ڈاکٹر جی۔ ایم۔ پٹیل
ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز (S&P Global Ratings) ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ امریکی ریٹنگ ایجنسی ہے جس کا صدر دفتر نیو یارک شہر کے مین ہٹن علاقے میں واقع ہے۔ اس کا دائرہ کار مالیاتی تجزیے، ڈیٹا سائنس، اور انٹیلیجنس پر مشتمل ہے۔ یہ ادارہ S&P Global کے تحت کام کرتا ہے، جس کے ذیلی شعبہ جات میں S&P Global Ratings, S&P Global Market Intelligence, اور S&P Global Mobility شامل ہیں۔
سمینہ شاہ اس ادارے میں ہیڈ آف ڈیٹا سائنس کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر نتائج میں شفافیت اور انصاف درکار ہے تو نظریاتی و فکری تنوع ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، بہت سے اے آئی ماڈلز اس لیے متعصب نظر آتے ہیں کیونکہ وہ محدود نقطہ نظر رکھنے والی ٹیموں نے تیار کیے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلے کے ہر پہلو کو سمجھنے اور بہتر حل کے لیے تنوع ناگزیر ہے۔
جب سمینہ شاہ نے S&P Global Ratings میں شمولیت اختیار کی، تو وہ ایک پرنسپل سائنٹسٹ کے طور پر متعارف ہوئیں۔ ان کے ساتھ آٹھ ماہرین کی ایک ٹیم تھی جو مکمل انڈسٹری میں انقلابی تبدیلی لانے کے مشن پر گامزن تھی۔ اس ادارے کے لیڈرشپ پروفائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خواتین نہ صرف نمائندگی رکھتی ہیں بلکہ قیادت میں بھی پیش پیش ہیں، جو کہ ادارے کی ترقی پسندانہ پالیسیوں کا عملی ثبوت ہے۔
20 سالہ تجربے پر محیط ان کا سفر متعدد عالمی کمپنیوں میں کامیابی کی کہانی ہے۔ وہ مصنوعی ذہانت کے ایسے ماڈل بنا چکی ہیں جنہوں نے انڈسٹری کی ساخت کو بدلا۔ وہ ایک باصلاحیت کمپیوٹر انجینئر کی شریک حیات بھی ہیں جو گھریلو اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔
پیشہ ورانہ اور علمی پس منظر
انہوں نے آئی آئی ٹی دہلی سے الیکٹرانکس میں بیچلرز، کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور 2004 میں مشین لرننگ میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کا تعلیمی سفر جامعہ ملیہ اسلامیہ سے 2002 میں شروع ہوا۔ وہ متعدد اعلیٰ سطحی AI کانفرنسوں جیسے IJCAI 2021 اور TED Talks میں مدعو مقررہ رہ چکی ہیں۔
انہیں کئی اہم اعزازات سے نوازا جا چکا ہے:
ض مائیکروسافٹ نیشنل ایوارڈ برائے بہترین پی ایچ ڈی تھیسس
ض کلاؤڈیرا ایوارڈ برائے بہترین AI/ML تحقیقی اشاعت
ض گوگل انڈیا وومن اِن انجینئرنگ ایوارڈ 2009
ض 30 سے زائد پیٹنٹس اور عالمی سطح پر اہم اشاعتیں
ض گوگل انڈیا وومن ان انجینئرنگ (WIE) ایوارڈ ہر سال کمپیوٹر سائنس میں نمایاں طالبات کو دیا جاتا ہے۔ 2009 میں 22 فائنلسٹ میں سے 9 طالبات اس اعزاز کی حقدار ٹھہریں، جن میں سمینہ شاہ بھی شامل تھیں۔
ان کا کہنا ہے:
"مجھے کمپیوٹر سائنس میں تحقیق اس لیے پسند ہے کیونکہ یہ میری فطری تجسس کو تسکین دیتی ہے۔ بظاہر بے ربط چیزوں کے پیچھے بھی ایک منطق ہوتی ہے، اور اسے سمجھنا اور اس پر نئی تجاویز دینا میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔”
مصنوعی ذہانت اور ایجادات
سمینہ شاہ نے بڑے پیمانے پر ایسے AI الگوردمز تیار کیے ہیں جو نہ صرف موثر ہیں بلکہ صنعت کے اہم مسائل کا دیرپا حل فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے 2004 سے 2009 کے درمیان وزارت تعلیم سے ریسرچ فیلوشپ حاصل کی، اور 2008 میں Student Association Scholarship سے بھی نوازا گیا۔
ان کا ایک خاص پیٹنٹ (نمبر 12051259) عدالتوں کے پیٹیشن دستاویزات سے اہم قانونی ڈیٹا نکالنے سے متعلق ہے، جس میں مشین لرننگ اور فزی لاجک کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ پیٹنٹ 11 مئی 2021 کو فائل کیا گیا اور 30 جولائی 2024 کو JPMorgan Chase Bank کو جاری ہوا، جس میں سمینہ شاہ، سمرجوت کور، اور برائن برامبل بطور موجد شامل ہیں۔
سمینہ شاہ نہ صرف عالمی مالیاتی اور ٹیکنالوجی شعبے میں انقلابی کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ آنے والی نسل کی خواتین سائنسدانوں کے لیے ایک روشن مثال بھی ہیں۔


