمتی کو اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کی رضا ہرگز حاصل نہیں ہوگی ۔
اسلام میں پیشوں کی اونچ نیچ میں تمیز کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے (الشعرائ؛ 112) بلکہ یہ سب مشرکین مکہ کا شیوہ رہا ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے قوم کی طرح قریش کے کفار، نبی پاک ﷺ کے متعلق کہتے رہیں کہ آپ ﷺ کے پیروکار یا تو مفلس، غلام اور غریب لوگ ہیں یا چند نادان لڑکے ہیں جب کہ امراء، اکابر اور معززین میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں ہے ۔ لہذا وہ سبھی پیشے جو شرعی اعتبار سے درست ہے کو عزت و اکرام کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے ۔ چہ جائیکہ وہ درزی سے ترکھان، ڈرائیور سے پیلاٹ، مزدور سے دستکار یا تاجر سے ملازم تک کے ہوں ۔
اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ کے جانثار صحابہ کبار رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین ایمان و یقین کے پیکر تھے اور دینداری کے ساتھ ساتھ وہ اپنا ذریعہ معاش کمانے سے کافی دولت مند بھی ہوئے تھے ۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے ۔ جنہوں نے دینِ اسلام کی حفاظت، اقامت و اشاعت کے لئے اپنی بے شمار دولت خرچ کی ہے ۔
خلیفہ دوم حضرت عمرؓ بھی تجارت پیشہ کے علاوہ زراعت کی کاشت بھی کرتے تھے ۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان ؓ بھی بہت بڑے تاجر تھے جنہیں غیر معمولی دولت کی وجہ سے غنی یعنی بے نیاز کا خطاب ملا ۔ اسی طرح حضرت زبیرؓ بن عوام اعلٰی پیمانے پر اپنی زراعت و تجارت کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے مدینہ میں دودھ و پنیر کی تجارت شروع کی اور ترقی کے منازل طے کئے ۔
حضرت طلحہ ؓ نے تجارت کے سلسلے میں دور دراز ملکوں کا سفر کیا، کافی دولت کمائی، خوب خرچ کیا یہاں تک کہ دربارِ رسالت سے فیاض کا خطاب ملا ۔ حضرت انس بن مالک ؓ کو اس قدر بکریاں اور ملازم تھے کہ ان کی تعداد کا اندازہ ہی نہیں تھا ۔ حضرات سعیدؓ بن عاص اس قدر دولت مند اور فیاض تھے کہ اپنے تمام عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کے علاوہ سائلوں اور نمازیوں میں کثرت سے نقد و جنس مسلسل تقسیم کیا کرتے تھے ۔
اسی طرح حضرت عباسؓ قریش کے بلند پایہ تاجروں میں شمار ہوتے تھے ۔ جو نہایت ہی سخی، رحم دل اور کشادہ دست تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ دریا دلی میں بے مثال تھے ۔ حضرت عدی بن حاتمؓ اپنے باپ حاتم طائی کی طرح بڑے سخی تھے، دل کھول کر خرچ کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سخاوت اور فیاضی میں مقبول تھے جو دریا دلی سے خرچ کرتے تھے ۔ حضرت خبابؓ نے تلواریں بناکر خوشحال معاشی زندگی گزاری ۔ اسی طرح تابعین میں سے امام ابو حنیفہؒ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے جو نہایت ہی فیاض، علم نواز اور حق شناس تھے ۔ حضرت حسن بصریؒ موتیوں کی تجارت کیا کرتے تھے ۔ اور دونوں اللہ کی راہ میں خوب خرچ کیا کرتے تھے ۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ ایک انسان کو اپنے ہاتھوں سے کمائی کرنی چاہیے ۔ تاکہ وہ دنیا میں ایک خوشحال زندگی گزار سکیں ۔ اور دین دار کے ساتھ ساتھ دنیا دار بھی بن سکے ۔ دنیا تو آخرت تک پہنچنے کی زادِ راہ ہے ۔ اسی لئے قرآن کریم نے یہ دُعا سکھلائی کہ ” یا اللہ ہمیں دُنیا کی بھلائی بھی اور آخرت کی بھلائی بھی (البقرہ؛ 102) عطا فرما ” کیونکہ دینِ اسلام میں ترکِ دنیا کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے ۔ لہٰذا انسان کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنا ذریعہ معاش خود کمانا چاہیے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

سیرت طیبہ ﷺ میں بے روزگاری کا حل

بلال احمد پرے
ہاری پاری گام ترال

خالقِ کائینات نے انسان کو دنیا میں بیجھ کر وہ سب سِکھلایا، جس سے وہ یہاں اپنی زندگی گزار سکتا ہے ۔ اسی زندگی کو گُزر بسر کرنے کے لئے معاشی جدوجہد بھی ضروری ہے ۔ تاکہ انسان اپنی ضروریات کو اپنے آپ پورا کر سکیں ۔ موجودہ وقت میں سرکاری نوکریاں ملنا ناممکن بن چکا ہے جس کی وجہ سے بے شمار لکھے پڑھے نوجوان بے روزگاری میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں ۔ حالانکہ دیگر ذرائع معاش تو بے شمار میسر ہیں، لیکن انسان کے اندر کام کرنے کی لگن، دلچسپی اور جوش موجود ہو ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ” اور ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی، اور اس میں تمہارے لئے روزی کے اسباب پیدا کئے ۔” (الاعراف؛ 10)
یہاں ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے کسی نہ کسی ظاہری معاشی اَسباب کا سہارا لینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اور انسان کو بے کار بیٹھنے، کاہل و سُست بننے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ” پھر جب نماز ادا ہو جائے، تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ۔” (الجمعہ؛ 10)
یعنی نماز جمعہ کے لئے اذان کے فوراً بعد معاش کمانے، تجارت کرنے و دیگر کام کاج میں مشغول رہنے پر جو پابندی عائد ہوئی تھی، اس پابندی کو اب نماز ادا ہوتے ہی ہٹا دیا گیا ہے ۔
لہذا یہاں نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ روزگار حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ جس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام بے کار بیٹھنے کا روادار نہیں ۔ رب العالمین نے مال و دولت کو لفظ خیر و فضل سے تعبیر فرمایا ہے ۔ کیونکہ مال و دولت سے سرفراز ہونے پر ہی مسلمانوں کو زکوٰۃ و حج جیسے بنیادی ارکانِ اسلام فرض ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے زمین میں پھیل جاؤ اور جو ذرائع حلال ممکن ہوں، ان سے حصولِ رزق کے لیے محنت و جستجو کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے ۔
کُتبِ سیرت کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ امام الانبیاء، شفیع المزنبین، ختم الرسل، خیر الانام سرورکونین حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ہی معاشی سرگرمیاں اختیار کیں ہے ۔ آپ ﷺ نے بچپن میں اپنے رضاعی بھائی عبداللہ اور رضاعی بہن شیما کے ساتھ حلیمہ سعدیہ کے وہاں بکریاں چرانے کا کام کیا ۔ حالانکہ مکہ المکرمہ میں رہتے ہوئے بھی آپ ﷺ اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض میں چراتے تھے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کسی پر بوجھ بننے کے بجائے اپنی روزی روٹی خود کمانا چاہیے ۔ اور کام پر اُجرت لینا، مزدوری کرنا، کوئی پیشہ ورانہ خدمات پر اجارہ داری کرنا نہ غیر شرعی ہے اور نہ سنت نبوی کے خلاف ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ” کہ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں حتیٰ کہ حضرت داؤد، موسٰی علیہم السلام نے بھی چرائی (البخاری) ہیں ۔ جس سے انبیاء کرام علیہم السلام کے اندر صبر و استقلال، استقامت، سمجھ داری، ہوشیاری اور بردباری جیسے اوصاف پیدا کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہیں ۔
اس طرح کی تعلیمات سے آج کل کے ہم عصّر زمانے میں ڈائری فارم (Diary Farm) بھیڑ و بکریوں کا فارم (Sheep Farm)، پولٹری فارم (Poultry Farm) اور بھینسیں چرائے جانے کا تصور ملتا ہے ۔ جس کی آمدن سے انسان اپنی معاشی حالت مستحکم بنا کر دوسرے لوگوں کے لئے بھی روزگار کے وسائل پیدا کر سکتا ہے ۔
نزولِ وحی کے ابتدائی موقع پر حضرت خدیجہؓ کا آپ ﷺ کو اس طرح کے الفاظ سے تسلی دینا ” آپ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے، مہمان نوازی کرتے، جن کے پاس کچھ نہیں اُنہیں کما کر دیتے ہیں ” اس بات کی عکاسی ہے کہ آپ ﷺ اس قدر خود کفیل تھے کہ آپ ﷺ دوسروں کو بھی مدد فرمایا کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے تجارتی سرگرمیاں بڑی دیانتداری، وفا شعاری، اعتماد سازی، بھروسہ مندی، صاف و شفاف اصول و ضوابط کے ساتھ انجام دی ہیں ۔ آپ ﷺ نے اپنے چچا جان ابو طالب و زبیرؓ کے ساتھ تجارتی اسفار طے کرنے کیے ۔ اس کے علاوہ حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہ کے مال کو بحثیت اجارہ داری (representative) پر بھی تجارت کی سرگرمیاں بخوبی انجام دی ہے ۔ تجارت کی یہ ترغیب آپ ﷺ کو اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں ملی ہے ۔
نبی آخرالزمان ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے نکاح کرنے کے بعد سامانِ تجارت بحرین میں اس وقت کی مشہور و معروف بین الاقوامی تجارتی منڈی میں شرکت کرنے کے غرض سے لے لیا ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ نفع کمایا جائے اور اپنے تجارتی سامان کو بین الاقوامی سطح تک پروموٹ (promotion) بھی کیا جائے ۔
اس سے یہی تعلیم ملتی ہے کہ کسی کے مال کو فروخت کرنے کے غرض سے تجارتی سفر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ یہ سُنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے ۔ آج کل اسی طرح کی تجارت کے لئے مختلف لوگ مختلف چیزیں اپنا منافع کمانے کے غرض سے فروخت کرتے ہیں ۔ جن میں اکثریت شعبہ طب سے وابستہ نمائندوں medical representatives کی ہیں ۔ اسی طرح کپڑے، ہینڈی کرافٹس کے اشیاء وغیرہ کی تجارت کرنے والے لوگ بھی اس طرح سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں ۔ جنہیں اسلام کے وہی اصول و ضوابط اپنانے کی ضرورت ہیں جو رہبرِ کامل، امام الانبیاء، خیر الانام ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں ۔
سیرتِ طیبہ ﷺ میں نہ صرف حضرت نبی اکرم ﷺ کی اپنی انفرادی حیات مبارک میں ذریعہ معاش کمانے کی تعلیم ملتی ہے بلکہ آپ ﷺ نے اپنے جانثار صحابہ کبار رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کو بھی یہی سبق سکھلایا کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے حلال اور با عزت روزگار کمانے کے اسباب اختیار کریں ۔ رسول اللہ ﷺ کا مبارک ارشاد ہے کہ ” فرائض کے بعد کسبِ حلال کی تلاش بھی فرض ہے "۔ (البیھقی، مشکوٰۃ؛ 2781)
اللہ کے آخری نبی ﷺ نے ایک موقع پر کسی صحابیؓ کو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی اپنے بندے کو صنعت و حرفت کی حالت میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے انصار جو کہ زمیندار تھے کو اس کی کاشتکاری کی ترغیب دی اور مہاجرین جو تجارت پیشہ تھے کو تجارت کے فضائل بیان کر کے اس کی طرف متوجہ فرمایا ہے ۔
اسی طرح ایک اور موقع پر لوگ ایک ایسے شخص کی تعریفیں کر رہے تھے جو بڑا عابد و زاہد تھا، دن کو روزے رکھتا اور رات کو عبادت کرتا تھا ۔ نبی رحمت ﷺ نے سنا اور ان سے پوچھا کہ ” پھر وہ کہاں سے کھاتا ہے” ؟ آپ ﷺ کو جواباً عرض کیا گیا کہ اس کا ایک بھائی ہے جو کما کر لاتا ہے، خود بھی کھاتا ہے اور اس عابد و زاہد بھائی کو بھی کِھلاتا ہے ۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے اس پر فرمایا ” تم جانتے ہو ان دونوں میں بہتر کون ہے”؟ عرض کیا گیا حضور ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں ۔ تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ” اللہ تعالٰی کے ہاں اس کا بھائی درجے میں اس سے بہتر ہے ۔”
لہذا اس سے معلوم ہوا کہ عملِ صالحات کے ساتھ ساتھ حلال کمائی کرنے والا بہترین مسلمان ہے۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا کہ ” آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر اچھی تجارت ” (احمد، مشکوٰۃ؛ 2783) کو سب سے پاکیزہ کسب گنوا کر اُمتِ مسلمہ کو آگاہ کیا ۔
دوسری جانب نبی رحمت ﷺ کی مبارک زندگی سے یہ بھی ظاہر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جزیرۃ العرب میں بے شمار دیگر ذرائع معاش جن میں جُوا، شراب، سود، سٹہ بازی، لُوٹ کھسوٹ قابل ذکر ہیں کو میسر ہونے کے باوجود ہرگز نہیں اپنایا ۔ کیونکہ یہ سبھی ذرائع ناجائز اور غیر اخلاقی تھے ۔ جنہیں بعد میں قرآن کریم نے غیر شرعی بھی ٹھرایا ہیں ۔ یہ اُمت مسلمہ کو تربیت کی جا رہی تھی کہ اس طرح کے سبھی ناجائز، غیر اخلاقی اور غیر شرعی ذرائع معاش سے اجتناب کر کے اپنے آپ کو بچانا چاہئے ۔ اور دیگر میّسر حلال طریقوں سے اپنی ذرائع معاش حاصل کرنی چاہئے ۔ موجودہ دور میں شراب، سود، فکی، و دیگر منشیات کے کاروبار سے اگر چہ بے پناہ منافع حاصل ہونے کی قوی امکان موجود ہے، لیکن اس طرح کے کاروبار کرنے سے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے اور ایسے اُمتی کو اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کی رضا ہرگز حاصل نہیں ہوگی ۔
اسلام میں پیشوں کی اونچ نیچ میں تمیز کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے (الشعرائ؛ 112) بلکہ یہ سب مشرکین مکہ کا شیوہ رہا ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے قوم کی طرح قریش کے کفار، نبی پاک ﷺ کے متعلق کہتے رہیں کہ آپ ﷺ کے پیروکار یا تو مفلس، غلام اور غریب لوگ ہیں یا چند نادان لڑکے ہیں جب کہ امراء، اکابر اور معززین میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں ہے ۔ لہذا وہ سبھی پیشے جو شرعی اعتبار سے درست ہے کو عزت و اکرام کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے ۔ چہ جائیکہ وہ درزی سے ترکھان، ڈرائیور سے پیلاٹ، مزدور سے دستکار یا تاجر سے ملازم تک کے ہوں ۔
اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ کے جانثار صحابہ کبار رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین ایمان و یقین کے پیکر تھے اور دینداری کے ساتھ ساتھ وہ اپنا ذریعہ معاش کمانے سے کافی دولت مند بھی ہوئے تھے ۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے ۔ جنہوں نے دینِ اسلام کی حفاظت، اقامت و اشاعت کے لئے اپنی بے شمار دولت خرچ کی ہے ۔
خلیفہ دوم حضرت عمرؓ بھی تجارت پیشہ کے علاوہ زراعت کی کاشت بھی کرتے تھے ۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان ؓ بھی بہت بڑے تاجر تھے جنہیں غیر معمولی دولت کی وجہ سے غنی یعنی بے نیاز کا خطاب ملا ۔ اسی طرح حضرت زبیرؓ بن عوام اعلٰی پیمانے پر اپنی زراعت و تجارت کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے مدینہ میں دودھ و پنیر کی تجارت شروع کی اور ترقی کے منازل طے کئے ۔
حضرت طلحہ ؓ نے تجارت کے سلسلے میں دور دراز ملکوں کا سفر کیا، کافی دولت کمائی، خوب خرچ کیا یہاں تک کہ دربارِ رسالت سے فیاض کا خطاب ملا ۔ حضرت انس بن مالک ؓ کو اس قدر بکریاں اور ملازم تھے کہ ان کی تعداد کا اندازہ ہی نہیں تھا ۔ حضرات سعیدؓ بن عاص اس قدر دولت مند اور فیاض تھے کہ اپنے تمام عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کے علاوہ سائلوں اور نمازیوں میں کثرت سے نقد و جنس مسلسل تقسیم کیا کرتے تھے ۔
اسی طرح حضرت عباسؓ قریش کے بلند پایہ تاجروں میں شمار ہوتے تھے ۔ جو نہایت ہی سخی، رحم دل اور کشادہ دست تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ دریا دلی میں بے مثال تھے ۔ حضرت عدی بن حاتمؓ اپنے باپ حاتم طائی کی طرح بڑے سخی تھے، دل کھول کر خرچ کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سخاوت اور فیاضی میں مقبول تھے جو دریا دلی سے خرچ کرتے تھے ۔ حضرت خبابؓ نے تلواریں بناکر خوشحال معاشی زندگی گزاری ۔ اسی طرح تابعین میں سے امام ابو حنیفہؒ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے جو نہایت ہی فیاض، علم نواز اور حق شناس تھے ۔ حضرت حسن بصریؒ موتیوں کی تجارت کیا کرتے تھے ۔ اور دونوں اللہ کی راہ میں خوب خرچ کیا کرتے تھے ۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ ایک انسان کو اپنے ہاتھوں سے کمائی کرنی چاہیے ۔ تاکہ وہ دنیا میں ایک خوشحال زندگی گزار سکیں ۔ اور دین دار کے ساتھ ساتھ دنیا دار بھی بن سکے ۔ دنیا تو آخرت تک پہنچنے کی زادِ راہ ہے ۔ اسی لئے قرآن کریم نے یہ دُعا سکھلائی کہ ” یا اللہ ہمیں دُنیا کی بھلائی بھی اور آخرت کی بھلائی بھی (البقرہ؛ 102) عطا فرما ” کیونکہ دینِ اسلام میں ترکِ دنیا کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے ۔ لہٰذا انسان کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنا ذریعہ معاش خود کمانا چاہیے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں