انوار الحق
جوا (میسر) ایک کبیرہ گناہ اور شیطانی عمل ہے، جو باہمی دشمنی، جھگڑوں، نفرت، اور معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ یہ محنت کے بغیر مال حاصل کرنے کا باطل ذریعہ ہے، جو انسان کو اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کر دیتا ہے۔ قرآن مجید نے جوئے کو شراب، بت پرستی اور فال گیری کے ساتھ "رجس” یعنی گندی اور ناپسندیدہ چیز قرار دیا ہے، اور اس سے مکمل اجتناب کو فلاح کا ذریعہ بتایا ہے:
"اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر، یہ سب شیطانی کام ہیں، سو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ” (المائدہ: 90)
ابتدائے اسلام میں جاہلیت کی طرح جوا عام تھا، لیکن قرآن نے تدریجاً اس کی مذمت اور پھر حرمت بیان کی (البقرہ: 219، المائدہ: 90-91)۔ پہلے اس کے گناہ کو نفع سے زیادہ قرار دیا گیا، پھر یہ بتایا گیا کہ شیطان جوئے اور شراب کے ذریعے عداوت اور بغض پیدا کرتا اور ذکرِ الٰہی و نماز سے روکتا ہے۔ آخرکار صریح حرمت کا حکم نازل ہوا۔ تمام صحابہ اور تابعین کا اجماع ہے کہ ہر قسم کا جوا حرام ہے، چاہے پرانی شکل ہو یا جدید آن لائن بیٹنگ، لاٹری یا سٹہ۔
جوا حرام مال کا ایک بڑا ذریعہ ہے، مگر شریعت نے تمام ناحق ذرائع سے مال کھانے کو ممنوع قرار دیا ہے، جیسے چوری، سود، رشوت، غصب، دھوکہ، ناپ تول میں کمی، ذخیرہ اندوزی اور یتیم کا مال کھانا۔ قرآن کہتا ہے:
"اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تجارت باہمی رضامندی سے ہو” (النساء: 29)
احادیث میں آیا ہے کہ جس کا کھانا، پینا اور پہننا حرام ہو، اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ حرام لقمہ چالیس دن تک اعمال کی قبولیت کو روکتا ہے، اور جس کا بدن حرام سے پروان چڑھے، اس کا انجام جہنم ہے۔ یہاں تک کہ جو شخص جھوٹی قسم سے مال بیچے، قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظر تک نہیں کرے گا۔
صحابہ کرام کا تقویٰ اور مشتبہ مال سے اجتناب
حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جب جانا کہ لقمہ مشتبہ ہے، فوراً قے کر دی۔ حضرت عمرؓ نے زکوٰۃ کے اونٹوں کا دودھ لاعلمی میں پیا، مگر حقیقت جاننے پر حلق سے نکال دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو چیز شک میں ڈالے، اسے چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے، اسے اختیار کرو” (مشکوٰة)۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشتبہ سے اجتناب ایمان کی حفاظت کا حصہ ہے۔
احادیث میں واضح آیا ہے کہ ناپ تول میں کمی قحط کا سبب بنتی ہے، زنا کی کثرت طاعون لاتی ہے، اور ذخیرہ اندوزی لعنت اور جہنم کا باعث ہے۔ جھوٹ اور دھوکہ برکت ختم کر دیتے ہیں، اور تجارت کی سچائی رزق میں وسعت لاتی ہے۔
آج حلال و حرام کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔ ناجائز ذرائع معمول بن گئے ہیں، دل سخت ہو رہے ہیں، رواداری کم اور نفرت بڑھ رہی ہے۔ باہمی اعتماد ٹوٹ رہا ہے۔ علما اور اہلِ خیر پر فرض ہے کہ عوام کو حرام مال اور باطل ذرائع سے بچانے کے لیے بھرپور دعوتی و اصلاحی مہم چلائیں، قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی قباحت واضح کریں، اور ایسے جلسے و اجتماعات منعقد کریں جو لوگوں کے دلوں میں تقویٰ پیدا کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد اور معاشرہ دونوں کو دنیا و آخرت کی تباہی سے بچا سکتا ہے۔
ززز


