مصنوعی ذہانت قلمکاروں کی ذہانت پر بھاری پڑ رہی ہے

فاضل شفیع بٹ
اکنگام ،انت ناگ

کوئی بھی قلم کار یا ادیب دنیا بھر میں اپنی قلمی صلاحیتوں یا اچھوتے خیالات کے باعث اپنا لوہا منوانے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے ۔خواہ وہ کوئی شاعر ہو ،ناول نگار ہو، افسانہ نگار ہو، انشائیہ نگار، ہو یا مضمون نگار ہو ۔۔ہر کسی صنف کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں جن کی تکمیل کرنا گویا ہر ادیب اپنا فرض سمجھتا ہے ۔کسی بھی صنف سخن میں طبع آزمائی کرنا اور اپنے قارئین کو اپنے قلم افشا کا اسیر بنانے میں محنت، لگن اور مطالعے کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔میر تقی میر ،مرزا غالب ،علامہ اقبال ،پریم چند ،سعادت حسن منٹو ،قدت اللہ شہاب، محی الدین نواب، بانو قدسیہ، الطاف حسین حالی وغیرہ جو ادیب گزرے ہیں ،انہوں نے راتوں میں چراغ تلے اپنا خون پسینہ ایک کر کے اعلیٰ ترین مقام حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ گویا انہوں نے اردو ادب میں ایک لافانی مثال قائم کی ہے ۔خواہ اردو ادب یا انگریزی ادب کی بات کی جائے تو معزز قلم کاروں نے اپنی انتھک محنت اور مطالعہ کے بدولت ہی اپنی شاہکار تحریرات کو جنم دیا ہےجو صدیوں بعد بھی کتابی شکل میں زندہ ہیں اور ان کے قارئین میں دن بدن اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔حالانکہ اس وقت کوئی ٹیکنالوجی کا دور تو نہیں تھا اور نہ ہی آرام و آسائشوں کا زمانہ تھا،پھر بھی وہ لوگ مطالعہ کرتے رہے، اچوتھے موضوعات اور تخلیقات کو زمانے کے سامنے پیش کرتے گئے اور اپنے نام سے دنیا بھر میں ستاروں کے مانند جگمگاتے رہے۔ وہ ستارے آج بھی فلک پر ٹمٹما رہے ہیں اور ان کی روشنی سارے جہاں کے لیے مشعل راہ کا کام انجام دے رہی ہے۔
وقت گزرتا گیا ،ادیب آتے رہے، جاتے رہے۔۔۔۔
کوئی ادیب وقت کا مشہور و معروف قلم کار ثابت ہوا اور کوئی گمنامی کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔وقت نے اتنی تیزی سے کروٹ لی جو ایک انسان کی سوچ سے پرے تھی ۔موبائل فون، انٹرنیٹ ،سوشل میڈیا نے ہاہا کار مچانی شروع ہی کر دی تھی کہ ایک نیا تماشہ وجود میں آیا جسے ہمChatGTP کے نام سے جانتے ہیں۔ایک مصنوعی ذہانت جس نے آدمی کے دماغ کو گویا مفلوج کر دیا کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے آدمی جو چاہے حاصل کر سکتا ہے۔ کوئی مضمون ہی کیوں نہ ہو ،میر کی غزل ہی کیوں نہ ہو ،پریم چند کا شاہکار افسانہ ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔چیٹ جی پی ٹی پر ادیب کا نام ڈالتے ہی اس کی ساری تصانیف یا کوئی بھی پسندیدہ نثر یا غزل چٹکی میں موبائل یا کمپیوٹر کے اسکرین پر نمودار ہو جاتی ہے ۔
بات یہاں تک کی محدود نہیں بلکہChatGTP کے بدولت ایک آدمی کسی بھی موضوع یا صنف میں نئے نئے تخلیقات کو اجاگر کر سکتا ہے۔
گویا ایک آدمی چیٹ جی بی ٹی کے استعمال سے افسانہ، مضمون، غزل، انشائیہ وغیرہ آرام سے اپنے نام سے منسوب کر سکتا ہے۔یہ بھی ایک قسم کی سرقہ بازی ہی ہے بس طریقہ الگ ہے ۔
چیٹ جی پی ٹی اور سرقہ بازی میں بس اتنا ہی فرق ہے کہ سرقہ بازی میں آدمی کی چوری پکڑنے کا ڈر رہتا ہے لیکن چیٹ جی ٹی میں ایسا بالکل بھی نہیں ہےمطلب سانپ بھی مرے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے !
اس مصنوعی ذہانت کی بدولت اب قلم کر بننا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔نہ کسی مطالعے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی خاص محنت درکار ہے ۔بسChatGTP پر موضوع ٹائپ کر دیجئے۔۔۔دو منٹ میں ایک لمبا چوڑا مضمون، افسانہ، انشائیہ وغیرہ آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔اگر معیار کی بات کی جائے توChatGTP ایک ریڈی میڈ معیاری تحریر آدمی کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔۔
پھر کیا ۔۔۔۔۔۔۔آدمی اس تحریر کواپنے نام کے ساتھ منسوب کر کے قابل ذکر اخبارات یا رسالوں کو ارسال کرتا ہے۔ایڈیٹر صاحبان بھی کسی محنت و مشقت کے بغیر اپنے اخبارات میں فوراّ چھاپتے ہیں ۔۔اور اگلے دن وہ آدمی اپنی فیس بک وال پر اخبار کی تصویر کے ساتھ پوسٹ کرتا ہے ۔۔۔
پھر تو پوچھیے ہی مت ۔۔۔۔۔وقت کے نامور ادیب و قلم کار وہ تحریر دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں ۔۔۔اپنا فرض سمجھ کر اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور اس طرح سماج میں نئے لکھاری کا جنم وجود میں آتا ہے۔فرضی واہ واہ اور ادیبوں کے کمنٹس سے نئے لکھاری کا حوصلہ آسمان کی بلندیوں کو چھو جاتا ہے اور وہChatGTP کے مدد سے روز بہ روز نئے نئے موضوعات اور اچھوتے خیالات کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور ہر دن کسی نہ کسی اخبار کی زینت ضرور بن جاتا ہے ۔حالانکہ ایسی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے جس کی بدولتChatGTP سے تیار شدہ مضامین وغیرہ کی جانچ پڑتال بھی ہوتی ہے لیکن ایڈیٹر صاحبان شاید اپنے فرائض کو انجام دینا بھول چکے ہیں۔ یہاں ایڈیٹر محض اب نام تک ہی محدود رہا ہے کیونکہ اخبار بینی کا دور شاید اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور ایڈیٹر صاحبان کو چھاپنے کے لیے محض مواد چاہیے ۔۔۔خواہ وہ اصلی ہو یا ChatGTP سے تیار شدہ ۔۔۔۔
میں مانتا ہوں کہ موجودہ نسل کے نوجوان کتب بینی یا اخبار بینی کا شوق پالنے سے قاصر ہیں اور اپنا بیشتر وقت سوشل میڈیا یا اپنے موبائل پر ہی صرف کرتے ہیں لیکن کیا اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان بھی اپنے فرائض کو انجام دینے سے نابلد ہیں ؟۔۔کیا ان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ ارسال شدہ مواد کی جانچ پڑتال کے بعد ہی اسے اخبار میں شائع کیا جائے ۔۔۔
نئی لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کسی حد تک صحیح ہے لیکنChatGTP کے مدد سے تیار شدہ مواد کو ترجیح دینا کہاں کا انصاف ہے ؟
یہ ان قلم کاروں کو زندہ دفن کرنے کے مترادف ہے جو اپنی راتوں کی نیند حرام کر کے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کا ڈھانچہ تیار کر کے اپنی ادبی عمارت بنانے کوشش میں مگن ہیں اور جدید دور کی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ایڈیٹر صاحبان کی غیر ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں ۔
وقت کے نامور قلم کار بھی اپنی ذمہ داریوں سے شاید سبکدوش ہو چکے ہیں۔اس ڈرامہ کو روکنے میں وقت کے نامور ادیب اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔فرضی پذیرائی کو بالائے طاق رکھ کر، قلم کار کی صلاحیتوں کو پرکھ کر اور پھر اس پر اپنی رائے قائم کرنا ہر کسی ادیب کا فرض ہے ۔میں خود کو کوئی قلم کار تصور نہیں کرتا لیکن اتنا وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک جتنا بھی لکھا ہے سب اپنا لکھا ہے ۔۔۔بھلے وہ قارئین کو پسند آیا ہوگا یا نہیں ۔۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد کو اہمیت نہ دی جائے ۔ایڈیٹر صاحبان سے استدا کرتا ہوں کہ مواد کی جانچ پڑتال کرنے میں فخر محسوس کریں اور مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا کریں۔۔۔میں کسی قلم کار یا نئے لکھاری کے خلاف بالکل بھی نہیں ہوں ۔۔۔آپ مطالعہ کیجئے، لکھتے رہیے ،لیکن خداراChatGTP سے تیار شدہ تحریرات سے گریز کریں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

مصنوعی ذہانت قلمکاروں کی ذہانت پر بھاری پڑ رہی ہے

فاضل شفیع بٹ
اکنگام ،انت ناگ

کوئی بھی قلم کار یا ادیب دنیا بھر میں اپنی قلمی صلاحیتوں یا اچھوتے خیالات کے باعث اپنا لوہا منوانے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے ۔خواہ وہ کوئی شاعر ہو ،ناول نگار ہو، افسانہ نگار ہو، انشائیہ نگار، ہو یا مضمون نگار ہو ۔۔ہر کسی صنف کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں جن کی تکمیل کرنا گویا ہر ادیب اپنا فرض سمجھتا ہے ۔کسی بھی صنف سخن میں طبع آزمائی کرنا اور اپنے قارئین کو اپنے قلم افشا کا اسیر بنانے میں محنت، لگن اور مطالعے کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔میر تقی میر ،مرزا غالب ،علامہ اقبال ،پریم چند ،سعادت حسن منٹو ،قدت اللہ شہاب، محی الدین نواب، بانو قدسیہ، الطاف حسین حالی وغیرہ جو ادیب گزرے ہیں ،انہوں نے راتوں میں چراغ تلے اپنا خون پسینہ ایک کر کے اعلیٰ ترین مقام حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ گویا انہوں نے اردو ادب میں ایک لافانی مثال قائم کی ہے ۔خواہ اردو ادب یا انگریزی ادب کی بات کی جائے تو معزز قلم کاروں نے اپنی انتھک محنت اور مطالعہ کے بدولت ہی اپنی شاہکار تحریرات کو جنم دیا ہےجو صدیوں بعد بھی کتابی شکل میں زندہ ہیں اور ان کے قارئین میں دن بدن اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔حالانکہ اس وقت کوئی ٹیکنالوجی کا دور تو نہیں تھا اور نہ ہی آرام و آسائشوں کا زمانہ تھا،پھر بھی وہ لوگ مطالعہ کرتے رہے، اچوتھے موضوعات اور تخلیقات کو زمانے کے سامنے پیش کرتے گئے اور اپنے نام سے دنیا بھر میں ستاروں کے مانند جگمگاتے رہے۔ وہ ستارے آج بھی فلک پر ٹمٹما رہے ہیں اور ان کی روشنی سارے جہاں کے لیے مشعل راہ کا کام انجام دے رہی ہے۔
وقت گزرتا گیا ،ادیب آتے رہے، جاتے رہے۔۔۔۔
کوئی ادیب وقت کا مشہور و معروف قلم کار ثابت ہوا اور کوئی گمنامی کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔وقت نے اتنی تیزی سے کروٹ لی جو ایک انسان کی سوچ سے پرے تھی ۔موبائل فون، انٹرنیٹ ،سوشل میڈیا نے ہاہا کار مچانی شروع ہی کر دی تھی کہ ایک نیا تماشہ وجود میں آیا جسے ہمChatGTP کے نام سے جانتے ہیں۔ایک مصنوعی ذہانت جس نے آدمی کے دماغ کو گویا مفلوج کر دیا کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے آدمی جو چاہے حاصل کر سکتا ہے۔ کوئی مضمون ہی کیوں نہ ہو ،میر کی غزل ہی کیوں نہ ہو ،پریم چند کا شاہکار افسانہ ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔چیٹ جی پی ٹی پر ادیب کا نام ڈالتے ہی اس کی ساری تصانیف یا کوئی بھی پسندیدہ نثر یا غزل چٹکی میں موبائل یا کمپیوٹر کے اسکرین پر نمودار ہو جاتی ہے ۔
بات یہاں تک کی محدود نہیں بلکہChatGTP کے بدولت ایک آدمی کسی بھی موضوع یا صنف میں نئے نئے تخلیقات کو اجاگر کر سکتا ہے۔
گویا ایک آدمی چیٹ جی بی ٹی کے استعمال سے افسانہ، مضمون، غزل، انشائیہ وغیرہ آرام سے اپنے نام سے منسوب کر سکتا ہے۔یہ بھی ایک قسم کی سرقہ بازی ہی ہے بس طریقہ الگ ہے ۔
چیٹ جی پی ٹی اور سرقہ بازی میں بس اتنا ہی فرق ہے کہ سرقہ بازی میں آدمی کی چوری پکڑنے کا ڈر رہتا ہے لیکن چیٹ جی ٹی میں ایسا بالکل بھی نہیں ہےمطلب سانپ بھی مرے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے !
اس مصنوعی ذہانت کی بدولت اب قلم کر بننا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔نہ کسی مطالعے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی خاص محنت درکار ہے ۔بسChatGTP پر موضوع ٹائپ کر دیجئے۔۔۔دو منٹ میں ایک لمبا چوڑا مضمون، افسانہ، انشائیہ وغیرہ آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔اگر معیار کی بات کی جائے توChatGTP ایک ریڈی میڈ معیاری تحریر آدمی کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔۔
پھر کیا ۔۔۔۔۔۔۔آدمی اس تحریر کواپنے نام کے ساتھ منسوب کر کے قابل ذکر اخبارات یا رسالوں کو ارسال کرتا ہے۔ایڈیٹر صاحبان بھی کسی محنت و مشقت کے بغیر اپنے اخبارات میں فوراّ چھاپتے ہیں ۔۔اور اگلے دن وہ آدمی اپنی فیس بک وال پر اخبار کی تصویر کے ساتھ پوسٹ کرتا ہے ۔۔۔
پھر تو پوچھیے ہی مت ۔۔۔۔۔وقت کے نامور ادیب و قلم کار وہ تحریر دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں ۔۔۔اپنا فرض سمجھ کر اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور اس طرح سماج میں نئے لکھاری کا جنم وجود میں آتا ہے۔فرضی واہ واہ اور ادیبوں کے کمنٹس سے نئے لکھاری کا حوصلہ آسمان کی بلندیوں کو چھو جاتا ہے اور وہChatGTP کے مدد سے روز بہ روز نئے نئے موضوعات اور اچھوتے خیالات کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور ہر دن کسی نہ کسی اخبار کی زینت ضرور بن جاتا ہے ۔حالانکہ ایسی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے جس کی بدولتChatGTP سے تیار شدہ مضامین وغیرہ کی جانچ پڑتال بھی ہوتی ہے لیکن ایڈیٹر صاحبان شاید اپنے فرائض کو انجام دینا بھول چکے ہیں۔ یہاں ایڈیٹر محض اب نام تک ہی محدود رہا ہے کیونکہ اخبار بینی کا دور شاید اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور ایڈیٹر صاحبان کو چھاپنے کے لیے محض مواد چاہیے ۔۔۔خواہ وہ اصلی ہو یا ChatGTP سے تیار شدہ ۔۔۔۔
میں مانتا ہوں کہ موجودہ نسل کے نوجوان کتب بینی یا اخبار بینی کا شوق پالنے سے قاصر ہیں اور اپنا بیشتر وقت سوشل میڈیا یا اپنے موبائل پر ہی صرف کرتے ہیں لیکن کیا اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان بھی اپنے فرائض کو انجام دینے سے نابلد ہیں ؟۔۔کیا ان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ ارسال شدہ مواد کی جانچ پڑتال کے بعد ہی اسے اخبار میں شائع کیا جائے ۔۔۔
نئی لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کسی حد تک صحیح ہے لیکنChatGTP کے مدد سے تیار شدہ مواد کو ترجیح دینا کہاں کا انصاف ہے ؟
یہ ان قلم کاروں کو زندہ دفن کرنے کے مترادف ہے جو اپنی راتوں کی نیند حرام کر کے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کا ڈھانچہ تیار کر کے اپنی ادبی عمارت بنانے کوشش میں مگن ہیں اور جدید دور کی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ایڈیٹر صاحبان کی غیر ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں ۔
وقت کے نامور قلم کار بھی اپنی ذمہ داریوں سے شاید سبکدوش ہو چکے ہیں۔اس ڈرامہ کو روکنے میں وقت کے نامور ادیب اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔فرضی پذیرائی کو بالائے طاق رکھ کر، قلم کار کی صلاحیتوں کو پرکھ کر اور پھر اس پر اپنی رائے قائم کرنا ہر کسی ادیب کا فرض ہے ۔میں خود کو کوئی قلم کار تصور نہیں کرتا لیکن اتنا وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک جتنا بھی لکھا ہے سب اپنا لکھا ہے ۔۔۔بھلے وہ قارئین کو پسند آیا ہوگا یا نہیں ۔۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد کو اہمیت نہ دی جائے ۔ایڈیٹر صاحبان سے استدا کرتا ہوں کہ مواد کی جانچ پڑتال کرنے میں فخر محسوس کریں اور مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا کریں۔۔۔میں کسی قلم کار یا نئے لکھاری کے خلاف بالکل بھی نہیں ہوں ۔۔۔آپ مطالعہ کیجئے، لکھتے رہیے ،لیکن خداراChatGTP سے تیار شدہ تحریرات سے گریز کریں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں