مہناز
سرینگر جنگ
ایمان، اخلاص اور روحانی آرزو سے لبریز حج کا سفر، ہر مسلمان کی زندگی کا خواب ہوتا ہے، لیکن جموں و کشمیر میں حج 2026 کیلئے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے والوں کی تعداد حیرت انگیز حد تک کم ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر کو رواں سال سعودی عرب کی طرف سے 7896 عازمین کا ابتدائی کوٹہ دیا گیا ہے، لیکن 31 جولائی کی آخری تاریخ سے ایک ہفتہ قبل صرف 2244 درخواستیں موصول ہوئی ہیں یعنی صرف42.28فیصد۔
| سال | عازمین |
|---|---|
| 2021 | کورونا کے سبب حج نہیں ہوا |
| 2022 | 6000 |
| 2023 | 12000 |
| 2024 | 3606 |
| 2025 | 3622 |
| 2026 | (درخواستیں موصول) 2300 |
کاروباری طبقے اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حج درخواستوں میں اس غیر معمولی کمی کی سب سے بڑی وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عام کشمیری فی الوقت اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں جُتا ہوا ہے، حج جیسے مہنگے سفر کے لیے مالی وسعت رکھنا اس کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ایک افسر کے مطابق:”ہمیں آخری دنوں میں مزید درخواستوں کی امید ہے، لیکن سعودی حکومت کی طرف سے حتمی کوٹہ تفویض ہونا باقی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ جلد از جلد فارم جمع کروا دیں۔”مزید یہ کہ حج کمیٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل دستاویزات، پاسپورٹ، اور میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ درخواستیں داخل کریں تاکہ عمل میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
حج 2026 کے لیے درخواستوں میں شدید کمی صرف ایک اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرتی اور معاشی بحران کا مظہر ہے۔ اس لمحے پر خاموشی ایک اجتماعی خسارے کو جنم دے سکتی ہے۔ وقت ہے کہ بیداری پیدا کی جائے، سہولیات بڑھائی جائیں، اور ہر اس فرد کے لیے حج کو آسان بنایا جائے جو سچے دل سے اس مقدس سفر کی تمنا رکھتا ہے۔


