امرناتھ گپھا مختصر تاریخ

رشید پروین
سوپور، کشمیر

اس برس 2025 کی یاترا میں، آکاش وانی سرینگر نے شری امرناتھ جی یاترا (SANJY) 2025 کی خصوصی نشریات کے لیے جدید ترین آڈیو اسٹوڈیو کا افتتاح کیا ہے۔ یہ اسٹوڈیو یاترا کے دوران، یاتریوں اور دنیا بھر میں سامعین کو بغیر کسی خلل کے اعلیٰ معیار کی نشریات فراہم کرتا رہے گا، اور 2 جولائی 2025 کو اس برس کی یاترا کے پہلے قافلے کا استقبال قاضی گنڈ کے نزدیک "نو یگ ٹنل” پر شاندار اور والہانہ طور پر یہاں کے کلیدی آفیسرز اور کشمیری عوام نے کیا ہے جس کی پذیرائی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ استقبال کشمیری روایات اور کلچر کا حصہ ہے، جس میں کشمیریوں کی بے لاگ محبت، خلوص، بھائی چارے، یگانگت اور کسی بھی بھید بھاو کے بغیر اپنائیت کے جذبے کی خمیر سے گوندھا جاتا ہے۔
سرکار اس یاترا کے سلسلے میں اپنی طرف سے بہت سارے انتظامات زائرین کے لیے کرتی ہے اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ یہاں آنے والے یاتریوں کو اس دشوار گزار سفر میں تمام سہولیات اور آسانیاں میسر ہوں۔ ان آسانیوں اور سہولیات سے زائرین کی کثیر تعداد وارد کشمیر ہو جاتی ہے اور صرف پچھلے پندرہ دنوں کے اندر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈھائی لاکھ سے زیادہ زائرین مستفید ہو چکے ہیں۔
سارے بھارت میں شکتی پیٹھ (قوت کے سرچشمے) کی تعداد اگرچہ 51 تسلیم کی جاتی ہے اور امرناتھ پچاسویں شکتی پیٹھ جگہ مانی جاتی ہے، جہاں سارے بھارت سے اب لاکھوں کی تعداد میں ہندو زائرین امرناتھ گپھا میں شیو لنگ کے درشن سے مستفید ہوتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ اس سفر کے مراحل کا تذکرہ ہو یہ جاننا ضروری ہے کہ شکتی پیٹھ کیا ہے اور ان کا وجود کیسے ہوا ہے؟ ہندو دھرم کی قدیم کتابوں میں اس کا تذکرہ ہے: "ستی”، جسے پاروتی ماتا یا اوما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، انسانی جسم میں پرجا پتی کی بیٹی تھی جس نے اپنے باپ کی خواہش کے خلاف لارڈ شیو سے بیاہ رچایا۔ دکھشا پرجا پتی نے ایک بہت بڑا یگیہ کیا جس میں اس نے دیوی دیوتاؤں کو مدعو کیا لیکن لارڈ شیو کو اس یگیہ میں نہیں بلایا۔ ستی دیوی نے اس یگیہ میں شیو کی خواہش کے خلاف شمولیت کی جہاں اس کے باپ نے تمام دیوی دیوتاؤں کے سامنے ستی کی بے عزتی کی، جسے ‘ستی” برداشت نہیں کر پائی اور اپنے پران تیاگ دیے۔ اس صدمے سے لارڈ شیو بے حد مجروح ہوئے اور ویرا بھدرا کے ذریعے سے دکھشا کا یگیہ تباہ کیا، پرجا پتی کا سر کاٹا۔
اس کے باوجود غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو، ستی کا بے جان جسم اٹھا کر ہر سو تانڈو (وناشک) ناچ شروع کیا۔ دیوتاؤں نے اس سے ایسا کرنے سے روکا، اور ویشنو دیوتا نے اپنے چکر سے ستی کے جسم کو کاٹ کر 51 حصوں میں تقسیم کیا جو بھارت کی مختلف جگہوں اور مقامات پر گرتے چلے گئے، اور جہاں جہاں یہ اعضا گرے، وہیں "شکتی پیٹھ” استھان وجود میں آگیا کیونکہ یہ قوت کے سرچشمے تھے۔ تب سے ان استھانوں کی ہزاروں برس سے یاترا ہوتی ہے اور عقیدت مند ان مقامات کو مقدم اور مقدس سمجھ کر ان کے درشن کرتے رہتے ہیں۔
امرناتھ گپھا ڈسٹرکٹ اننت ناگ، لدر وادی میں واقع ہے، اور یہ 3888 میٹر یعنی 12756 فٹ کی بلندی پر اسلام آباد سے 168 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ہندوؤں کا تیرتھ استھان اور پِوتر غار گلیشروں کی کوکھ میں ہے۔ چاروں طرف گلیشروں کا حصار ہے اور راستہ بھی دشوار گزار ہے۔ یہ گپھا بہت بڑی ہے، اس میں داخل ہونے کا دروازہ لگ بھگ چالیس گز اور اس کی بلندی 75 فٹ ہے اور یہ گپھا پہاڑ کے اندر نیچے 80 فٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ گپھا حیران کن ہے، جس کی اہمیت شیو لنگھم سے بنتی ہے اور اسی شیو لنگھم کی وجہ سے یہ تیرتھ استھان بھی ہے اور مشہور و معروف بھی ہے۔
یہ شیولنگھم کیا ہے اور اس کے ساتھ کئی کہانیاں بھی جڑی ہیں، لیکن سب سے پہلے یہ بات کہ لنگھم اس غار کی چھت سے جون، جولائی میں ٹپکنے والے پانی کے قطروں سے وہ شکل اختیار کرتا ہے جسے لنگھم کہا جاتا ہے۔ یہ پانی کے قطرے چھت سے فرش پر آتے ہیں، جم جاتے ہیں اور اس طرح آہستہ آہستہ لنگھم کا روپ دھار لیتے ہیں، اور جب مکمل ہوتا ہے تو یہی یاتریوں کے اصل درشن دن ہوتے ہیں۔ اس لنگھم کو شیو کی physical manifestation تصور کیا جاتا ہے جس کے درشن کے لیے لاکھوں عقیدت مند یہاں آ جاتے ہیں۔
پاروتی نے کسی موڈ پر لارڈ شیو سے ابدی زندگی کا راز جاننا چاہا تھا۔ شیو نے عرصے تک یہ بتانے سے گریز کیا لیکن آخر ایک دن یہ راز اس پر منکشف کرنے کا فیصلہ کیا۔ شیو مانتے تھے کہ یہ راز بتانے کے لیے ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں ان دونوں کے سوا کسی اور کے پہنچنے یا یہ راز ایکسپوز ہونے کا کوئی احتمال نہ ہو۔ اس لیے شیو نے اس جگہ کا انتخاب کیا۔ شیو کو یقین تھا کہ اس جگہ گلیشروں کے بیچ میں اتنی اونچائی پر صرف دیوی دیوتا ہی پہنچ سکتے ہیں۔
اس لیے اس جگہ کے لیے سفر شروع ہوا اور دوران سفر وہ اپنے پیچھے اپنی ساری چیزیں مختلف مقامات پر چھوڑتے گئے، جیسے انہوں نے "نندنی” میں اپنا بیل چھوڑا۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ تصویروں میں وہ ہمیشہ بیل پر ہی سوار دکھائی دیتے ہیں۔ چندن واڈی میں شیو نے اپنے بالوں سے چاند کو خارج کیا، اور آگے بڑھے تو شیش ناگ میں اپنے ناگ کو چھوڑ دیا جو تصویروں میں ان کے گلے میں ہمیشہ آویزاں دکھائی دیتا ہے، اور پھر پنج ترنی میں اپنی زندگی کے وہ پانچ عناصر چھوڑ دیے جن سے زندگی کا وجود ہے، جیسے زمین، پانی، آگ، ہوا اور آسمان۔ یہاں تک کہ اپنے بیٹے گنیش کو بھی "مہا گنا” چوٹی پر چھوڑ کر آگے بڑھے۔ اس تیرتھ استھان کے یاتری ان جگہوں سے ہو کر ہی گپھا تک پہنچتے ہیں۔
"امرناتھ” کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ دو لفظوں پر مشتمل ہے، "امر” جس کے معنی eternal یعنی لافانی بنتے ہیں اور "ناتھ” کے معنی lord یا دیوتا ہی ہو سکتے ہیں۔ ہندو عقائد کے مطابق شیو نے اپنی دیوی پاروتی کو یہاں تک اس لیے لایا تھا کہ وہ راز جو وہ منکشف کرنے والے تھے، کوئی تیسری شے اس سے واقف نہ ہو سکے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ شیو نے ان سب چیزوں سے، جو انہوں نے مختلف جگہوں پر چھوڑی تھیں، چھٹکارا پایا تو سب سے پہلے دونوں نے "تانڈو” ناچا تھا، اور اس کے بعد پاروتی کو راز بتانے سے پہلے مزید احتیاط کے طور پر کال اگنی کو پیدا کر کے اس سے آس پاس کی ہر چیز کو بھسم کرنے کا حکم دیا۔ لیکن خود شیو کے تخت کے نیچے کبوتروں کے دو انڈے کسی طرح موجود رہے، جن سے بعد میں کبوتروں کی جوڑی نکلی، جنہوں نے یہ راز جان لیا تھا۔ ہندو عقائد کے مطابق یہ کبوتروں کی جوڑی بھی امر ہو چکی تھی، اور آج تک بہت سارے یاتری یہ دعویٰ وقفے وقفے سے کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے خوش نصیبی سے اس کبوتر جوڑی کو یہاں پرواز کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(خیال رہے کہ میں کسی بات پر کوئی رائے زنی یا تبصرہ نہیں کر رہا ہوں بلکہ وہ لکھ رہا ہوں جو اس غار سے متعلق مختلف قدیم اہل ہنود کی کتابوں میں اور دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا ہے۔)
بہرحال، شیو نے اسی جگہ اپنی دیوی پاروتی کو اس راز سے آگاہ کیا۔ ظاہر ہے کہ یہاں لارڈ شیو اور پاروتی نے قیام کیا ہے اور شیو لنگھم، جو کہ شیو کی نمائندگی کرتا ہے، اگر اس انداز میں نہ بھی بنتا تب بھی یہ جگہ مقدس ہی رہتی اور تب بھی اس جگہ کو پِوتر استھان کا مقام حاصل رہتا۔
آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ اس سفر اور گپھا تک پہنچنے کے دوران جن جن مقامات پر شیو پاروتی نے پڑاؤ کیا ہے وہ سب جانی مانی اور ہندوؤں کے لیے متبرک مقامات ہی تصور کی جاتی ہیں، جن میں پہلگام، چندن واڈی، شیش ناگ، مہا گنا اور پنج ترنی ہیں۔
ایسا کہا جاتا ہے کہ یہ گپھا 5000 برس پہلے سے ہی موجود ہے۔ کلہن اور دوسرے مورخوں نے کشمیر کے اوریجن کو کشپ سے مانا ہے جنہوں نے ایک بہت بڑی جھیل بلکہ چھوٹے سے سمندر کے پانی کی نکاسی ممکن بنا کر وادی کا روپ دیا ہے، لیکن یہ کسی طرح قرین قیاس نہیں کہ وہ جھیل بہت زیادہ بلندی کی حامل رہی ہو۔ ظاہر ہے کہ بہت اونچے پہاڑ اور گلیشر نامعلوم زمانوں سے اسی طرح موجود رہے ہوں گے اور انہیں صرف پانچ ہزار سال تک محدود کرنا عقل میں نہیں سماتا، اور اس طرح ان گلیشروں کے بیچ میں یہ غار پہلے ہی سے موجود رہا ہوگا۔ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ انسانی ہاتھوں کا کوئی کرشمہ نہیں رہا ہوگا۔
ایک سنسکرت کتاب "برنگی شا سمہیتا” میں اس یاترا کی اوریجن سے متعلق یہ درج ہے کہ یہ ایک سادھو تھا جس نے اپنے چیلوں کو اس استھان کی طرف پہلے توجہ مبذول کروائی اور انہیں لنگھم کے درشن کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے چیلے جب اس سفر پر روانہ ہوئے تو یہاں راستوں کے راکشسوں نے انہیں پریشان کیا اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔ یہ چیلے واپس برنگی شا کے پاس فریاد لے کر آئے تو برنگی شا نے شیو کی پرارتھنا کی اور لارڈ شیو نے انہیں ایک تبرک عطا کیا، جسے "چھڑی مبارک” کا نام دیا گیا، اور تب سے ہی یاتریوں کا سب سے بڑا جتھہ منظم طور پر اس چھڑی مبارک کے ساتھ سفر کرتا ہے۔
ایک اور فوک کہانی کے مطابق یہ غار 1850 میں بوٹا ملک، ایک مسلم گڈریا نے دریافت کیا تھا۔ اس کی بھی ایک تحیر آمیز کہانی بتلائی جاتی ہے کہ اس بوٹا ملک کو یہاں پر ایک سادھو ملا تھا جس نے اس سے کوئلے کا ایک تھیلہ تھما دیا اور جب گڈریا گھر پہنچا تو کوئلہ سونے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ گڈریا اس سادھو کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک آپہنچا اور سادھو کے بجائے اس سے یہ گپھا نظر آئی اور اس طرح باہری دنیا کو اس گپھا کے بارے میں معلوم ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ بوٹا ملک کی فیملی ایک عرصے تک اس غار کی انچارج یا منتظم رہی ہے، لیکن 2000 سے شرائن بورڈ نے سارا انتظام سنبھال لیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

امرناتھ گپھا مختصر تاریخ

رشید پروین
سوپور، کشمیر

اس برس 2025 کی یاترا میں، آکاش وانی سرینگر نے شری امرناتھ جی یاترا (SANJY) 2025 کی خصوصی نشریات کے لیے جدید ترین آڈیو اسٹوڈیو کا افتتاح کیا ہے۔ یہ اسٹوڈیو یاترا کے دوران، یاتریوں اور دنیا بھر میں سامعین کو بغیر کسی خلل کے اعلیٰ معیار کی نشریات فراہم کرتا رہے گا، اور 2 جولائی 2025 کو اس برس کی یاترا کے پہلے قافلے کا استقبال قاضی گنڈ کے نزدیک "نو یگ ٹنل” پر شاندار اور والہانہ طور پر یہاں کے کلیدی آفیسرز اور کشمیری عوام نے کیا ہے جس کی پذیرائی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ استقبال کشمیری روایات اور کلچر کا حصہ ہے، جس میں کشمیریوں کی بے لاگ محبت، خلوص، بھائی چارے، یگانگت اور کسی بھی بھید بھاو کے بغیر اپنائیت کے جذبے کی خمیر سے گوندھا جاتا ہے۔
سرکار اس یاترا کے سلسلے میں اپنی طرف سے بہت سارے انتظامات زائرین کے لیے کرتی ہے اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ یہاں آنے والے یاتریوں کو اس دشوار گزار سفر میں تمام سہولیات اور آسانیاں میسر ہوں۔ ان آسانیوں اور سہولیات سے زائرین کی کثیر تعداد وارد کشمیر ہو جاتی ہے اور صرف پچھلے پندرہ دنوں کے اندر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈھائی لاکھ سے زیادہ زائرین مستفید ہو چکے ہیں۔
سارے بھارت میں شکتی پیٹھ (قوت کے سرچشمے) کی تعداد اگرچہ 51 تسلیم کی جاتی ہے اور امرناتھ پچاسویں شکتی پیٹھ جگہ مانی جاتی ہے، جہاں سارے بھارت سے اب لاکھوں کی تعداد میں ہندو زائرین امرناتھ گپھا میں شیو لنگ کے درشن سے مستفید ہوتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ اس سفر کے مراحل کا تذکرہ ہو یہ جاننا ضروری ہے کہ شکتی پیٹھ کیا ہے اور ان کا وجود کیسے ہوا ہے؟ ہندو دھرم کی قدیم کتابوں میں اس کا تذکرہ ہے: "ستی”، جسے پاروتی ماتا یا اوما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، انسانی جسم میں پرجا پتی کی بیٹی تھی جس نے اپنے باپ کی خواہش کے خلاف لارڈ شیو سے بیاہ رچایا۔ دکھشا پرجا پتی نے ایک بہت بڑا یگیہ کیا جس میں اس نے دیوی دیوتاؤں کو مدعو کیا لیکن لارڈ شیو کو اس یگیہ میں نہیں بلایا۔ ستی دیوی نے اس یگیہ میں شیو کی خواہش کے خلاف شمولیت کی جہاں اس کے باپ نے تمام دیوی دیوتاؤں کے سامنے ستی کی بے عزتی کی، جسے ‘ستی” برداشت نہیں کر پائی اور اپنے پران تیاگ دیے۔ اس صدمے سے لارڈ شیو بے حد مجروح ہوئے اور ویرا بھدرا کے ذریعے سے دکھشا کا یگیہ تباہ کیا، پرجا پتی کا سر کاٹا۔
اس کے باوجود غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو، ستی کا بے جان جسم اٹھا کر ہر سو تانڈو (وناشک) ناچ شروع کیا۔ دیوتاؤں نے اس سے ایسا کرنے سے روکا، اور ویشنو دیوتا نے اپنے چکر سے ستی کے جسم کو کاٹ کر 51 حصوں میں تقسیم کیا جو بھارت کی مختلف جگہوں اور مقامات پر گرتے چلے گئے، اور جہاں جہاں یہ اعضا گرے، وہیں "شکتی پیٹھ” استھان وجود میں آگیا کیونکہ یہ قوت کے سرچشمے تھے۔ تب سے ان استھانوں کی ہزاروں برس سے یاترا ہوتی ہے اور عقیدت مند ان مقامات کو مقدم اور مقدس سمجھ کر ان کے درشن کرتے رہتے ہیں۔
امرناتھ گپھا ڈسٹرکٹ اننت ناگ، لدر وادی میں واقع ہے، اور یہ 3888 میٹر یعنی 12756 فٹ کی بلندی پر اسلام آباد سے 168 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ہندوؤں کا تیرتھ استھان اور پِوتر غار گلیشروں کی کوکھ میں ہے۔ چاروں طرف گلیشروں کا حصار ہے اور راستہ بھی دشوار گزار ہے۔ یہ گپھا بہت بڑی ہے، اس میں داخل ہونے کا دروازہ لگ بھگ چالیس گز اور اس کی بلندی 75 فٹ ہے اور یہ گپھا پہاڑ کے اندر نیچے 80 فٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ گپھا حیران کن ہے، جس کی اہمیت شیو لنگھم سے بنتی ہے اور اسی شیو لنگھم کی وجہ سے یہ تیرتھ استھان بھی ہے اور مشہور و معروف بھی ہے۔
یہ شیولنگھم کیا ہے اور اس کے ساتھ کئی کہانیاں بھی جڑی ہیں، لیکن سب سے پہلے یہ بات کہ لنگھم اس غار کی چھت سے جون، جولائی میں ٹپکنے والے پانی کے قطروں سے وہ شکل اختیار کرتا ہے جسے لنگھم کہا جاتا ہے۔ یہ پانی کے قطرے چھت سے فرش پر آتے ہیں، جم جاتے ہیں اور اس طرح آہستہ آہستہ لنگھم کا روپ دھار لیتے ہیں، اور جب مکمل ہوتا ہے تو یہی یاتریوں کے اصل درشن دن ہوتے ہیں۔ اس لنگھم کو شیو کی physical manifestation تصور کیا جاتا ہے جس کے درشن کے لیے لاکھوں عقیدت مند یہاں آ جاتے ہیں۔
پاروتی نے کسی موڈ پر لارڈ شیو سے ابدی زندگی کا راز جاننا چاہا تھا۔ شیو نے عرصے تک یہ بتانے سے گریز کیا لیکن آخر ایک دن یہ راز اس پر منکشف کرنے کا فیصلہ کیا۔ شیو مانتے تھے کہ یہ راز بتانے کے لیے ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں ان دونوں کے سوا کسی اور کے پہنچنے یا یہ راز ایکسپوز ہونے کا کوئی احتمال نہ ہو۔ اس لیے شیو نے اس جگہ کا انتخاب کیا۔ شیو کو یقین تھا کہ اس جگہ گلیشروں کے بیچ میں اتنی اونچائی پر صرف دیوی دیوتا ہی پہنچ سکتے ہیں۔
اس لیے اس جگہ کے لیے سفر شروع ہوا اور دوران سفر وہ اپنے پیچھے اپنی ساری چیزیں مختلف مقامات پر چھوڑتے گئے، جیسے انہوں نے "نندنی” میں اپنا بیل چھوڑا۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ تصویروں میں وہ ہمیشہ بیل پر ہی سوار دکھائی دیتے ہیں۔ چندن واڈی میں شیو نے اپنے بالوں سے چاند کو خارج کیا، اور آگے بڑھے تو شیش ناگ میں اپنے ناگ کو چھوڑ دیا جو تصویروں میں ان کے گلے میں ہمیشہ آویزاں دکھائی دیتا ہے، اور پھر پنج ترنی میں اپنی زندگی کے وہ پانچ عناصر چھوڑ دیے جن سے زندگی کا وجود ہے، جیسے زمین، پانی، آگ، ہوا اور آسمان۔ یہاں تک کہ اپنے بیٹے گنیش کو بھی "مہا گنا” چوٹی پر چھوڑ کر آگے بڑھے۔ اس تیرتھ استھان کے یاتری ان جگہوں سے ہو کر ہی گپھا تک پہنچتے ہیں۔
"امرناتھ” کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ دو لفظوں پر مشتمل ہے، "امر” جس کے معنی eternal یعنی لافانی بنتے ہیں اور "ناتھ” کے معنی lord یا دیوتا ہی ہو سکتے ہیں۔ ہندو عقائد کے مطابق شیو نے اپنی دیوی پاروتی کو یہاں تک اس لیے لایا تھا کہ وہ راز جو وہ منکشف کرنے والے تھے، کوئی تیسری شے اس سے واقف نہ ہو سکے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ شیو نے ان سب چیزوں سے، جو انہوں نے مختلف جگہوں پر چھوڑی تھیں، چھٹکارا پایا تو سب سے پہلے دونوں نے "تانڈو” ناچا تھا، اور اس کے بعد پاروتی کو راز بتانے سے پہلے مزید احتیاط کے طور پر کال اگنی کو پیدا کر کے اس سے آس پاس کی ہر چیز کو بھسم کرنے کا حکم دیا۔ لیکن خود شیو کے تخت کے نیچے کبوتروں کے دو انڈے کسی طرح موجود رہے، جن سے بعد میں کبوتروں کی جوڑی نکلی، جنہوں نے یہ راز جان لیا تھا۔ ہندو عقائد کے مطابق یہ کبوتروں کی جوڑی بھی امر ہو چکی تھی، اور آج تک بہت سارے یاتری یہ دعویٰ وقفے وقفے سے کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے خوش نصیبی سے اس کبوتر جوڑی کو یہاں پرواز کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(خیال رہے کہ میں کسی بات پر کوئی رائے زنی یا تبصرہ نہیں کر رہا ہوں بلکہ وہ لکھ رہا ہوں جو اس غار سے متعلق مختلف قدیم اہل ہنود کی کتابوں میں اور دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا ہے۔)
بہرحال، شیو نے اسی جگہ اپنی دیوی پاروتی کو اس راز سے آگاہ کیا۔ ظاہر ہے کہ یہاں لارڈ شیو اور پاروتی نے قیام کیا ہے اور شیو لنگھم، جو کہ شیو کی نمائندگی کرتا ہے، اگر اس انداز میں نہ بھی بنتا تب بھی یہ جگہ مقدس ہی رہتی اور تب بھی اس جگہ کو پِوتر استھان کا مقام حاصل رہتا۔
آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ اس سفر اور گپھا تک پہنچنے کے دوران جن جن مقامات پر شیو پاروتی نے پڑاؤ کیا ہے وہ سب جانی مانی اور ہندوؤں کے لیے متبرک مقامات ہی تصور کی جاتی ہیں، جن میں پہلگام، چندن واڈی، شیش ناگ، مہا گنا اور پنج ترنی ہیں۔
ایسا کہا جاتا ہے کہ یہ گپھا 5000 برس پہلے سے ہی موجود ہے۔ کلہن اور دوسرے مورخوں نے کشمیر کے اوریجن کو کشپ سے مانا ہے جنہوں نے ایک بہت بڑی جھیل بلکہ چھوٹے سے سمندر کے پانی کی نکاسی ممکن بنا کر وادی کا روپ دیا ہے، لیکن یہ کسی طرح قرین قیاس نہیں کہ وہ جھیل بہت زیادہ بلندی کی حامل رہی ہو۔ ظاہر ہے کہ بہت اونچے پہاڑ اور گلیشر نامعلوم زمانوں سے اسی طرح موجود رہے ہوں گے اور انہیں صرف پانچ ہزار سال تک محدود کرنا عقل میں نہیں سماتا، اور اس طرح ان گلیشروں کے بیچ میں یہ غار پہلے ہی سے موجود رہا ہوگا۔ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ انسانی ہاتھوں کا کوئی کرشمہ نہیں رہا ہوگا۔
ایک سنسکرت کتاب "برنگی شا سمہیتا” میں اس یاترا کی اوریجن سے متعلق یہ درج ہے کہ یہ ایک سادھو تھا جس نے اپنے چیلوں کو اس استھان کی طرف پہلے توجہ مبذول کروائی اور انہیں لنگھم کے درشن کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے چیلے جب اس سفر پر روانہ ہوئے تو یہاں راستوں کے راکشسوں نے انہیں پریشان کیا اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔ یہ چیلے واپس برنگی شا کے پاس فریاد لے کر آئے تو برنگی شا نے شیو کی پرارتھنا کی اور لارڈ شیو نے انہیں ایک تبرک عطا کیا، جسے "چھڑی مبارک” کا نام دیا گیا، اور تب سے ہی یاتریوں کا سب سے بڑا جتھہ منظم طور پر اس چھڑی مبارک کے ساتھ سفر کرتا ہے۔
ایک اور فوک کہانی کے مطابق یہ غار 1850 میں بوٹا ملک، ایک مسلم گڈریا نے دریافت کیا تھا۔ اس کی بھی ایک تحیر آمیز کہانی بتلائی جاتی ہے کہ اس بوٹا ملک کو یہاں پر ایک سادھو ملا تھا جس نے اس سے کوئلے کا ایک تھیلہ تھما دیا اور جب گڈریا گھر پہنچا تو کوئلہ سونے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ گڈریا اس سادھو کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک آپہنچا اور سادھو کے بجائے اس سے یہ گپھا نظر آئی اور اس طرح باہری دنیا کو اس گپھا کے بارے میں معلوم ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ بوٹا ملک کی فیملی ایک عرصے تک اس غار کی انچارج یا منتظم رہی ہے، لیکن 2000 سے شرائن بورڈ نے سارا انتظام سنبھال لیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں