
عنایت اللہ ننھے
قومیں اپنے ہیروز کو یاد رکھ کر اپنا راستہ روشن کرتی ہیں۔ وہ شخصیات جو تاریخ کے کٹھن لمحوں میں اپنی جانیں قربان کرتی ہیں، وہ صرف ماضی کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ مستقبل کی رہنمائی کے مینار بن جاتی ہیں۔ بریگیڈیئر محمد عثمان بھی ایسی ہی ایک درخشاں مثال ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی فوجی صلاحیتوں سے دشمن کے دانت کھٹے کیے، بلکہ اپنی حب الوطنی سے ہندوستان کے جمہوری کردار کو سرخرو کیا۔
15 جولائی 1912 کو اعظم گڑھ کے ایک علمی و دیندار خانوادے میں پیدا ہونے والے محمد عثمان بچپن ہی سے غیر معمولی جرأت اور دیانت کے مالک تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اور برطانوی فوج میں کسی ہندوستانی کا اعلیٰ رینک حاصل کرنا ایک خواب سے کم نہ تھا۔ مگر عثمان نے نہ صرف سینڈہرسٹ کی ملٹری اکیڈمی سے تربیت حاصل کی، بلکہ اپنی غیر معمولی لیاقت اور زبان و بیان پر دسترس کی بنیاد پر برطانوی فوج میں کیپٹن اور پھر میجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
قیامِ پاکستان کے وقت جب قوموں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر سرحدیں کھینچی جا رہی تھیں، بریگیڈیئر عثمان پر بھی مذہبی اور جذباتی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ پاکستان کی فوج میں شمولیت اختیار کریں۔ ذاتی خطوط، تحفے، عزت افزائی، اور آرمی چیف کے عہدے کی پیش کش — وہ تمام حربے آزمائے گئے جو کسی عام انسان کے لیے کشش رکھ سکتے تھے۔ مگر عثمان کی جڑیں اصولوں میں پیوست تھیں۔ ان کا جواب مختصر مگر فیصلہ کن تھا: "میں سب سے پہلے ہندوستانی ہوں، مذہب اس کے بعد آتا ہے۔”
یہ الفاظ صرف ایک جواب نہیں، بلکہ برصغیر کے تمام مسلمانوں کے لیے ایک نظریاتی رہنمائی ہیں۔ انہوں نے دکھایا کہ مسلمان ہونے کا مطلب صرف عبادت نہیں، بلکہ کردار، قربانی اور حب الوطنی کا اعلیٰ معیار بھی ہے۔
کشمیر کے محاذ پر 1947-48 کی جنگ میں بریگیڈیئر عثمان نے جو کارنامہ انجام دیا، وہ کسی بھی فوجی تاریخ میں سنہری باب کے طور پر محفوظ ہے۔ نوشہرہ کی لڑائی میں اُن کی قیادت نے دشمن کے قدم اکھاڑ دیے اور وہ علاقے جو پاکستان کے قبضے میں جا سکتے تھے، واپس ہندوستان کے دائرے میں آ گئے۔ اُن کی حکمتِ عملی، حوصلہ، اور سپاہیوں میں جوش بھرنے کا فن اُنہیں "نوشہرہ کا شیر” بنا گیا۔
ان کا وہ حلف، کہ جب تک جھنگڑ فتح نہ ہو، وہ چارپائی پر نہیں سوئیں گے، ایک فوجی کی نہ صرف لگن کا اظہار ہے بلکہ اس قوم پر جان نچھاور کرنے والے جذبے کی بھی عکاسی ہے۔ اُن کی شہادت 3 جولائی 1948 کو ہوئی، جب وہ صرف 36 برس کے تھے۔ نوجوانی میں ملی یہ شہادت آنے والی نسلوں کے لیے محبتِ وطن کی اعلیٰ مثال ہے۔
ان کی تدفین جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں کی گئی — ایک ایسی یونیورسٹی جس کی بنیاد بھی آزادی اور اصلاح کی سوچ پر رکھی گئی تھی۔ ان کی قربانی کو خراج پیش کرنے کے لیے نہ صرف وزیر اعظم جواہر لال نہرو، بلکہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن جیسے برطانوی رہنما بھی ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ یہ معمولی بات نہیں تھی؛ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ایک ہندوستانی مسلمان سپاہی نے وہ مقام حاصل کیا جسے تاریخ صدیوں تک یاد رکھے گی۔
آج کی تاریخ میں، جب مسلمان نوجوانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جب ملک میں مذہب کی بنیاد پر تفریق پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، بریگیڈیئر محمد عثمان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مسلمان بھی اتنا ہی محب وطن، اتنا ہی قربانی دینے والا، اور اتنا ہی ہندوستانی ہو سکتا ہے جتنا کوئی اور۔
ان کی کہانی صرف ایک افسر کی داستان نہیں، بلکہ ایک نظریے کی نمائندگی ہے — وہ نظریہ جو ہندوستان کو صرف ایک جغرافیائی حدود کا نام نہیں بلکہ ایک ہم آہنگ، کثرت میں وحدت رکھنے والا ملک بناتا ہے۔ ان کے ذریعے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ حب الوطنی کسی خاص مذہب کی جاگیر نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی فرض ہے، جو ہر شہری کا ادنیٰ نہیں، اعلیٰ ترین فریضہ ہے۔
آج، جب ہم بریگیڈیئر محمد عثمان کی 113 ویں سالگرہ پر انہیں یاد کر رہے ہیں، تو ہمیں محض اُن کی تاریخ نہیں پڑھنی، بلکہ اُن کے نظریے کو اپنانا ہے۔ ہمیں اُن کے کردار کو اپنے لیے معیار بنانا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی جان سکیں کہ اس ملک کی بنیاد میں صرف ہندو یا مسلمان نہیں، بلکہ بے شمار قربانی دینے والے انسانوں کا لہو شامل ہے — اور اُن میں ایک تابناک نام بریگیڈیئر محمد عثمان کا بھی ہے۔
بریگیڈیئر محمد عثمان: جن پر پورے ہندوستان کو فخر ہے
15 جولائی، سالگرہ پر خصوصی
مضمون نگار: عنایت اللہ ننھے
ہندوستان میں ایک ایسے فوجی افسر تھے جنہوں نے غلام ہندوستان میں، برطانوی دورِ حکومت میں، برطانوی افواج میں خدمات انجام دیں، اور پھر آزادی کے بعد بھی ملک کی خدمت کی۔ پورے ہندوستان کو ان کی فوجی صلاحیت پر فخر ہے۔ آج، 15 جولائی، ان کی 113 ویں سالگرہ ہے۔ وہ 1912 میں اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے بی بی پور گاؤں میں والدہ جمیرون نیشا اور والد خان بہادر محمد فاروق کے یہاں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن سے ہی بہت زیادہ بہادر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ صرف 12 سال کے تھے تو انہوں نے کنویں میں گرے ایک بچے کو کنویں میں چھلانگ لگا کر بچایا۔
بریگیڈیئر محمد عثمان نے اپنی ابتدائی تعلیم بنارس میں حاصل کی، جب کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ انگلستان گئے، جہاں انہوں نے سینڈہرسٹ کی رائل ملٹری اکیڈمی میں فوجی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ہندوستان واپس آ کر انہوں نے برطانوی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ ان دنوں ہندوستانیوں کے لیے برطانوی فوج میں اعلیٰ عہدہ حاصل کرنا آسان نہیں تھا، لیکن اردو زبان پر ان کی مضبوطی اور بے پناہ مہارت کی وجہ سے انہیں برطانوی فوج میں افسر کا عہدہ ملا، جو ان کی قابلیت کا بہت بڑا اعتراف تھا۔ بلوچ رجمنٹ کی کمان کے ساتھ ساتھ انہوں نے کئی اہم ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ وہ برطانوی فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ، کیپٹن اور پھر میجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ کسی ہندوستانی کے لیے غیروں کی فوج میں اتنی بڑی جگہ بنانا آسان نہیں تھا، یہ ایک ہندوستانی کے لیے بڑی بات ہے۔
یہ وہی بریگیڈیئر محمد عثمان تھے جنہیں مسلمان ہونے کی بنیاد پر ملک کی آزادی کے بعد، پاکستان میں شامل ہونے کے لیے جذباتی بیانات دے کر گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ یہی نہیں، بانی پاکستان محمد علی جناح اور پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے انہیں ذاتی خطوط لکھ کر پاکستان میں شامل ہونے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ ساتھ، مسلم کارڈ کھیل کر، انہیں پاکستان میں شامل ہونے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا گیا۔ جب یہ کام نہ ہوا تو انہیں آرمی چیف بننے کی پیش کش بھی کی گئی۔ لیکن بریگیڈیئر محمد عثمان نے ان کی پیش کش کو دو ٹوک الفاظ میں ٹھکرا دیا اور جواب دیا کہ اگرچہ وہ مذہب کے اعتبار سے مسلمان ہیں، لیکن وہ سب سے پہلے ہندوستانی ہیں۔ ہندوستان پہلے آتا ہے، پھر مذہب۔ انہوں نے کہا کہ "میں اپنی مادرِ ہند کو سلام کرتا ہوں۔”
غور طلب ہے کہ ملک کی تقسیم کے بعد سے پاکستان کسی بھی قیمت پر کشمیر پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، اور اسی وقت سے اس کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔ پاکستان نے تقسیم کے دو ماہ بعد ہی کشمیر میں دراندازی شروع کر دی، اور آہستہ آہستہ اپنی فوج کو آگے بڑھا رہا تھا۔ یہ وہی بریگیڈیئر محمد عثمان تھے جنہوں نے کشمیر کو پاکستان سے چھین کر بھارت کے ساتھ ملایا تھا۔ 1947-48 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستانیوں کو کشمیر سے بھگانے والے شیر، بریگیڈیئر محمد عثمان نے 1948 میں نوشہرہ کی جنگ میں پاکستانی فوج کو پسپائی پر مجبور کر دیا تھا، اس وقت سے انہیں "نوشہرہ کا شیر” کہا جانے لگا۔
نوشہرہ پر بھارت کے قبضے کے بعد، پاکستان اتنا خوف زدہ ہوا کہ اس نے مشتعل ہو کر ان کے سر کی قیمت 50 ہزار روپے مقرر کر دی۔ یاد رہے کہ 78 سال پہلے، یعنی 1947 میں، یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس سے قبل، ہندوستانی فوج میں ایک دوسرے کو عزت و احترام دینے کے لیے "رام رام”، "السلام علیکم” یا "ست شری اکال” جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے تھے۔ فوج میں مذہبی جذبات کو ختم کرنے اور حب الوطنی کو فروغ دینے کے لیے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے انتہائی قریبی ساتھی، عابد حسن صفرانی، جنہوں نے انڈین فارن سروس (IFS) سے انڈین نیشنل آرمی (INA) میں خدمات انجام دیں، نے "جے ہند” کا نعرہ متعارف کروایا۔ اس کا آغاز نیتا جی سبھاش چندر بوس نے تحریکِ آزادی کے دوران کیا تھا، لیکن ملک کی آزادی کے بعد فوج میں "جے ہند” کہنے کا سرکاری رواج بریگیڈیئر محمد عثمان نے شروع کیا۔
پاکستان سے کشمیر چھینتے ہوئے انہوں نے نوشہرہ جیت لیا تھا، لیکن کشمیر کا جھنگڑ ایک ایسا علاقہ تھا جہاں سے دوبارہ پاکستانیوں کی دراندازی کا بہت زیادہ امکان تھا۔ اس کے لیے بریگیڈیئر محمد عثمان نے حلف اٹھایا تھا کہ وہ اس وقت تک چارپائی پر نہیں سوئیں گے جب تک وہ اس جنگ کو جیت نہ لیں۔ جب انہوں نے جھنگڑ جیت لیا تو ان کے ساتھی سپاہیوں نے خوشی میں ایک چارپائی لائی، اور وہ اس پر آرام فرما ہوئے۔
بریگیڈیئر محمد عثمان، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی، نئی دہلی کے بانی رکن محمد مختار انصاری اور ہندوستان کے سابق نائب صدر حامد انصاری کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔ جبکہ مرحوم مختار انصاری، جو اتر پردیش کے مؤ سے پانچ بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں، اور ان کے بھائی افضل انصاری، جو اس وقت غازی پور سے ایم پی ہیں، بریگیڈیئر محمد عثمان کو اپنا نانا کہتے رہے ہیں، اور ان کی یومِ پیدائش اور یومِ وفات کے پروگراموں میں وہ "بریگیڈیئر عثمان انصاری” لکھتے ہیں۔ جبکہ بریگیڈیئر محمد عثمان کا تعلق بنکر برادری یعنی انصاری برادری سے نہیں تھا، بلکہ وہ ملکی مسلمان تھے، جو ایک مدت میں جاٹ سے مسلمان ہو چکے تھے۔ یاد رہے کہ جاٹ سے مسلمان ہونے والے ملکی مسلمانوں سے مغل دور میں زمین پر محصول یا ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔
اس وقت بریگیڈیئر محمد عثمان کی حقیقی اولاد کینیڈا میں آباد ہے۔ وہ 3 جولائی 1948 کو جموں و کشمیر کے جھنگڑ میں پاکستانی فوجیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ آپ نے 36 سال کی عمر میں شہادت پائی۔ ان کی آخری رسومات یعنی تدفین جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے قبرستان میں کی گئی۔ 50ویں پیرا شوٹ بریگیڈ رجمنٹ، آرمی نمبر AI 219 کے بریگیڈیئر محمد عثمان کو 26 جنوری 1950 کو بعد از مرگ ملک کے دوسرے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز "مہاویر چکر (MVC)” سے نوازا گیا۔
بریگیڈیئر محمد عثمان کو بھول کر آج کی نوجوان نسل، رہنما، انتظامیہ اور حکومت بہت کچھ کھو رہی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے محبِ وطن بریگیڈیئر محمد عثمان میں کچھ خاص بات تھی، یہی وجہ ہے کہ ملک کے پہلے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لال نہرو خود ان کی میت (جنازہ) لینے آئے تھے۔ یہی نہیں، اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن نے بھی آخری رسومات میں شرکت کی۔
ہم تمام ہندوستانی، بریگیڈیئر محمد عثمان کی قربانی، شہادت اور حب الوطنی کو کبھی نہیں بھول سکتے ہیں۔ آخر میں، مجھے یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ موجودہ ماحول میں امتِ مسلمہ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جو کہ درست نہیں ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اگر ایک یا دو مسلمان کوئی غلط کام کریں تو انہیں سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ ایسے افراد مستثنیٰ ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے پوری مسلم کمیونٹی کو ٹرول کرنا غلط ہے۔
جس طرح ایک مسلمان فوجی افسر، بریگیڈیئر محمد عثمان نے پاکستان کی اتنی بڑی پیش کش کو ٹھکرا دیا، حب الوطنی کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہو سکتی ہے — جس پر تمام ہندوستانیوں کو فخر ہے۔ ہندوستان کی آزادی سے لے کر اب تک، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہندوستان میں رہ کر وطن پرستی کا ثبوت دیا ہے اور مذہب سے بالاتر ہو کر ملک کی خدمت کی ہے۔
اس لیے، آج ہم تمام ہندوستانیوں کو چاہیے کہ ذات، پات، مذہب اور مسلک سے بالاتر ہو کر شہید بریگیڈیئر محمد عثمان کو خراجِ عقیدت پیش کریں اور عہد کریں کہ قوم کو آگے لے جانے کے لیے ہم سب متحد ہوں گے اور مذہبی نفرت سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
ززز


