سکل سیل بیماری کی روک تھام کیلئےایک جامع کوشش

جگت پرکاش نڈا
(مرکزی وزیربرائے صحت و خاندانی بہبود)
ہندوستان کی مجموعی آبادی کا6.8 فیصد پر مشتمل قبائلی برادریاں  ملک کی متنوع  ثقافت کی روح کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس کے باوجود ، ان برادریوں کے متعدد لوگ سکل سیل ڈیزیز (ایس سی ڈی)میں مبتلا ہیں،  جو ایک کمزور  جینیاتی عارضہ ہے ۔ دہائیوں سے ، اس بیماری  نے ان کی صحت اور سماجی و اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے ، جغرافیائی طور پر الگ تھلگ ہونے اورصحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی کی وجہ سے ان لوگوں کی صورت حال مزید ابتر ہوگئی ۔  اس سنگین صورت حال کو دیکھتے ہوئے ، حکومت ہند نے جولائی 2023 میں عزت مآب وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت میں سکل سیل انیمیاکے مکمل خاتمہ کی مہم ‘ نیشنل سکل سیل انیمیا ایلیمینیشن مشن’ (این ایس سی اے ای ایم) کا آغاز کیا ۔  یہ اہم پہل نہ صرف سکل سیل کی جینیاتی منتقلی کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے بلکہ اس طرح کی حالت سے متاثر ہونے والے لاکھوں مریضوں کو بیماری نجات دینے اور ایک باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
سکل سیل کی بیماری سرخ خون کے خلیوں کی شکل بدل دیتی ہے ، ان کی آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کومتاثر کرتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ صحت کی شدید پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے ۔  قبائلی آبادی پر اس کا گہرا اثر پڑا ہے ، کیونکہ وہ اس جینیاتی خرابی سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتے ہیں ۔‘‘ گلوبل برڈن آف ڈیزیز اسٹیمیٹس (2021)’’ کے مطابق ، ہندوستان میں ایس سی ڈی  بیماری کے ساتھ اندازاً 82,500 پیدائشیں ہوتی ہیں۔
قومی صحت پالیسی 2017 نے منفرد صحت کی ضروریات پر زور دیتے ہوئے اس بحران سے نمٹنے کی بنیاد رکھی ۔  اسی بنا پر، مرکزی بجٹ 2023 نے ‘این ایس سی اے ای ایم ’کا اعلان کیا ، جس میں مالی سال 26-2025 تک مشن موڈ میں40 سال سے کم عمر کے 7 کروڑ افراد کی اسکریننگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔  اس سرگرمی کو صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے تحت لاگو کیا گیا جس سے عالمی سطح پر سب سے زیادہ آبادی پر مبنی جینیات کی جانچ کے پروگرام بنائے گئے ۔  اس مہم کا مقصد ایس سی ڈی بائی1947 کی جینیاتی منتقلی کو ختم کرنا بھی ہے جبکہ پہلے سے ہی متاثرہ افراد کو جامع نگہداشت بھی فراہم کرنا ہے ۔
اپنے پہلے دو برسوں میں اس مشن نے وزارت صحت اور ریاستوں کی مشترکہ کوششوں سے قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں ۔  31 جولائی 2025 تک ، زیادہ تعداد والی 17 ریاستوں کے 300 سے زیادہ اضلاع میں07.6 کروڑ سے زیادہ افراد کی اسکریننگ کی گئی ہے ۔  مرض کی تشخیص میں16.2 لاکھ افراد بیمار پائے گئے جبکہ92.16 لاکھ افراد کی شناخت کیریئروں کے طور پر کی گئی ۔  تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ 95 فیصد کیسز کا تعلق پانچ ریاستوں  اوڈیشہ ، مدھیہ پردیش ، گجرات ، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹرسے ہے۔
چھتیس گڑھ کے نواپرا امبیکا پور کی ایک نوجوان قبائلی لڑکی مینا کی کہانی مشن کےمؤثرہونے کی عکاسی کرتی ہے ۔  اسکریننگ مہم کے دوران تشخیص ہونے پر مینا کو قریبی ذیلی صحت مرکز میں داخل کرایا گیا ۔  ایس ایچ سی میں تربیت یافتہ کمیونٹی ہیلتھ آفیسر (سی ایچ او) اے این ایم اور آشا نے تصدیق کی کہ انہیں مفت ‘ہائیڈروکسوریا ’ دوا تک رسائی فراہم کی گئی جس سے ایس سی ڈی کی علامات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔  آج مینا صحت مند زندگی گزارتی ہے اور اپنی برادری میں جینیاتی مشاورت کی نمائندگی کرتی ہے۔
اسکریننگ کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ذریعے منظور شدہ پوائنٹ آف کیئر (پی او سی) تشخیصی آلات دستیاب کیے گئے ہیں ۔ ابتدائی طور پران کٹس کی تعداد تین تھی، جو اب بڑھ کر 30 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ، لاگت کو حیرت انگیز طور پر 100 روپے سے کم کر کے 28 روپے فی کٹ کر دیا گیاہے ۔  اس پہل سے ایس سی ڈی کے لیے کم لاگت اور زیادہ مؤثر تشخیصی صلاحیتوں کو یقینی بنایا گیا ہے۔
وزارت صحت کے تحت اس مشن کا نفاذ نہ صرف اسکریننگ پر مرکوز ہے بلکہ یہ ایس سی ڈی سے متاثرین  کی مجموعی دیکھ بھال کو ترجیح دیتا ہے ۔  مشن کے تحت انتظامی مداخلتوں میں ضروری ادویات اور تشخیص تک رسائی کے ساتھ مفت صحت کی دیکھ بھال کی خدمات شامل ہیں۔‘ہائیڈروکسی یوریا ’، جو ایس سی ڈی کے علاج کے لیے ایک اہم دوا ہے ، کو لازمی ادویات کی فہرست‘ نیشنل ایسینشیل ڈرگ لسٹ ’(ای ڈی ایل) میں شامل کیا گیا ہے اور اب یہ ذیلی صحت مراکز آیوشمان آروگیہ مندر (ایس ایچ سی-اے اے ایم) میں بھی دستیاب ہے جو آخری میل تک رسائی کو یقینی بناتا ہے ۔
مشن جینیاتی مشاورت اور عوامی آگاہی کو ایس سی ڈی کو محدود کرنے کی اہم حکمت عملی پر زور دیتا ہے ۔ صحت سے متعلق اہم معلومات کے حامل افراد کو بااختیار بنانے کے لیے62.2کروڑ سے زیادہ جینیٹک اسٹیٹس کارڈز تقسیم کیے گئے ہیں ۔  ایس سی ڈی کارڈ مشاورت اور باخبر فیصلہ سازی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں ، جس سے جینیاتی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔
وزارت صحت اور خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے ذریعہ مقرر کردہ رہنما خطوط اور قبائلی امور کی وزارت (ایم او ٹی اے) کی مالی تعاون  کے مطابق سینٹر آف ایکسی لینس (سی او ای) قائم کرنے کے لیے پندرہ صحت کی دیکھ بھال کے اداروں/میڈیکل کالجوں کا انتخاب کیا گیا ہے ۔  یہ ادارے قبل از پیدائش تشخیص اور شدید ایس سی ڈی پیچیدگیوں کے علاج پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ، جو خطرے سے دوچار خاندانوں کے لیے خصوصی دیکھ بھال کو یقینی بناتے ہیں ۔  مزید برآں ، اکتوبر 2024 میں منعقدہ تربیت کاروں  کی قومی سطح کی تربیت (ٹی او ٹی) پروگرام نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کو ایس سی ڈی کے انتظام کی پیچیدگیوں کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے درکار مہارت اور علم سے آراستہ کیا ہے ۔
این ایس سی اے ای ایم کی کامیابی ‘‘مکمل حکومت’’ کے نقطہ ٔنظر پر مبنی ہے ، جس کے ذریعے وزارت صحت قبائلی امور کی وزارت ، سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت ، وزارت تعلیم ، اور خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کو شامل کر رہی ہے ۔  یہ بین وزارتی ہم آہنگی قبائلی صحت کی سماجی و ثقافتی اور جغرافیائی جہتوں کو حل کرتے ہوئے جامع نفاذ کو یقینی بناتی ہے ۔  ایم او ایچ ایف ڈبلیو کے تحت محکمہ صحت تحقیق کے تعاون سے تحقیق کی حمایت یافتہ مداخلتوں نےکم لاگت اور علاج کے بہتر نتائج   میں اضافہ کیا ہے۔
اگرچہ یہ کامیابیاں قابل ستائش ہیں ، لیکن وزارت صحت نے اب مشن کے لیے مستقبل کی ترجیحات پر توجہ مرکوز کی ہے ۔  جینیاتی مشاورت ، عوامی آگاہی مہمات ، اور جینیاتی اسٹیٹس کارڈ کی تقسیم پر فوری توجہ مرکوز کی جائے گی ۔  کمیونٹی سطح کے پلیٹ فارمز کا فائدہ اٹھانا اس بات کو یقینی بنانے میں اہم ہوگا کہ ہر کیریئر اور بیمار فرد کو ان کی ضرورت کی دیکھ بھال اور مدد ملے ۔  بہتر تحقیقی کوششیں مداخلتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے قابل عمل بصیرت فراہم کریں گی ۔
اس مشن کی حقیقی روح اس کے مقصد میں مضمر ہے: ‘مرض کا سامنا کررہےلوگوں کوسہارا دینا ، شفایاب مریضوں کو مزید تقویت دینا اور مشن واریئرس کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہنا’’ ۔ سیاسی عزم ، سائنسی اختراع اور نچلی سطح پر نفاذ  کو یکجا کرکے ہندوستان سکل سیل انیمیا کو ختم کرنے اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے ۔
جیسا کہ ہندوستان ایس سی ڈی کو ختم کرنے کے اپنے 2047 کے ہدف کی طرف اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، این ایس سی اے ای ایم ہمارے لیے  امید کی ایک کرن ہے ۔  یہ اس بات کی مثال ہے کہ جب حکومت ، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد  اور کمیونٹیز ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو کیا کچھ حاصل  نہیں کیا جا سکتا ہے ۔  ہم مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی فرد کو اس بیماری کی  وجہ سے ہونے والے درد اور تکلیف کو برداشت نہ کرنا پڑے ۔
سکل سیل انیمیا کے خلاف ہندوستان کی لڑائی صرف جینیاتی خرابی کا مقابلہ کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے ملک کے سب سے پسماندہ برادریوں کی مساوات ، وقار اور صحت کے لیےعزم ہے ۔  مینا جیسے افراد کے تجربے کے ساتھ ، یہ مشن قبائلی صحت کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ایک بے مثال تاریخی قدم ہے ،  جو ہدف شدہ صحت کی دیکھ بھال کے اقدامات کی تبدیلی کی طاقت کا ثبوت ہے۔
آئیے! ہم اس اہم کوشش کا جشن منائیں اور صحت مند ، زیادہ جامع ہندوستان بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کریں ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

سکل سیل بیماری کی روک تھام کیلئےایک جامع کوشش

جگت پرکاش نڈا
(مرکزی وزیربرائے صحت و خاندانی بہبود)
ہندوستان کی مجموعی آبادی کا6.8 فیصد پر مشتمل قبائلی برادریاں  ملک کی متنوع  ثقافت کی روح کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس کے باوجود ، ان برادریوں کے متعدد لوگ سکل سیل ڈیزیز (ایس سی ڈی)میں مبتلا ہیں،  جو ایک کمزور  جینیاتی عارضہ ہے ۔ دہائیوں سے ، اس بیماری  نے ان کی صحت اور سماجی و اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے ، جغرافیائی طور پر الگ تھلگ ہونے اورصحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی کی وجہ سے ان لوگوں کی صورت حال مزید ابتر ہوگئی ۔  اس سنگین صورت حال کو دیکھتے ہوئے ، حکومت ہند نے جولائی 2023 میں عزت مآب وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت میں سکل سیل انیمیاکے مکمل خاتمہ کی مہم ‘ نیشنل سکل سیل انیمیا ایلیمینیشن مشن’ (این ایس سی اے ای ایم) کا آغاز کیا ۔  یہ اہم پہل نہ صرف سکل سیل کی جینیاتی منتقلی کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے بلکہ اس طرح کی حالت سے متاثر ہونے والے لاکھوں مریضوں کو بیماری نجات دینے اور ایک باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
سکل سیل کی بیماری سرخ خون کے خلیوں کی شکل بدل دیتی ہے ، ان کی آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کومتاثر کرتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ صحت کی شدید پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے ۔  قبائلی آبادی پر اس کا گہرا اثر پڑا ہے ، کیونکہ وہ اس جینیاتی خرابی سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتے ہیں ۔‘‘ گلوبل برڈن آف ڈیزیز اسٹیمیٹس (2021)’’ کے مطابق ، ہندوستان میں ایس سی ڈی  بیماری کے ساتھ اندازاً 82,500 پیدائشیں ہوتی ہیں۔
قومی صحت پالیسی 2017 نے منفرد صحت کی ضروریات پر زور دیتے ہوئے اس بحران سے نمٹنے کی بنیاد رکھی ۔  اسی بنا پر، مرکزی بجٹ 2023 نے ‘این ایس سی اے ای ایم ’کا اعلان کیا ، جس میں مالی سال 26-2025 تک مشن موڈ میں40 سال سے کم عمر کے 7 کروڑ افراد کی اسکریننگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔  اس سرگرمی کو صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے تحت لاگو کیا گیا جس سے عالمی سطح پر سب سے زیادہ آبادی پر مبنی جینیات کی جانچ کے پروگرام بنائے گئے ۔  اس مہم کا مقصد ایس سی ڈی بائی1947 کی جینیاتی منتقلی کو ختم کرنا بھی ہے جبکہ پہلے سے ہی متاثرہ افراد کو جامع نگہداشت بھی فراہم کرنا ہے ۔
اپنے پہلے دو برسوں میں اس مشن نے وزارت صحت اور ریاستوں کی مشترکہ کوششوں سے قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں ۔  31 جولائی 2025 تک ، زیادہ تعداد والی 17 ریاستوں کے 300 سے زیادہ اضلاع میں07.6 کروڑ سے زیادہ افراد کی اسکریننگ کی گئی ہے ۔  مرض کی تشخیص میں16.2 لاکھ افراد بیمار پائے گئے جبکہ92.16 لاکھ افراد کی شناخت کیریئروں کے طور پر کی گئی ۔  تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ 95 فیصد کیسز کا تعلق پانچ ریاستوں  اوڈیشہ ، مدھیہ پردیش ، گجرات ، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹرسے ہے۔
چھتیس گڑھ کے نواپرا امبیکا پور کی ایک نوجوان قبائلی لڑکی مینا کی کہانی مشن کےمؤثرہونے کی عکاسی کرتی ہے ۔  اسکریننگ مہم کے دوران تشخیص ہونے پر مینا کو قریبی ذیلی صحت مرکز میں داخل کرایا گیا ۔  ایس ایچ سی میں تربیت یافتہ کمیونٹی ہیلتھ آفیسر (سی ایچ او) اے این ایم اور آشا نے تصدیق کی کہ انہیں مفت ‘ہائیڈروکسوریا ’ دوا تک رسائی فراہم کی گئی جس سے ایس سی ڈی کی علامات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔  آج مینا صحت مند زندگی گزارتی ہے اور اپنی برادری میں جینیاتی مشاورت کی نمائندگی کرتی ہے۔
اسکریننگ کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ذریعے منظور شدہ پوائنٹ آف کیئر (پی او سی) تشخیصی آلات دستیاب کیے گئے ہیں ۔ ابتدائی طور پران کٹس کی تعداد تین تھی، جو اب بڑھ کر 30 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ، لاگت کو حیرت انگیز طور پر 100 روپے سے کم کر کے 28 روپے فی کٹ کر دیا گیاہے ۔  اس پہل سے ایس سی ڈی کے لیے کم لاگت اور زیادہ مؤثر تشخیصی صلاحیتوں کو یقینی بنایا گیا ہے۔
وزارت صحت کے تحت اس مشن کا نفاذ نہ صرف اسکریننگ پر مرکوز ہے بلکہ یہ ایس سی ڈی سے متاثرین  کی مجموعی دیکھ بھال کو ترجیح دیتا ہے ۔  مشن کے تحت انتظامی مداخلتوں میں ضروری ادویات اور تشخیص تک رسائی کے ساتھ مفت صحت کی دیکھ بھال کی خدمات شامل ہیں۔‘ہائیڈروکسی یوریا ’، جو ایس سی ڈی کے علاج کے لیے ایک اہم دوا ہے ، کو لازمی ادویات کی فہرست‘ نیشنل ایسینشیل ڈرگ لسٹ ’(ای ڈی ایل) میں شامل کیا گیا ہے اور اب یہ ذیلی صحت مراکز آیوشمان آروگیہ مندر (ایس ایچ سی-اے اے ایم) میں بھی دستیاب ہے جو آخری میل تک رسائی کو یقینی بناتا ہے ۔
مشن جینیاتی مشاورت اور عوامی آگاہی کو ایس سی ڈی کو محدود کرنے کی اہم حکمت عملی پر زور دیتا ہے ۔ صحت سے متعلق اہم معلومات کے حامل افراد کو بااختیار بنانے کے لیے62.2کروڑ سے زیادہ جینیٹک اسٹیٹس کارڈز تقسیم کیے گئے ہیں ۔  ایس سی ڈی کارڈ مشاورت اور باخبر فیصلہ سازی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں ، جس سے جینیاتی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔
وزارت صحت اور خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے ذریعہ مقرر کردہ رہنما خطوط اور قبائلی امور کی وزارت (ایم او ٹی اے) کی مالی تعاون  کے مطابق سینٹر آف ایکسی لینس (سی او ای) قائم کرنے کے لیے پندرہ صحت کی دیکھ بھال کے اداروں/میڈیکل کالجوں کا انتخاب کیا گیا ہے ۔  یہ ادارے قبل از پیدائش تشخیص اور شدید ایس سی ڈی پیچیدگیوں کے علاج پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ، جو خطرے سے دوچار خاندانوں کے لیے خصوصی دیکھ بھال کو یقینی بناتے ہیں ۔  مزید برآں ، اکتوبر 2024 میں منعقدہ تربیت کاروں  کی قومی سطح کی تربیت (ٹی او ٹی) پروگرام نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کو ایس سی ڈی کے انتظام کی پیچیدگیوں کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے درکار مہارت اور علم سے آراستہ کیا ہے ۔
این ایس سی اے ای ایم کی کامیابی ‘‘مکمل حکومت’’ کے نقطہ ٔنظر پر مبنی ہے ، جس کے ذریعے وزارت صحت قبائلی امور کی وزارت ، سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت ، وزارت تعلیم ، اور خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کو شامل کر رہی ہے ۔  یہ بین وزارتی ہم آہنگی قبائلی صحت کی سماجی و ثقافتی اور جغرافیائی جہتوں کو حل کرتے ہوئے جامع نفاذ کو یقینی بناتی ہے ۔  ایم او ایچ ایف ڈبلیو کے تحت محکمہ صحت تحقیق کے تعاون سے تحقیق کی حمایت یافتہ مداخلتوں نےکم لاگت اور علاج کے بہتر نتائج   میں اضافہ کیا ہے۔
اگرچہ یہ کامیابیاں قابل ستائش ہیں ، لیکن وزارت صحت نے اب مشن کے لیے مستقبل کی ترجیحات پر توجہ مرکوز کی ہے ۔  جینیاتی مشاورت ، عوامی آگاہی مہمات ، اور جینیاتی اسٹیٹس کارڈ کی تقسیم پر فوری توجہ مرکوز کی جائے گی ۔  کمیونٹی سطح کے پلیٹ فارمز کا فائدہ اٹھانا اس بات کو یقینی بنانے میں اہم ہوگا کہ ہر کیریئر اور بیمار فرد کو ان کی ضرورت کی دیکھ بھال اور مدد ملے ۔  بہتر تحقیقی کوششیں مداخلتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے قابل عمل بصیرت فراہم کریں گی ۔
اس مشن کی حقیقی روح اس کے مقصد میں مضمر ہے: ‘مرض کا سامنا کررہےلوگوں کوسہارا دینا ، شفایاب مریضوں کو مزید تقویت دینا اور مشن واریئرس کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہنا’’ ۔ سیاسی عزم ، سائنسی اختراع اور نچلی سطح پر نفاذ  کو یکجا کرکے ہندوستان سکل سیل انیمیا کو ختم کرنے اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے ۔
جیسا کہ ہندوستان ایس سی ڈی کو ختم کرنے کے اپنے 2047 کے ہدف کی طرف اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، این ایس سی اے ای ایم ہمارے لیے  امید کی ایک کرن ہے ۔  یہ اس بات کی مثال ہے کہ جب حکومت ، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد  اور کمیونٹیز ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو کیا کچھ حاصل  نہیں کیا جا سکتا ہے ۔  ہم مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی فرد کو اس بیماری کی  وجہ سے ہونے والے درد اور تکلیف کو برداشت نہ کرنا پڑے ۔
سکل سیل انیمیا کے خلاف ہندوستان کی لڑائی صرف جینیاتی خرابی کا مقابلہ کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے ملک کے سب سے پسماندہ برادریوں کی مساوات ، وقار اور صحت کے لیےعزم ہے ۔  مینا جیسے افراد کے تجربے کے ساتھ ، یہ مشن قبائلی صحت کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ایک بے مثال تاریخی قدم ہے ،  جو ہدف شدہ صحت کی دیکھ بھال کے اقدامات کی تبدیلی کی طاقت کا ثبوت ہے۔
آئیے! ہم اس اہم کوشش کا جشن منائیں اور صحت مند ، زیادہ جامع ہندوستان بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کریں ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں