آن لائن گیمز پر پابندی!

 

آن لائن گیمز کی دنیا بظاہر تفریح کا ذریعہ ہے، لیکن یہ حقیقت بھی عیاں ہو چکی ہے کہ ان کھیلوں نے لت، ذہنی دباؤ، پرتشدد رویے اور سماجی تنہائی جیسے مسائل کو بڑھایا ہے۔ کئی رپورٹیں سامنے آئی ہیں جن میں بتایا گیا کہ بچے اور نوجوان گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، جس سے ان کی جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے اور تعلیمی کارکردگی بھی گراوٹ کا شکار ہوتی ہے۔ بعض خطرناک کھیل تو براہ راست زندگی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ایسے میں حکومت کی جانب سے آن لائن گیمز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ایک بروقت اور جرات مندانہ قدم ہے۔ یہ پابندی محض ایک کھیل روکنے کا عمل نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کو منفی اثرات سے بچانے کی عملی کوشش ہے۔ یہ فیصلہ والدین کی ان تشویشات کو بھی تسکین دیتا ہے جو روز بروز بڑھتی ہوئی اس لت کے باعث پریشان تھے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اقدام محض پابندی تک محدود نہ رہے بلکہ متبادل مثبت سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جائے۔ کھیل کے میدان آباد کیے جائیں، کتب بینی اور تخلیقی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیا جائے، اور ڈیجیٹل خواندگی کے ذریعے بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کس طرح کیا جاتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی سے فرار ممکن نہیں، لیکن اس کے نقصانات سے بچنے کے لیے دانشمندانہ پالیسی ضروری ہے۔ حکومت نے آن لائن گیمز پر پابندی لگا کر نوجوانوں کو ایک خطرناک دلدل سے نکالنے کی شروعات کی ہے۔ اگر اس اقدام کو تعلیمی اصلاحات اور مثبت سماجی اقدامات کے ساتھ جوڑا جائے تو آنے والی نسلیں ایک صحت مند، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بن کر سامنے آئیں گییہ پابندی صرف ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

آن لائن گیمز پر پابندی!

 

آن لائن گیمز کی دنیا بظاہر تفریح کا ذریعہ ہے، لیکن یہ حقیقت بھی عیاں ہو چکی ہے کہ ان کھیلوں نے لت، ذہنی دباؤ، پرتشدد رویے اور سماجی تنہائی جیسے مسائل کو بڑھایا ہے۔ کئی رپورٹیں سامنے آئی ہیں جن میں بتایا گیا کہ بچے اور نوجوان گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، جس سے ان کی جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے اور تعلیمی کارکردگی بھی گراوٹ کا شکار ہوتی ہے۔ بعض خطرناک کھیل تو براہ راست زندگی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ایسے میں حکومت کی جانب سے آن لائن گیمز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ایک بروقت اور جرات مندانہ قدم ہے۔ یہ پابندی محض ایک کھیل روکنے کا عمل نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کو منفی اثرات سے بچانے کی عملی کوشش ہے۔ یہ فیصلہ والدین کی ان تشویشات کو بھی تسکین دیتا ہے جو روز بروز بڑھتی ہوئی اس لت کے باعث پریشان تھے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اقدام محض پابندی تک محدود نہ رہے بلکہ متبادل مثبت سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جائے۔ کھیل کے میدان آباد کیے جائیں، کتب بینی اور تخلیقی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیا جائے، اور ڈیجیٹل خواندگی کے ذریعے بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کس طرح کیا جاتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی سے فرار ممکن نہیں، لیکن اس کے نقصانات سے بچنے کے لیے دانشمندانہ پالیسی ضروری ہے۔ حکومت نے آن لائن گیمز پر پابندی لگا کر نوجوانوں کو ایک خطرناک دلدل سے نکالنے کی شروعات کی ہے۔ اگر اس اقدام کو تعلیمی اصلاحات اور مثبت سماجی اقدامات کے ساتھ جوڑا جائے تو آنے والی نسلیں ایک صحت مند، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بن کر سامنے آئیں گییہ پابندی صرف ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں