جنگ نیوز ڈیسک
بانڈی پورہ، 10 جولائی: شمالی کشمیر کی ولر جھیل میں تقریباً 30 سال بعد کنول کے پھولوں کی واپسی نے ان لوگوں میں نئی امید پیدا کی ہے جو کبھی اس جھیل سے اپنے روزگار کا ذریعہ حاصل کرتے تھے۔
1992 کے سیلاب کے بعد جھیل کی تہہ میں مٹی بھر نے سے کنول کے پھول غائب ہو گئے تھے۔ اب ان کی واپسی کو ولر جھیل مینجمنٹ اتھارٹی کی جاری صفائی اور بحالی مہم سے جوڑا جا رہا ہے، جو 2020 سے جاری ہے۔
مقامی کسان محمد یعقوب نے کہا، "ہم نے سوچا تھا کہ یہ پھول کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ میرے والد یہاں نادرُو نکالا کرتے تھے اور میں ان کی مدد کرتا تھا۔ سیلاب نے سب کچھ بدل دیا۔”
سرکاری اہلکار نے بتایا کہ اگرچہ پودے کئی دہائیوں سے نظر نہیں آئے، لیکن ان کی جڑیں مٹی میں زندہ تھیں۔ "ہم نے مخصوص علاقوں سے مٹی ہٹائی تو کنول کے پتے اور پھول دوبارہ نکلنے لگے۔”
اب تک 79 لاکھ مکعب میٹر مٹی جھیل سے نکالی جا چکی ہے۔ آئندہ مہینوں میں اتھارٹی بڑے نالوں پر ریٹینشن بیسن بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مزید مٹی جھیل میں داخل نہ ہو۔
اتھارٹی نے بتایا کہ نادرُو کی کاشت اب حقیقت بن چکی ہے، اور اگلے مرحلے میں یہ طے کیا جائے گا کہ harvesting کے لیے اجازت نامے جاری کیے جائیں یا سب کو کھلی اجازت دی جائے۔
مقامی رہائشی ظہور احمد نے بتایا کہ لوگ خود سے بیج ڈال کر پودے اگانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن کامیابی اب جا کر ممکن ہوئی ہے۔
کنول کی واپسی نہ صرف ماحولیاتی بہتری کی علامت ہے بلکہ جھیل کے آس پاس کے خاندانوں کے لیے معاشی بحالی کی امید بھی بن چکی ہے۔


