ریاض فردوسی
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ اسلامی ریاست کا نظم و نسق چلانے کے لیے خلیفہ کا انتخاب کیسے کیا جائے۔اس سے متعلق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو کوئی تفصیلی ہدایات فراہم نہیں کی تھیں سوایے چند اصول کے۔
صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس معاملے میں پہلا تجربہ کرنے جا رہے تھے۔اس لیے صحابہ اکرام نے خلیفہ رسول کے انتخاب کے سے متعلق اپنی مختلف آراء و خیالات پیش کیں۔انصار کے سردار جو مدینہ سے کچھ فاصلے پر واقع ایک جگہ سقیفہ بنی ساعدہ کے پاس جمع ہوئے تھے انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ رسول اللہ ﷺ کا جانشین صرف انصار میں سے منتخب کیا جائے یا زیادہ سی زیادہ یہ کیا جایے کہ ایک امیر انصار میں سے ہو اور دوسرا امیر مہاجرین میں سے،بلکہ سیدنا سعد ابن عبادہ رضی اللہ عنہ کو تقریبا آپ ﷺ کا خلیفہ چن ہی لیا گیاتھا۔اس نازک موڑ پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انصار کے سامنے خطبہ دیا اور رسول اللہ ﷺ کا ایک فرمان نقل کیا کہ امیر قریش سے ہونا چاہیے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگ خلافت یا حکومت کے معاملہ میں قریش کے تابع ہیں،مسلمان قریشی مسلمانوں کے اور کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔(صحیح مسلم)۔
قبیلہ قریش عرب کی مسلم اور کافر دونوں آبادیوں میں بہت مقبول تھا اور اس قبیلے کے ایک امیر کا ریاست پر حکومت کرنا ان کے لیے قابل قبول تھا۔مدینہ سے باہر رہنے والے عرب قبائل قریش کے علاوہ کسی کی حکومت اور اختیار کو قبول نہیں کریں گے۔
یہاں تک کہ مدینہ میں اوس اور خزرج کے قبائل ایک دوسرے کی قیادت قبول نہیں کریں گے۔جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث سنی تو فوراً رسول اللہ ﷺ کے قول کے آگے خلافت کے منصب کے لیے اپنے تجویز کو مسترد کر دیا اور یہ نزاع ختم ہوگیا۔
اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے عہدے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام تجویز کی لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔اس کے بعد مہاجرین اور انصار دونوں نے ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔صرف حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی اور شام کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے اور وہیں رہنے لگے۔دوسرے روز مسجد نبوی میں عام مسلمانوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اس کے بعد ہر صوبے میں وہاں کے گورنر نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔رسول اللہ ﷺ کے مقدس صحابہ میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کرنے میں تاخیر کی۔ابن سعد کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی وفات کے چھ ماہ بعد بیعت کی۔تاخیر کی دو اہم وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مولی علی کرم اللہ وجہ کا یہ کہنا تھا کہ خلافت کے اہم فیصلے میں خاندان رسالت مآبﷺ کو شامل نہیں کیا گیا،دوسری وجہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما حضور ﷺ کے ترکہ میں سے اپنا حصہ طلب کیا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ حضور ﷺ کی کوئی ذاتی جائیداد نہیں تھی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا رنج تھا۔ان کی دل دہی کی خاطر ان کی زندگی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی اور ان کے انتقال کے بعد اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سارے حالات سے آگاہ کرنے کے بعد بیعت کر لی۔
خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے انتخاب سے کچھ باتیں واضح ہوتی ہیں اور وہ یہ کہ قبائلی معاشرہ میں خلیفہ کا انتخاب ایسے قبیلہ سے کیا جائے جو تمام قبائل میں مقبول ہو اور جس کو لوگوں کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو(مثلاً قبیلہ قریش)۔
اسی طرح کسی ملک کے سیاسی نظام میں جہاں انتخاب پارٹی سسٹم پر مشتمل ہو وہاں پارٹی کے سربراہ کا انتخاب اس پارٹی سے ہونا چاہئے،جو انتخاب میں زیادہ عوامی حمایت حاصل کرکے جیت حاصل کی ہو۔
دویم خلیفہ کا انتخاب معاشرہ کے نمائندوں کے ذریعے کیا جائے جسے ہم ارباب حل و عقد کہتے ہیں اور پھر منتخب خلیفہ کو معاشرہ کے عام لوگوں کی آزادانہ مرضی حمایت اور منظوری حاصل ہو۔ارباب حل و عقد یا عوام کے نمائندے ایسے اشخاص ہونے چاہیے،جن کی عام لوگ عزت کرتے ہوں اور جن پر اعتماد کرتے ہوں اور جب وہ خلیفہ کا انتخاب کریں تو انکا عمومی اعتراض نہ کریں۔
خلیفہ کے انتخاب کے دوران ارباب حل و عقد کو اختلاف کرنے کی آزادی حاصل ہو جس کی مثال سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے اختلاف سے معلوم ہوتا ہے اور عوام کو بھی یہ حق حاصل ہو کہ وہ منتخب خلیفہ سے اتفاق نہ بھی کریں۔
خلیفہ کے بیعت کی تقریب میں کسی کو غیر جانبدار رہنے یا اس میں شرکت نہ کرنے کی اجازت حاصل ہو۔ بیعت جبرا اور قہرا نہیں ہونی چاہیے۔اس کا مظاہرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا جو خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے اگلے دن عمومی بیعت کی تقریب میں شامل نہیں تھے اور تقریباً چھ مہینے تک بیعت نہیں کی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی وفات سے پہلے دو ہفتے تک بیمار رہے تھے۔جب آپ کو معلوم ہوا کہ میری موت قریب ہے تو وہ فکر مند ہوئے کہ ان کے بعد کون خلافت کا منصب سنبھالے گا۔بہت غور و فکر کے بعد حضرت عمرؓ کا نام ان کے ذہن میں آیا تو انہوں نے اس بارے میں صحابہ کرامؓ کی رائے جاننا چاہی۔جواب میں بعض صحابہ نے بتایا کہ حضرت عمرؓ کے مزاج میں سختی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ خلافت کا بوجھ جب پڑے گا تو سختی جاتی رہے گی۔جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو طلحہ ابن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سختی دیکھتے ہوئےاعتراض کیا۔(تاریخ طبری،ج۔3۔433)
حضرت طلحہ ابن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خلیفہ رسول ﷺ اللہ کو کیا منھ دکھائیں گے کہ رئییت کو کس کے حوالے کیا ہے؟
عمر آپ کے سامنے بھی ہم پر سختی کرتا ہے،جب ہمارا معاملہ اس کے سپرد ہوگا تو نا جانے کیا کرے گا؟
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قریب میں سیدنا عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ تھے آپ نے کہا عبد الرحمن مجھے بٹھاؤ۔آپ نے سیدنا طلحہ ابن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو کہ میں نامراد مروں؟
میں اللہ سے کہوں گا کہ تیرے بندوں میں سے سب سے نیک بندے کو منتخب کیا ہے،وہ سخت اس لیے ہے کہ وہ خود راہ راست پر ہے اور لوگوں راہ راست پر قائم اور دائم دیکھناچاہتا ہے۔پھرابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے عام نمازیوں اور اس کے بعد اہل الرائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا ان سب کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام پر اجماع ہو گیا تب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے مجمع کے سامنے ایک تقریر کی اور کہا کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو تمہارا حاکم مقرر کرتا ہوں۔میں نے اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا بلکہ اس شخص کو بنایا ہے جو تم میں سے بہترین ہے۔پھر انہوں نے مجمع کی عام رائے طلب کیں۔پھر تمام لوگوں نے خلافت کے منصب کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام کی تائید کی۔
خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نامزدگی کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ طریقہ اس صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے کہ جب جس شخص کو نامزد کیا گیا ہو وہ باکردار اور حسن اخلاق والا ہو اور وہ ہر دل عزیز ہو اور جس کے انتخاب پر مشکل سے اعتراض کیا جا سکے۔اس پر کوئی بھی صاف دل سے اختلاف کرسکتا ہے،اور اختلاف رائے کو جاننا اور اس کی اصلاح کرنا ہر امیر کا فرض ہونا چاہئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت ہی عظیم اخلاق اور باکردار شخص ہیں۔جو بھی کردار ایک خلیفہ میں ہونے چاہیے اسی سیرت اور کردار کے حامل تھے۔اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی پر اصحاب الراے صحابہ کرام اور بعد میں عام مسلمانوں کی تایید حاصل کی گئی۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب:خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری ایام میں آپ سے کہا گیا کہ وہ اپنا جانشین چنیں۔آپ کے پاس جانشین کے انتخاب کے دو راستے تھے،ایک جانشین کا انتخاب نامزدگی کے ذریعے کرنا اور اس کی توثیق اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے اصحاب سے حاصل کرنا،جس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا،دوسرا طریقہ یہ تھا کہ جانشین کا انتخاب صحابہ کے ہاتھ میں چھوڑ دیا جائے جیسا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نامزدگی کے طریقہ کو ترجیح دیتے اگر ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ یا ابو حذیفہ کا غلام سالم رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو خلافت کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کا مشورہ دیا گیا تو انہوں نے اس خیال کو یکسر مسترد کر دیا۔آخر کار خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ اگلا خلیفہ رسول اللہ ﷺ کے چھ صحابہ میں سے کسی ایک کو چنا جائے یعنی (1) حضرت علی (2) حضرت عثمان (3) حضرت زبیر (4) حضرت طلحہ (5) حضرت سعد اور (6) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضوان اللہ علیھم اجمعین۔
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کی تدفین کے بعد ان چھ افراد کو ایک گھر میں جمع کیا جائے اور انہیں حکم دیا جائے کہ وہ تین دن کے اندر اتفاق رائے سے یا کثرت رائے سے خلیفہ کا انتخاب کریں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مزید ہدایت کی کہ ان کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ بحث میں شریک ہوں سکتے ہیں لیکن انہیں کسی صورت خلیفہ نا منتخب کیا جائے اور جو شخص خلیفہ کے انتخاب کے سلسلے میں مجلس عاملہ کے اجماع یا اکثریتی فیصلہ سے متفق نہ ہو اور امت میں انتشار پیداکرنے کی کوشش کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔
خلافت کے عہدہ کے لیے امیدواروں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے چھ صحابہ کی کونسل نے فیصلہ کیا کہ ہر رکن دوسرے کے حق میں خلافت کے عہدے کے لیے اپنی امیدواری سے دستبردار ہو جائے۔اس طریقہ پر عمل کرتے ہوئے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نام تجویز کیا لیکن انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا نام حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تجویز کیا اس طرح خلافت کے منصب کے لیے صرف دو افراد رہ گئے۔اب عبدالرحمٰن بن عوف کو حضرت عثمان اور حضرت علی دونوں نے یہ فیصلہ کرنے کی ذمہ داری سونپی کہ اگلا کون ہوگا،عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے دونوں سے سوال کیا کہ کیا اپنے اکابرین(سیدناابوبکرصدیقاور سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہما) کی اتباع کریں گے؟
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں،لیکن مولی علی کرم اللہ وجہ نے کہا کہ میں کتاب و سنت اور حالات کے مطابق فیصلہ کروں گا۔
اس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے لوگوں کی اکثریت سے ان کی رائے دریافت کی تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نام کی تائید کی۔اس کے بعد عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ مسلمانوں کی اکثریت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پسند کرتی ہے۔ان کے خطاب کے بعد انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلیفہ کے طور پر بیعت کی۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے چلے اور ان کے بعد مسجد میں عام حلف برداری کا آغاز ہوا۔اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ منتخب ہوئے۔خلیفہ عثمان کے انتخاب کے پورے عمل میں ہمیں ایک ہی خصوصیت نظر آتی ہے اور وہ ہے صحابہ کرام کی آراء اور عام مسلمانوں کی منظوری حاصل کرنا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ تخت خلافت پر فائز ہوئے،لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بطورِ خلیفہ کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا،جب مقدس شہر مدینہ میں ایک سنجیدہ اور بدتر صورت حال قائم ہو گئی تھی،مقدس شہر میں بدامنی اور افراتفری کا ماحول تھا۔یہ شہر باغیوں کی گرفت میں تھا جنہوں نے خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا،فسادیوں نے مسجد نبوی پر قبضہ کر لیا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔لوگ خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدلہ لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد خلافت کا تخت تین دن تک خالی پڑا رہا۔چنانچہ مہاجرین و انصار میں سے چند اکابر صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے خلافت کا عہدہ سنبھالنے پر پر اصرار کیا۔ابتدا میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلافت کی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کیا لیکن بعد میں انہوں نے محسوس کیا کہ اس سنگین صورتحال میں اگر وہ خلافت کا عہدہ قبول نہ کریں گے تو فساد مزید پھیلنے اور بہت زیادہ خون بہنے کا امکان ہے۔اس لیے امت کے مفاد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آخرکار اس پیشکش کو قبول کر لیا اور مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ بن گئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب اس اتفاق رائے سے نہیں ہو سکا تھا،جس طرح پچھلے تینوں خلفاء کا انتخاب ہوا تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو پوری امت مسلمہ نے منظور اور تسلیم نہیں کیا۔شام کے گورنر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی۔رسول اللہ ﷺ وسلم کے صحابہ کا ایک گروہ جس میں عبداللہ بن عمر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما شامل تھے غیر جانبدار رہے۔ان کا خیال تھا کہ اس طرح کے خلفشار کے صورت حال میں ہم کسی کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ایک اور گروہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی حمایت نہیں کی کیونکہ ان کے خیال میں خلیفہ عثمان کو قتل کرنے والوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا تھا۔حضرت علی کو دو الگ الگ حزب اختلاف کی قوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک گروپ اماں عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا،سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی سربراہی میں مکہ میں ایک خلیفہ مقرر کرنے کے لیے خلافت کے پرانے روش کا انعقاد کرنا چاہتا تھا اور دوسرا گروپ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ایک اور گروپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلے کے بہانے مولی علی کرم اللہ وجہ سے جنگ کا طالب تھا۔خلافت کے چار ماہ بعد،حضرت علی نے جنگ جمل میں پہلے گروپ کو شکست دی،لیکن معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفین کی لڑائی عسکری طور پر ختم ہوگئی اور یہ فیصلہ علی کے خلاف سیاسی طور پر ختم ہوا۔پھر،سن 38 ہجری میں، مولی علی کی فوج کے ایک حصے، جنہیں خوارج کہا جاتا ہے، جو ان کے اس حکمیت(ثالثی) کی قبولیت کو بدعت سمجھتے تھے ،مولی علی کرم اللہ وجہ کے خلاف بغاوت کی۔حضرت علی نے انھیں نہروان میں شکست دی۔
مولی علی کرم اللہ وجہ اپنے اسلامی فرائض سے بخوبی واقف تھے اور وہ شریعت اسلام کے تحفظ کے لیے حق پر مصلحت کو مقدم کرنے پر راضی نہ تھے۔یہاں تک کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اسلامی شعائر کے مخالفین سے لڑنے کے لیے بھی تیار تھے،مولی علی کرم اللہ وجہ نے امیر معاویہ و سیدنا عمرو عاص رضی اللہ عنہما جیسی سیاسی فریب اور ہوشیار موقع پرستی کے نئے کھیل میں حصہ لینے سے انکار کردیا،جو اسلامی ریاست میں امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جڑ پکڑ چکی تھی،اگرچہ انھیں سیاسی زندگی میں سازش کے تحت کامیابی سے محروم کر دیا گیا،لیکن انھوں نے سب کچھ لٹا کر بھی اسلامی شعائر قائم رکھی،نبی آخر الزماں ﷺ کے Universal Great Brotherhoodکے عظیم مہم کو ختم ہونے نہیں دیا۔
ززز


