دو روشن خیال وزرائے اعلیٰ کی ملاقات

افضال انصاری
ترقی پسند لیڈروں کی بات ہی کچھ اور ہے ۔وہ جب بھی ملیں گے کام کی باتیں کریں گے ۔ہم تمہاری مدد کریں اورتم ہمارے کام آئوان میں یہی گفتگو ہو گی ۔عوام کا بھلا کرنا اور ان کو معاشی اور سماجی  طور پر آگے لے جاناہی ان کی سیاست کا اصل مقصد ہے  ۔انسانی جذبے کابھی  خیال رہے گا ۔پیارو محبت کی لڑیاں اور بھا ئی چارگی کے رشتے کیسے مظبوط ہو ں وہ ان پر بات چیت کریں  گے ۔ترقی پسندوں کے ملنے سے ماحول بہت خوش گوار ہو جاتا ہے اور امید کی نئی کرن جا گتی ہے ۔
دل میں ایک  لہر سی اُٹھی ہے ابھی
کوئی  تازہ  ہوا  چلی ہے  ابھی
(ناصرؔ کا ظمی)
گذشتہ جمعرات 10 جو لائی کو ریاستی سکریٹیریٹ  نبنامیں مغربی بنگال اور جموں و کشمیر کے وزرائے اعلی ممتا بنرجی اور عمر عبداللہ کی ملاقات ہو ئی تو یہی نظارے تھے ۔بڑاخوش گوار ماحول تھا۔ودیاساگر پُل کے نیچے بہتی ہوئی ہگلی ندی نبنّا کے بالکل کنارے ہے ۔اس کی  تازہ اور ٹھنڈی ہوا  بہت  فرحت بخش رہی تھی ۔عمر عبداللہ جب کمرے  میں داخل ہو ئے  تو ممتابنرجی نے ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا ۔دونوں وزرائے اعلیٰ کے درمیان بہت کام کی با تیں ہو ئیں ۔عمر عبداللہ کے آنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ دیدی سے کہیں کہ بنگا ل کے سیاح کشمیر جانابند نہ کریں ۔ان کی گذارش سن کر ممتا بنرجی نے  حوصلہ بڑھاتے ہو ئے کہا کہ وہ دل چھوٹا نہ کریں۔ ْوہ ان کی ہر طرح سے مدد کریںگی ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ آپ کشمیر آئیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔دیدی نے مسکراتے ہو ئے حامی بھر لی کہ ٹھیک ہے درگا پو جا کے بعد آئوں گی ۔راج دھانی سری نگر میں کشمیر ی دستر خوان پر ہلسہ(Hilsa)  مچھلی،  بھیٹکی  (Bhetki)   کی پاتوڑی اور باگدا چنگڑی کی ملائی کری سجائے جائیں گے ۔کھا نے کے بعد پا پڑ  ، آم کی چٹنی اور رس گلہ ۔ بڑالطف رہے گا ۔
ملاقات کے بعد دونوںوزرائے اعلیٰ نے صحا فیو ں سے بات چیت کی ۔عمر عبداللہ نے  نامہ نگاروں سے کہا کہ سیاحت کے دلدادہ بنگالیوں کیلئے کشمیر ہمیشہ ایک خواب رہا ہے ۔یہاں سے ہر سال بڑی تعداد میں لو گ وہا ںجا تے ہیں۔ْاس بار بھی تعداد کم نہیں تھی لیکن پہلگام کے واقعہ سے وہ سہمے ہو ئے ہیںاور کشمیرجانے میں جھجھک رہے ہیں ۔ممتا بنرجی نے صحا فیوں کو مخا طب کرتے ہو کہا کہ بنگال کے لوگ کشمیر گھو منے جا ئیں ڈرنے کی کو ئی با ت نہیں ہے ۔ان کی سیکو ریٹی کا پورا بندو بست رہے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کے ٹالی ووڈ کے فنکار  وہا ں بنگلہ فلموں کی شوٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔وہ کشمیر کی تعریف کر تے ہو ئے بو لیں کہ وہاں کے ڈرائی فروٹس اور مسا لے بہت اچھے ہو تے ہیں۔
کشمیر کے وزرائے اعلیٰ کو مغربی بنگال کی جمہوری اور سیکولر سیاست ہمیشہ لبھاتی رہی ہے۔ شیخ عبداللہ ہوں یا عمر عبداللہ، جب بھی موقع ملا، کولکاتہ بے جھجھک آئے۔ 1976ء میں ایمرجنسی کے دوران آل انڈیا اردو ایڈیٹرز کا اجلاس کولکاتہ میں ہوا، جس میں شیخ عبداللہ اور ان کی اہلیہ کی شرکت نے اسے خاص اہمیت دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کافی فکر مند ہیں۔ اول تو یہ کہ ان کو حلف لیے  لگ بھگ  10مہینے  ہو گئے مگر  ر یاستی درجہ  اب تک نہیں دیا گیا  ۔دویم  وادی ٔکشمیر میں  ان دنوں سیاحوں کا بھاٹہ پڑگیا ہے  ۔ راستہ گھاٹ اور بازار ہاٹ کی رونق پہلے سے بہت کم ہو گئی ہے ۔ یہی موسم ہے لوگوں کے یہاں آنے کا ۔اکتوبر کے دوسرے ہفتے سے جب برف باری شروع ہو گی توپھر کون آئے گا۔یہ صورت پہلگام کے افسوس ناک  واقعہ کے بعد پیدا ہو ئی  ورنہ سیاحوں کا جو جواڑ تھا وہ  15  برسوں کے بعد دیکھنے کو ملا تھا ۔ہر جگہ بھیڑ امڈی رہتی ۔ہو ٹل ، ریسٹورنٹ اور گاڑیوں کے اڈے میں چہل پہل اور رونق نظر آتی تھی ۔ عوام کی منتخب کی ہو ئی حکو مت  بننے کے بعدجموں و کشمیر کے حالات بہت سدھر گئے  ہیں ۔ایک درد ناک سانحہ ہو گیا وہ اور بات ہے لیکن انتہاپسندی کم ہو گئی ہے جس سے ملک کے ہر گو شے سے کافی بڑی تعداد  میں سیاح آنے لگے ہیں ۔کشمیر ہے ہی اتنا خوبصورت کہ ایک با ر جانے کو سب کا دل چا ہتا ہے ۔یہاں کے لوگوں کی معاشی زندگی سیاحوں سے جڑی ہے۔ کو ئی بڑی صنعت نہ ہو نے کی وجہ سے سیاحت پر ہی بھروسہ ہے ۔سڑکوں میں چہل پہل نظر  آئے اوربازار ہاٹ خریداروں سے بھرے ہو ں تو ہر روزگار چمک اُٹھتا ہے۔ ۔سنسان اور ویران راستے دل کو مرجھا دیتے ہیں  ۔ عمر عبداللہ رُخصت ہو ئے تو  ممتابنرجی نے ان کو دلا سہ دیا کہ وہ افسردہ  نہ ہو ں ۔ بنگال کے لوگ وہاں جانا بند نہیںکریں گے اور درگا پوجا کے بعد میں خود بھی وہاں جائوں گی ۔اس سے بڑھ کر اور کیا با ت ہو سکتی ہے ۔عام لوگ خوشی خوشی جائیں گے ۔
کشمیر کے ہر وزیر اعلیٰ مغربی بنگال کو بہت پسند کرتے ہیںْ ۔یہاں کی جمہوری اور سیکولر سیاست ان کے دل کو بہت لبھاتی ہیں ۔ملک میں یہی تو ایک صوبہ ہے جہاں وہ کھل کر با ت کر سکتے ہیں ۔ عمر عبداللہ  ہوں یا ان کے مرحوم دادا شیخ عبداللہ  انہیں جب بھی کو لکاتہ آنے کا  موقع  ملاوہ بے جھجھک چلے آئے ۔ آل انڈیا اُردو اڈیٹرس کا تیسرااجلاس  ایمر جنسی کے دوران  1976ء میں کو لکا تہ میں ہواتھا ۔کانگریس کی حکومت تھی  اورسدھارت شنکر رائے اس کے وزیر اعلیٰ تھے ۔ان کی وجہ سے کو لکا تہ میں وہ بے چینی نہیںتھی جودوسرے شہروں میںتھی ۔  کانفرنس کیلئے ایک استقبالیہ کمیٹی بنی تھی جس کے صدر روز نامہ آزاد ہند کے مدیر احمد سعید ملیح آبادی کو نا مزد کیا گیا تھا ۔ روزانہ ہند کے مدیر ریئس الدین فریدی کوسکریٹری  اور تحریک ملت کے اڈیٹر عبدالعزیزمعاون سکریٹری بنا ئے گئے تھے ۔اُردو صحا فیوں  کے اس کانفرنس میں شرکت کیلئے جموں و کشمیر کے سابق  وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ بھی اپنی  اہلیہ بیگم اکبر جہاں عبداللہ کے سا تھ کولکاتہ آئے تھے ۔ ان کی آنے سے کانفرنس کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی ۔ اردو کے ادیبوں اور شاعروں کی محفل میں کچھ روز تک اسی کا چرچا  ہو تارہا ۔
جموں و کشمیر میں انتہا پسندی  پہلے سے کم ہوئی ہے ۔اس کا کو ئی فا یدہ نہیں ہے ۔یہ زندگی لیتی ہے اور  معاشی بد حالی  پیدا کر  تی ہے۔  پہلگام میں جو ہوا بہت برا ہوا ۔اس نے عام لو گوں کی پریشانیوں کوبڑھا دیا  ہے ۔پہلی بار یہ دیکھا گیا کہ اس سانحہ کے بعد وادی ٔ کشمیر کے  امن  اور جمہوریت پسند عوام  نے اس دہشت گرادانہ حملے کے خلا ف سڑکوں پر شدید احتجاج کیا اور دہشت گردی کے خلاف نعرے لگائے کشمیری  عوام کے ایک حصے کو سر حد کے اس پار کا خیال چھوڑکرقومی دھارے میںشامل ہوناپڑے گا۔
 جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہ ہو نے  سے وزیر علی  عمر عبداللہ بہت  بجھے سے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں کھل کر کام کر نے کا مو قع نہیں مل رہا ہے ۔ ایک منتخب نمایندے کا جو احترام ہو نا چا ہئے وہ انہیں حا صل نہیں ہے ۔ پچھلے اتوار 13   جولائی کو انہیں نظر بند کر دیا گیا  تاکہ وہ 1931  کے شہیدوں کے مزار کی زیارت نہ کرسکیں مگر  ان کا ارادہ قایم رہا ۔ و ہ  دیوار پھلانگ کر  گئے ۔ یہ برتائو غلط ہے ۔    جموں و کشمیر اب بھی مر کزی خطہ ہے حالانکہ دسمبر 2023   میں سپری کو رٹ  نے ہدایت دی تھی کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہو نا چا ہئے مگر اس ہدایت پر اب تک عمل نہیں ہوا۔
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

دو روشن خیال وزرائے اعلیٰ کی ملاقات

افضال انصاری
ترقی پسند لیڈروں کی بات ہی کچھ اور ہے ۔وہ جب بھی ملیں گے کام کی باتیں کریں گے ۔ہم تمہاری مدد کریں اورتم ہمارے کام آئوان میں یہی گفتگو ہو گی ۔عوام کا بھلا کرنا اور ان کو معاشی اور سماجی  طور پر آگے لے جاناہی ان کی سیاست کا اصل مقصد ہے  ۔انسانی جذبے کابھی  خیال رہے گا ۔پیارو محبت کی لڑیاں اور بھا ئی چارگی کے رشتے کیسے مظبوط ہو ں وہ ان پر بات چیت کریں  گے ۔ترقی پسندوں کے ملنے سے ماحول بہت خوش گوار ہو جاتا ہے اور امید کی نئی کرن جا گتی ہے ۔
دل میں ایک  لہر سی اُٹھی ہے ابھی
کوئی  تازہ  ہوا  چلی ہے  ابھی
(ناصرؔ کا ظمی)
گذشتہ جمعرات 10 جو لائی کو ریاستی سکریٹیریٹ  نبنامیں مغربی بنگال اور جموں و کشمیر کے وزرائے اعلی ممتا بنرجی اور عمر عبداللہ کی ملاقات ہو ئی تو یہی نظارے تھے ۔بڑاخوش گوار ماحول تھا۔ودیاساگر پُل کے نیچے بہتی ہوئی ہگلی ندی نبنّا کے بالکل کنارے ہے ۔اس کی  تازہ اور ٹھنڈی ہوا  بہت  فرحت بخش رہی تھی ۔عمر عبداللہ جب کمرے  میں داخل ہو ئے  تو ممتابنرجی نے ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا ۔دونوں وزرائے اعلیٰ کے درمیان بہت کام کی با تیں ہو ئیں ۔عمر عبداللہ کے آنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ دیدی سے کہیں کہ بنگا ل کے سیاح کشمیر جانابند نہ کریں ۔ان کی گذارش سن کر ممتا بنرجی نے  حوصلہ بڑھاتے ہو ئے کہا کہ وہ دل چھوٹا نہ کریں۔ ْوہ ان کی ہر طرح سے مدد کریںگی ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ آپ کشمیر آئیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔دیدی نے مسکراتے ہو ئے حامی بھر لی کہ ٹھیک ہے درگا پو جا کے بعد آئوں گی ۔راج دھانی سری نگر میں کشمیر ی دستر خوان پر ہلسہ(Hilsa)  مچھلی،  بھیٹکی  (Bhetki)   کی پاتوڑی اور باگدا چنگڑی کی ملائی کری سجائے جائیں گے ۔کھا نے کے بعد پا پڑ  ، آم کی چٹنی اور رس گلہ ۔ بڑالطف رہے گا ۔
ملاقات کے بعد دونوںوزرائے اعلیٰ نے صحا فیو ں سے بات چیت کی ۔عمر عبداللہ نے  نامہ نگاروں سے کہا کہ سیاحت کے دلدادہ بنگالیوں کیلئے کشمیر ہمیشہ ایک خواب رہا ہے ۔یہاں سے ہر سال بڑی تعداد میں لو گ وہا ںجا تے ہیں۔ْاس بار بھی تعداد کم نہیں تھی لیکن پہلگام کے واقعہ سے وہ سہمے ہو ئے ہیںاور کشمیرجانے میں جھجھک رہے ہیں ۔ممتا بنرجی نے صحا فیوں کو مخا طب کرتے ہو کہا کہ بنگال کے لوگ کشمیر گھو منے جا ئیں ڈرنے کی کو ئی با ت نہیں ہے ۔ان کی سیکو ریٹی کا پورا بندو بست رہے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کے ٹالی ووڈ کے فنکار  وہا ں بنگلہ فلموں کی شوٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔وہ کشمیر کی تعریف کر تے ہو ئے بو لیں کہ وہاں کے ڈرائی فروٹس اور مسا لے بہت اچھے ہو تے ہیں۔
کشمیر کے وزرائے اعلیٰ کو مغربی بنگال کی جمہوری اور سیکولر سیاست ہمیشہ لبھاتی رہی ہے۔ شیخ عبداللہ ہوں یا عمر عبداللہ، جب بھی موقع ملا، کولکاتہ بے جھجھک آئے۔ 1976ء میں ایمرجنسی کے دوران آل انڈیا اردو ایڈیٹرز کا اجلاس کولکاتہ میں ہوا، جس میں شیخ عبداللہ اور ان کی اہلیہ کی شرکت نے اسے خاص اہمیت دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کافی فکر مند ہیں۔ اول تو یہ کہ ان کو حلف لیے  لگ بھگ  10مہینے  ہو گئے مگر  ر یاستی درجہ  اب تک نہیں دیا گیا  ۔دویم  وادی ٔکشمیر میں  ان دنوں سیاحوں کا بھاٹہ پڑگیا ہے  ۔ راستہ گھاٹ اور بازار ہاٹ کی رونق پہلے سے بہت کم ہو گئی ہے ۔ یہی موسم ہے لوگوں کے یہاں آنے کا ۔اکتوبر کے دوسرے ہفتے سے جب برف باری شروع ہو گی توپھر کون آئے گا۔یہ صورت پہلگام کے افسوس ناک  واقعہ کے بعد پیدا ہو ئی  ورنہ سیاحوں کا جو جواڑ تھا وہ  15  برسوں کے بعد دیکھنے کو ملا تھا ۔ہر جگہ بھیڑ امڈی رہتی ۔ہو ٹل ، ریسٹورنٹ اور گاڑیوں کے اڈے میں چہل پہل اور رونق نظر آتی تھی ۔ عوام کی منتخب کی ہو ئی حکو مت  بننے کے بعدجموں و کشمیر کے حالات بہت سدھر گئے  ہیں ۔ایک درد ناک سانحہ ہو گیا وہ اور بات ہے لیکن انتہاپسندی کم ہو گئی ہے جس سے ملک کے ہر گو شے سے کافی بڑی تعداد  میں سیاح آنے لگے ہیں ۔کشمیر ہے ہی اتنا خوبصورت کہ ایک با ر جانے کو سب کا دل چا ہتا ہے ۔یہاں کے لوگوں کی معاشی زندگی سیاحوں سے جڑی ہے۔ کو ئی بڑی صنعت نہ ہو نے کی وجہ سے سیاحت پر ہی بھروسہ ہے ۔سڑکوں میں چہل پہل نظر  آئے اوربازار ہاٹ خریداروں سے بھرے ہو ں تو ہر روزگار چمک اُٹھتا ہے۔ ۔سنسان اور ویران راستے دل کو مرجھا دیتے ہیں  ۔ عمر عبداللہ رُخصت ہو ئے تو  ممتابنرجی نے ان کو دلا سہ دیا کہ وہ افسردہ  نہ ہو ں ۔ بنگال کے لوگ وہاں جانا بند نہیںکریں گے اور درگا پوجا کے بعد میں خود بھی وہاں جائوں گی ۔اس سے بڑھ کر اور کیا با ت ہو سکتی ہے ۔عام لوگ خوشی خوشی جائیں گے ۔
کشمیر کے ہر وزیر اعلیٰ مغربی بنگال کو بہت پسند کرتے ہیںْ ۔یہاں کی جمہوری اور سیکولر سیاست ان کے دل کو بہت لبھاتی ہیں ۔ملک میں یہی تو ایک صوبہ ہے جہاں وہ کھل کر با ت کر سکتے ہیں ۔ عمر عبداللہ  ہوں یا ان کے مرحوم دادا شیخ عبداللہ  انہیں جب بھی کو لکاتہ آنے کا  موقع  ملاوہ بے جھجھک چلے آئے ۔ آل انڈیا اُردو اڈیٹرس کا تیسرااجلاس  ایمر جنسی کے دوران  1976ء میں کو لکا تہ میں ہواتھا ۔کانگریس کی حکومت تھی  اورسدھارت شنکر رائے اس کے وزیر اعلیٰ تھے ۔ان کی وجہ سے کو لکا تہ میں وہ بے چینی نہیںتھی جودوسرے شہروں میںتھی ۔  کانفرنس کیلئے ایک استقبالیہ کمیٹی بنی تھی جس کے صدر روز نامہ آزاد ہند کے مدیر احمد سعید ملیح آبادی کو نا مزد کیا گیا تھا ۔ روزانہ ہند کے مدیر ریئس الدین فریدی کوسکریٹری  اور تحریک ملت کے اڈیٹر عبدالعزیزمعاون سکریٹری بنا ئے گئے تھے ۔اُردو صحا فیوں  کے اس کانفرنس میں شرکت کیلئے جموں و کشمیر کے سابق  وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ بھی اپنی  اہلیہ بیگم اکبر جہاں عبداللہ کے سا تھ کولکاتہ آئے تھے ۔ ان کی آنے سے کانفرنس کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی ۔ اردو کے ادیبوں اور شاعروں کی محفل میں کچھ روز تک اسی کا چرچا  ہو تارہا ۔
جموں و کشمیر میں انتہا پسندی  پہلے سے کم ہوئی ہے ۔اس کا کو ئی فا یدہ نہیں ہے ۔یہ زندگی لیتی ہے اور  معاشی بد حالی  پیدا کر  تی ہے۔  پہلگام میں جو ہوا بہت برا ہوا ۔اس نے عام لو گوں کی پریشانیوں کوبڑھا دیا  ہے ۔پہلی بار یہ دیکھا گیا کہ اس سانحہ کے بعد وادی ٔ کشمیر کے  امن  اور جمہوریت پسند عوام  نے اس دہشت گرادانہ حملے کے خلا ف سڑکوں پر شدید احتجاج کیا اور دہشت گردی کے خلاف نعرے لگائے کشمیری  عوام کے ایک حصے کو سر حد کے اس پار کا خیال چھوڑکرقومی دھارے میںشامل ہوناپڑے گا۔
 جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہ ہو نے  سے وزیر علی  عمر عبداللہ بہت  بجھے سے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں کھل کر کام کر نے کا مو قع نہیں مل رہا ہے ۔ ایک منتخب نمایندے کا جو احترام ہو نا چا ہئے وہ انہیں حا صل نہیں ہے ۔ پچھلے اتوار 13   جولائی کو انہیں نظر بند کر دیا گیا  تاکہ وہ 1931  کے شہیدوں کے مزار کی زیارت نہ کرسکیں مگر  ان کا ارادہ قایم رہا ۔ و ہ  دیوار پھلانگ کر  گئے ۔ یہ برتائو غلط ہے ۔    جموں و کشمیر اب بھی مر کزی خطہ ہے حالانکہ دسمبر 2023   میں سپری کو رٹ  نے ہدایت دی تھی کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہو نا چا ہئے مگر اس ہدایت پر اب تک عمل نہیں ہوا۔
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں