
سیّد آصف رضا
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (۱۸۵۶ء-۱۹۲۱ء) بریلی شریف اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ بیک وقت مفسر، محدّث، نعت گو شاعر اور علوم نقلیہ و عقلیہ کے ماہر عالم دین تھے۔ آپؒ نے کثرت سے فقہی مسائل اور عقائد و اعمال کی اصلاح کے لئے عربی، فارسی اور اردو زبانوں میں کتابیں تصنیف فرمائیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ریاضی اور فلکیات کے علاوہ سائینس کے دیگر کئی موضوعات پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصانیف میں ترجمہ قرآن ”کنز الایمان“، 33 جلدوں پر مشتمل ”العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ“ (فتاویٰ رضویہ) اور نعتیہ کلام کا مجموعہ ”حدائق بخشش“ شامل ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بریلی شریف میں ”منظر اسلام“ کے نام سے ایک جامعہ قائم فرمائی۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ۲۵صفر المظفّر ۱۳۴۰ھ کو ہوئی۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مووودی صاحب (المتوفیٰ: 1979ء) ایک خط کے جواب میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں:
”مولانا احمد رضا خان صاحبؒ کے علم و فضل کا میرے دل میں بڑا احترام ہے۔ فی الواقع وہ علوم دینی پر بڑی وسیع نظر رکھتے تھے اور ان کی اس فضیلت کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو اُن سے اختلاف رکھتے ہیں۔“
مکاتیبِ سید ابوالاعلیٰ مودودی، حصّہ اوّل، مرتبہ: عاصم نعمانی، ۲۰۱۳ء، صفحہ:۲۴۰)
اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدّین بہاری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ: 1962ء) فرماتے ہیں :
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے گالیوں سے بھرا خط لکھا۔ میں نے چند سطریں پڑھ کر اس کو علٰحیدہ رکھ دیا۔ عرض کیا کہ کسی نے اپنی شرارت کا ثبوت دیا ہے۔ ایک مرید نے اس خط کو اُٹھالیا اور پڑھنے لگے۔ خط پڑھ کر ان کو بہت رنج پہنچا، اس وقت تو خاموش رہے لیکن جب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ مغرب کی نماز کے بعد مکان تشریف لے جانے تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو روک کر عرض کی:
”اس وقت جو خط میں نے پڑھا، کسی بد تمیز نے نہایت ہی کمینہ پن کو راہ دی ہے، اس میں گالیاں لکھ کر بھیجی ہیں، میری رائے ہے کہ ان پر مقدّمہ کیا جائے اور قرار واقعی سزا دلوائی جائے تاکہ دوسروں کے لئے ذریعہ عبرت و نصیحت ہو ورنہ دوسروں کو بھی ایسی جرأت ہوگی۔“
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ یہ سن کر اندرتشریف لے گئے اور دس پندرہ خطوط دست مبارک میں لئے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”ان کو پڑھیے۔“
ہم لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید اسی قسم کی گالی نامے ہوں گے جن کے پڑھوانے سے یہ مقصود ہوگا کہ اس قسم کے خط کوئی نئی بات نہیں بلکہ زمانے سے آرہے ہیں، میں اس کا عادی ہوں۔ مگر خط پڑھتے جاتے تھے اور ان صاحب کا چہرہ خوشی سے دمکتا جاتا تھا۔ آخر جب سب خط پڑھ چکے تو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے فرمایا:
”پہلے ان تعریف کا پل باندھنے والوں کو انعام و اکرام، جاگیر و عطیات سے مالامال کر دیجئیے پھر گالی دینے والوں کو سزا دلوانے کی فکر کیجیے۔“
ان صاحب نے اپنی مجبوری و معذوری ظاہر کی اور کہا (…….. چاہتا تو میں بھی ہوں کہ ان کو اتنا انعام و اکرام دے دوں ……) مگر یہ میری وسعت سے باہر ہے۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”جب آپ مخلص کو نفع نہیں پہنچا سکتے تو مخالف کو نقصان بھی نہ پہنچائیے۔“
(حیاتِ اعلیٰ حضرتؒ، علامہ محمد ناصر الدّین ناصر ، صفحہ:384)
اے کاش! دورِ حاضر کے واعظین اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی اعلیٰ ظرفی کے اس واقعہ سے سبق حاصل کرتے اور بُرائی کا جواب بُرائی سے دینے کے بجائے وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے……!!
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھنے والے کچھ نام نہاد "عالم” اور "مفتی” اپنی "بد زبانی” اور "بدکلامی” کی وجہ سے اپنا ثانی نہیں رکھتے اور اس طرح وہ "فکرِ رضا” کو عوام تک پہنچانے میں سدّ راہ بنتے ہیں۔
کیا فکر رضا کے لیے کام کرنے والے علماء کرام اس جانب توجہ فرمائیں گے؟
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات


