
ڈاکٹر احسان تابش
عہد حاضر میں اپنی منفرد پہچان رکھنے والی ثمرین ندیم ثمر کا تعلق کراچی سے ہے ۔ دوحہ قطر میں مقیم ہیں۔” خوشبوئےخیال” کے بعد "آرزو کا دیا” معتبر شاعرہ ثمرین ندیم ثمر کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ دیار غیر میں رہ کر جس طرح فروغ اردو کے لیے کام کر رہی ہیں قابل تعریف اور قابل قدر ہے۔
نسائی ادب کی معتبر شاعرہ ثمرین ندیم ثمر کا یہ دوسرا شعری مجموعہ ہے ۔ ثمرین ندیم ثمر کی شاعری کیا ہے یہ نقاد جانیں میں بس اتنا جانتا ہوں کہ میں دل کی بات دل سے کرتا ہوں ۔ یقین جانیں جو دل نے کہا وہی لکھ رہا ہوں ۔
ثمرین ندیم ثمر کی غزل ،حمد و نعت اور نظم ان کی فکری پختگی ، مثبت سوچ کا اور ان کے احساس کا ائینہ ہے۔ ان کی شاعری وقت و حالات ، درد و کرب اور نازک دل کی ترجمان ہے ۔ محبت سے سرشار ہے۔ اردو ادب کو فروغ دینے کی کوششوں میں کامیاب نظر آنے والی ثمرین ندیم ثمر فکر و عمل کا اشاریہ ہیں ۔ اللہ تعالی نے انہیں صلاحیت و قدرت عطا کی ہے ۔ نسائی ادب کی مثالی شخصیت ادب کے افق پر ابھر کر سامنے ائی ہیں ۔ خلوص درد مندی کی پیکر ہیں ۔معتبر شاعرہ ثمرین ندیم ثمر کے دلآویز جلوے بے مثال ہیں۔ امید پر مکمل اعتماد رکھنے والی ثمرین ندیم ثمر فلسفہ طرازی نہیں کرتیں ۔ کردار و عمل کی غازی نظر اتی ہیں ۔ ان کی حکمت عملی مشعل راہ ہے ۔
معتبر شاعرہ ثمرین ندیم ثمر محبت و الفت کی اہمیت و افادیت کو سمجھنے والی شاعرہ ہیں ۔ اردو ادب کی آبیاری میں ثمرین ندیم ثمر دل و جان سے لگی ہوئی ہیں ۔ ان کی تخلیق معنویت سے بھرپور ہوتی ہے۔ لفظ کی ادائیگی میں حساس نظر آنے والی ، احساس بن جانے والی معتبر شاعرہ ثمرین ندیم ثمر کے یہاں ادبی فکر کے ساتھ شعری آہنگ اور ادبی شعور خوب سے خوب تر ہے۔ان کا کینوس بڑا ہے ۔ زندہ ضمیر والی شاعرہ ثمرین ندیم ثمر کی شاعری میں فکر و شعور بلندی پر نظر آتا ہے ۔ ان کا لکھا دل میں اتر جاتا ہے۔میر تقی میر کو خدائے سخن تسلیم کیا گیا میں ثمرین ندیم ثمر کی نازک خیالی اور ان کی علمیت کے اظہار کو تسلیم کرتا ہوں ۔ احساس کو فنکاری کے ساتھ قلم بند کرنے والی ثمرین ندیم ثمر اپنی ذہانت اور جدت فکر سے نئے نئے پہلو نکالنے میں کمال رکھتی ہیں ۔ ان کے ہاں صوتی کیفیت بے مثال ہے۔ ان کی غزل لطیف جذبات کے اظہار سے سرشار ہے ۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر سلاست و روانی کو بنائے رکھنے میں ثمرین ندیم ثمر کامیاب نظر آتی ہیں ان کی غزل میں لطافت ،جمالیاتی حسن اور صوتی آہنگ ان کی صلاحیت کا نمونہ ہے ۔ دل کی بات دل سے لکھنے والی ثمرین ندیم ثمر نسائی ادب کی بستی میں گوہر نایاب ہیں۔ زندگی کے ہزار پہلوؤں کی جھلکیاں ان کی غزل میں دکھائی دیتی ہیں ۔ ان کے یہاں لفظ بولتے ہیں ۔ شاعری کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے والی شاعرہ ثمرین ندیم ثمر ایک اچھی فنکارہ کی ذمہ داری کو بحسب وخوبی انجام دیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کا ہر شعر ذہن کو ترو تازہ کرتا ہے ۔ ان کی شاعری مشاہدات کا اظہار ہے۔ ان کی شاعری ان کی شخصیت اور فن کا عکاس ہے۔ ذہنی سفر کا نشان ہے ۔ شاعری ان کی محبت ہے۔ اس محبت میں ثمرین ندیم ثمر کہاں تک کامیاب ہیں یہ نقاد جانیں ۔ سو بات کی ایک بات سادگی مترم آہنگ ان کی غزل میں ہے ۔ تصنع نہیں ہے۔
شاعری کو وسیلہ اظہار بنانے والی ثمرین ندیم ثمر کی غزلوں کو پڑھتے ہی احساس و تخیل کو پر لگ جاتے ہیں ۔ غزل بندھے ٹکے فارم کا نام ہے ۔ تجربات ، مشاہدات ، تاثرات کو غزل کا شعر بنانے کا ہنر ثمرین ندیم ثمر کو خوب آتا ہے ان کی شاعری میں حدت ہے ۔
غزل گوئی ایک چیلنج ہے اور اس چیلنج کو قبول کرنے والی معتبر شاعرہ ثمرین ندیم ثمر باشعور اور محتاط غزل گو شاعرہ ہیں ۔ وہ گرتی ہیں گر کر پھر اٹھتی ہیں اور پھر اپنے قدم کو آگے بڑھاتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ ان کا شعری مجموعہ ” ارزو کا دیا” ذریعہ ایک اہم دستاویز ہے ۔ ان کی نظموں میں زندگی کی ترجمانی ہے ۔جدت و حدت کے ساتھ ساتھ والہانہ پن ہے ۔ غزل اور نظم دونوں اصناف شاعری میں روانی، سلاست اور برجستگی پائی جاتی ہے ۔ نظم کہنے میں بھی درجہ کمال رکھتی ہیں ۔ خداداد جوہر سے مالا مال ثمرین ندیم ثمر کے یہاں قدرت بیانی بھی خوب ہے ۔ ان کے جذبات میں توانائی ہے ۔ فصاحت کے سانچے میں ہر شعر ڈھلا ہوا ہے۔ ہر شعر میں توازن ہے ۔ "خوشبو خیال” سے آرزو کا دیا” تک کا شعری سفر کرنے والی معتبر شاعرہ ثمرین ندیم ثمر مشینی دور میں مایوس نظر نہیں آتیں ۔ نسائی ادب میں "آرزو کا دیا ” اضافے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ان کے یہاں ہجر کا درد بھی ہے ۔
محقق ، تنقید نگار ، تبصرہ نگار پروفیسر اکرام الدین کا خیال ہے۔
” ثمرین ندیم ثمر کی شاعری براہ راست بیانیہ کی عمدہ مثال ہے۔ سمرین ندیم ثمر ماضی الضمیر کی ادائیگی کے لئے صنعتوں کا سہارا کم لیتی ہیں ۔ اسی لئے ان کی شاعری کہیں موزونیت کا حسن رکھتا ہے تو سادہ لوحی کے جذبات بے کم کاست جلوہ گر نظر اتے ہیں۔ ”
ڈاکٹر مقصود جعفر کی نظر میں
” محترمہ ثمرین ندیم ثمر "آرزو کا دیا ” آپ کی غزلیات کا مجموعہ ہے۔آپ بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ ہیں۔ آپ کی غزلیات سادہ اور سلیس زبان میں ہیں اوزان پر دھیان دینے کی ضرورت ہے ”
ڈاکٹر زکیہ رانی رقمطراز ہیں
” سمرین ندیم سم ثمر دیار غیر کے نمائندہ شعرا میں اپنے آپ کو منوائے ہوئے ہیں ۔ ثمرین کی شاعری نسائی احساس اور نفسیات کا پر ٹو ہے ۔ ”
عبدالسلام عارف کینیڈا کہتے ہیں
ثمرین ندیم ثمر کی شاعری میں زندگی کے تمام تر رنگ شفاف اور خوبصورت انداز میں نظر آتے ہیں۔ ”
اشتیاق میر (یو کے) رقم طراز ہیں
” ثمرین ندیم ثمر اپنے ادبی سفر کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ ثمرین ندیم ثمر کا لہجہ اور ان کی لفظیات پر کلاسیکیٹ کا گہرا اثر ہے لیکن اس کے باوجود وہ معنی کی نئی جیات دریافت کرنے میں کامیاب ہونی ہے ”
بقول ڈاکٹر شاداب احسانی
"ثمرین ندیم ثمر کی شاعری عصر حاضر کی نمائندہ شاعری ہے۔ احساس کی یہ شاعرہ اپنے خوابوں کے لئے تعبیروں کی محتاج نہیں ہے”
ثمرین ندیم ثمر کی نظم”سمندر کے کنارے , نویدحیات نو، تجھ کو ہی دیکھوں ، روح انسانی ، سردیوں کی سرد شامیں” خوب سے خوب تر ہے۔
ان کی حمدیہ رباعی بے مثال ہے۔ سماعت کریں
تو روشنی اپنی یہاں بکھرا دے خدا
اس زندگی کو نیکی سے چمکا دے خدا
بھر حکمتوں کے نور سے دل کو میرے
ہر سو دئے اچھائی کے جلوا دے خدا
ثمرین ندیم ثمر کا نعتیہ کلام بلندئ خیال کا شفاف آئینہ ہے۔
نعتیہ کلام کے چند اشعار پیش خدمت ہے۔
جب بھی میری زبان پہ محمد کا ذکر ہو
سیرت کی خوبصورتی اور انداز فکر ہو
احمد کے نور سے ہی منور ہوا جہاں
دنیائے خیر میں میرے آقا کا ذکر ہو
الغرض ثمرین ندیم ثمر کی حمدیہ نعتیہ کلام عقیدت سے بھری ہے۔ "ارزو کا دیا” عشق حقیقی کو دیا ہے ۔ جو اہل کمال کے دلوں کو منور کرنے کا باعث ہے۔ حمد و نعت عقیدت کی خوشبو سے معتر ہے۔ کیف و سرور کی ہم آہنگی ہے "ثمرین ندیم ثمر کی غزل کے چند اشعار خوبصورت سماعتوں کے حوالے کر رہا ہوں ملاحظہ فرمائیں
مسیحا اچھا ہو پھر بھی شفا نہیں ہوتی
مریض عشق کی کوئی دواہ نہیں ہوتی
وقت چلتا رہا رک نہ پایا کہیں
دے نہ پائی مجھے عمر رفتہ حساب
شاعری میں وہ خیالات قلم بند کئے
اج دنیا میں ثمر چرچا ہے گھر گھر اپنا
محنت کی ہے زیست میں مسلسل
اب جو بھی ہے دور وہ مرا ہے
ہم تیرے خیالوں میں ہوئے جاتے ہیں مدہوش
دنیا سے ہٹا جاتا ہے اب دھیان ہمارا
واقعئ ثمرین ندیم ثمر کا ہر ایک شعر حسن و رعنائی کا مظہر ہے ۔ الفاظ و بیان میں ندرت اور برجستگی ہے۔ خلوص و عقیدت ہے اور سو بات کی ایک بات ان کی شاعری میں ۔مقصدیت ہے ۔ ان کی تخلیقی کاوش خوب سے خوب تر ہے۔ روایات کی پاسدار ہے ان کی غزل۔ ” آرزو کا دیا ” ان کی شاعرانہ صلاحیت کا آئینہ ہے ۔ ہمت و حوصلہ ہے۔ شعر و ادب کو پروان چڑھانے والی ثمرین ندیم ثمر کی شاعری فنا نہیں ہو سکتی ۔ ان کی شاعری نسائی ادب میں چمک رہی ہے۔ ان کا ہر شعر ان کی صلاحیت کا ترجمان ہے ۔ مثبت فکر رکھنے والی ثمرین ندیم ثمر روز مرہ کی زندگی کی کیفیت کو قلمبند کرنے کا ہنر رکھتی ہیں
سو بات کی ایک بات
تین سو دو صفحات والی یہ کتاب اردو بستی میں فکر و فن کا ائینہ ہے ۔ سخن کا معیار ہے۔ کتابوں کی بھیڑ میں یہ کتاب منفرد اور جواب ہے ۔ ان کے اشعار میں تلخی کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ اظہار کا طریقہ منفرد نظر آتا ہے ۔ غم دوراں سے غم جاناں تک کے سفر میں جرت مند فکر کی گونج ہے ۔ کئی اشعار ان کے بے وزن نظر آتے ہیں۔ اوزان پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ کتابوں کی بھیڑ میں یہ کتاب منفرد اور لاجواب ہے ۔
زور قلم اور زیادہ ۔ خوش رہیں لکھتی پڑھتی رہیں قلم رکے نہیں ۔اچھے استاذ سے رابطہ رکھیں ۔ سلامت رہیں آمین
ززز


