گاندربل:اب خونی رشتوں نے بھی آپس میں خون بہانا شروع کیا

خورشید ریشی

لفظ انسان اُنس سے نکلا ہے جس کے معنی پیار اور محبت ہیں۔ یہی محبت اور شفقت آدمی اور انسان میں واضح فرق ہے، مگر موجودہ حالات میں اب آدمی اور انسان میں بظاہر کوئی فرق نظر نہیں آ رہا۔ ہمارے معاشرے میں بگاڑ اس قدر حد سے بڑھ گیا ہے کہ آئے روز انسانیت سوز واقعات سوشل میڈیا اور اخبارات کی سرخیوں میں جگہ پا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اخلاقی قدروں کا زوال عروج پر ہے اور ہر روز ایسے دلدوز واقعات سامنے آ رہے ہیں جن سے پوری انسانیت شرمسار ہو رہی ہے۔
ہمارے معاشرے میں حیا نام کی چیز باقی نہیں رہی۔ نہ نوجوانوں کو بزرگوں کا لحاظ رہا ہے اور نہ بزرگ نوجوانوں کو عزت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ نہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لیے سنجیدہ ہیں اور نہ ہی بچے والدین کی بات سننے کو تیار ہیں۔ والدین کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی حرکتوں پر نظر رکھ سکیں۔ نہ والدین اپنے بچوں پر قدغن لگانے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور نہ بچے اپنے والدین کو وہ عزت و احترام دے رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے انہیں کسی سے بھی اور کہیں بھی میل جول رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بالغ لڑکے اور لڑکیاں دن بھر کہاں وقت گزارتے ہیں، گھر سے کب نکلتے ہیں اور کب واپس آتے ہیں، یہ سوال کرنے یا روک ٹوک کرنے کی ہمت والدین میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جب والدین خود آن لائن گیمز، موبائل فون، کھیل کے میدانوں اور سیاحتی مقامات میں مگن رہیں تو ان کے پاس بچوں کے ساتھ بیٹھنے تو دور، سوال و جواب کرنے کا بھی وقت نہیں رہتا۔
یوں بچے ان کی نظروں کے سامنے مختلف برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور والدین محض خاموش تماشائی بنے تالیاں بجا رہے ہیں۔ ان کے سامنے بچے غیر مہذب انداز میں گھروں سے نکل کر بازاروں کا رخ کرتے ہیں لیکن والدین میں اتنی ہمت نہیں کہ ان سے کہیں: ’’یہ کس حال میں جا رہے ہو؟ واپس آؤ اور ڈھنگ کے کپڑے پہن کر باہر نکلو۔‘‘ ایسا کرنا اب والدین کے بس کی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نت نئی برائیاں جنم لے رہی ہیں اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل رہا ہے۔
ضلع گاندربل میں پیش آیا انسانیت سوز واقعہ ہمارے معاشرے میں پہلا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی خونی رشتوں نے ایسی حرکتیں کی ہیں جن سے پوری انسانیت شرمسار ہوئی ہے۔ کہیں بیٹے نے ماں کو بےدردی سے قتل کر کے اس عظیم رشتے کو تار تار کیا، کہیں باپ نے اپنے ہی بیٹے کو راستے سے ہٹا کر انتہا کر دی، اور کہیں شوہر نے بیوی کا گلا گھونٹ کر میاں بیوی کے بھروسے کو دفن کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس بندھن میں بندھنے والے جوڑے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہیں۔
اب گاندربل کے اس ناقابل برداشت واقعے میں ایک سگی بہن نے اپنی چھوٹی بہن کو بےدردی سے قتل کر کے اس رشتے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ یہ وہ رشتہ ہے جہاں بہن اپنی بہن کا روٹھنا تک برداشت نہیں کرتی، جہاں بہن اپنی بہن کے ایک آنسو پر محلے سے لڑنے کو تیار ہو جاتی ہے، جہاں بہن اپنی بہن کی غلطی پر بھی دوسروں کے سامنے اس کا دفاع کرتی ہے۔ ایسے میں عقل حیران ہے کہ کس بےدردی سے ایک بہن نے اپنی چھوٹی بہن کو موت کے گھاٹ اتارا۔
آئے روز ایسے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ ان واقعات کو روکنے کے لیے سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں پر قابو پانا ہوگا، ابتدا ہی سے ان کی صحیح تربیت کرنی ہوگی اور اپنے اندر بھی واضح تبدیلی لانی ہوگی۔ گھروں میں چھوٹے بڑے سب کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی ہوگی اور بچوں سے پوچھ تاچھ کی ہمت کرنی ہوگی۔ سب سے پہلے خود اخلاقی قدروں کے پاسدار بننا ہوگا تاکہ بچوں کے اندر بھی اخلاقی اقدار کا پاس و لحاظ کرنے کا سلیقہ پیدا ہو۔
اس کے علاوہ ہمارے مذہبی رہنماؤں اور ائمہ کرام کو بھی روایت سے ہٹ کر موجودہ حالات کو مدنظر رکھ کر اپنے خطبات کے موضوعات کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تب جا کر ہی سماج میں پھیلی برائیوں سے چھٹکارا ممکن ہے اور ایسے واقعات کم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح شہروں، قصبوں اور دیہات میں ذی شعور اور بااثر شخصیات کو بھی آگے آنا ہوگا تاکہ جو افراد سماج دشمن سرگرمیوں میں مبتلا ہیں، ان کے خلاف غیر جانبداری سے کارروائی ہو سکے۔ تب جا کر ہمارے معاشرے کی موجودہ صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اگر ایسا نہ ہوا تو وہ دن دور نہیں جب آئے روز چوراہوں پر ایسے واقعات رونما ہوں گے اور کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر سکے۔
٭٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

گاندربل:اب خونی رشتوں نے بھی آپس میں خون بہانا شروع کیا

خورشید ریشی

لفظ انسان اُنس سے نکلا ہے جس کے معنی پیار اور محبت ہیں۔ یہی محبت اور شفقت آدمی اور انسان میں واضح فرق ہے، مگر موجودہ حالات میں اب آدمی اور انسان میں بظاہر کوئی فرق نظر نہیں آ رہا۔ ہمارے معاشرے میں بگاڑ اس قدر حد سے بڑھ گیا ہے کہ آئے روز انسانیت سوز واقعات سوشل میڈیا اور اخبارات کی سرخیوں میں جگہ پا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اخلاقی قدروں کا زوال عروج پر ہے اور ہر روز ایسے دلدوز واقعات سامنے آ رہے ہیں جن سے پوری انسانیت شرمسار ہو رہی ہے۔
ہمارے معاشرے میں حیا نام کی چیز باقی نہیں رہی۔ نہ نوجوانوں کو بزرگوں کا لحاظ رہا ہے اور نہ بزرگ نوجوانوں کو عزت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ نہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لیے سنجیدہ ہیں اور نہ ہی بچے والدین کی بات سننے کو تیار ہیں۔ والدین کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی حرکتوں پر نظر رکھ سکیں۔ نہ والدین اپنے بچوں پر قدغن لگانے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور نہ بچے اپنے والدین کو وہ عزت و احترام دے رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے انہیں کسی سے بھی اور کہیں بھی میل جول رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بالغ لڑکے اور لڑکیاں دن بھر کہاں وقت گزارتے ہیں، گھر سے کب نکلتے ہیں اور کب واپس آتے ہیں، یہ سوال کرنے یا روک ٹوک کرنے کی ہمت والدین میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جب والدین خود آن لائن گیمز، موبائل فون، کھیل کے میدانوں اور سیاحتی مقامات میں مگن رہیں تو ان کے پاس بچوں کے ساتھ بیٹھنے تو دور، سوال و جواب کرنے کا بھی وقت نہیں رہتا۔
یوں بچے ان کی نظروں کے سامنے مختلف برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور والدین محض خاموش تماشائی بنے تالیاں بجا رہے ہیں۔ ان کے سامنے بچے غیر مہذب انداز میں گھروں سے نکل کر بازاروں کا رخ کرتے ہیں لیکن والدین میں اتنی ہمت نہیں کہ ان سے کہیں: ’’یہ کس حال میں جا رہے ہو؟ واپس آؤ اور ڈھنگ کے کپڑے پہن کر باہر نکلو۔‘‘ ایسا کرنا اب والدین کے بس کی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نت نئی برائیاں جنم لے رہی ہیں اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل رہا ہے۔
ضلع گاندربل میں پیش آیا انسانیت سوز واقعہ ہمارے معاشرے میں پہلا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی خونی رشتوں نے ایسی حرکتیں کی ہیں جن سے پوری انسانیت شرمسار ہوئی ہے۔ کہیں بیٹے نے ماں کو بےدردی سے قتل کر کے اس عظیم رشتے کو تار تار کیا، کہیں باپ نے اپنے ہی بیٹے کو راستے سے ہٹا کر انتہا کر دی، اور کہیں شوہر نے بیوی کا گلا گھونٹ کر میاں بیوی کے بھروسے کو دفن کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس بندھن میں بندھنے والے جوڑے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہیں۔
اب گاندربل کے اس ناقابل برداشت واقعے میں ایک سگی بہن نے اپنی چھوٹی بہن کو بےدردی سے قتل کر کے اس رشتے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ یہ وہ رشتہ ہے جہاں بہن اپنی بہن کا روٹھنا تک برداشت نہیں کرتی، جہاں بہن اپنی بہن کے ایک آنسو پر محلے سے لڑنے کو تیار ہو جاتی ہے، جہاں بہن اپنی بہن کی غلطی پر بھی دوسروں کے سامنے اس کا دفاع کرتی ہے۔ ایسے میں عقل حیران ہے کہ کس بےدردی سے ایک بہن نے اپنی چھوٹی بہن کو موت کے گھاٹ اتارا۔
آئے روز ایسے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ ان واقعات کو روکنے کے لیے سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں پر قابو پانا ہوگا، ابتدا ہی سے ان کی صحیح تربیت کرنی ہوگی اور اپنے اندر بھی واضح تبدیلی لانی ہوگی۔ گھروں میں چھوٹے بڑے سب کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی ہوگی اور بچوں سے پوچھ تاچھ کی ہمت کرنی ہوگی۔ سب سے پہلے خود اخلاقی قدروں کے پاسدار بننا ہوگا تاکہ بچوں کے اندر بھی اخلاقی اقدار کا پاس و لحاظ کرنے کا سلیقہ پیدا ہو۔
اس کے علاوہ ہمارے مذہبی رہنماؤں اور ائمہ کرام کو بھی روایت سے ہٹ کر موجودہ حالات کو مدنظر رکھ کر اپنے خطبات کے موضوعات کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تب جا کر ہی سماج میں پھیلی برائیوں سے چھٹکارا ممکن ہے اور ایسے واقعات کم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح شہروں، قصبوں اور دیہات میں ذی شعور اور بااثر شخصیات کو بھی آگے آنا ہوگا تاکہ جو افراد سماج دشمن سرگرمیوں میں مبتلا ہیں، ان کے خلاف غیر جانبداری سے کارروائی ہو سکے۔ تب جا کر ہمارے معاشرے کی موجودہ صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اگر ایسا نہ ہوا تو وہ دن دور نہیں جب آئے روز چوراہوں پر ایسے واقعات رونما ہوں گے اور کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر سکے۔
٭٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں